زیادہ آبادی: زحمت یا رحمت؟

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ کسی ملک کی ترقی میں کثرت آبادی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ اگر اس مفروضے کا بغور جائزہ لیا جائے تو حقیقت کچھ اور ہی منظر پیش کرتی ہے۔ کسی معاشرے یا ریاست کی ترقی میں افرادی قوت کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ اب یہ وہاں کی ارباب اختیار اور صاحب اقتدار قوتوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ آبادی کو اس ملک کے لیے رحمت بناتے ہیں یا زحمت۔
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ ملک میں افراد کو مفید، فعال اور خوش حال شہری بننے کے لیے کیا تمام سہولیات اور مواقع بہم میسر کیے جا رہے ہیں یا پھر ان کو چور، ڈاکو، نشئی اور مجرم بنانے کے لیے راہیں ہموار کی جا رہی ہیں؟
دیکھا جائے تو پاکستانی قوم میں کسی بھی شعبہ زندگی میں قابلیت اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ کمی ہے تو سرکاری سرپرستی کی، اہل اقتدار و اختیار کی فہم و فراست اور اہلیت کی، دوراندیشی، ملی جذبے، ایمان داری اور دیانت داری کی۔
پاکستان میں بہت سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نامساعد حالات اور غیر یقینی صورت حال کے باوجود بھی اپنے ملک اور قوم کی نیک نامی اور ترقی کے لیے ہمہ وقت سر گرم عمل نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال ناروے میں ہونے والے حالیہ فٹ بال ٹورنامنٹ (ناروے کپ) میں پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ فٹبال ٹیم کا فائنل میں پہنچنا ہے۔ ناروے کپ دنیا میں فٹبال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کا آغاز سنہ 1972 میں ہوا اور ہر سال اس کا انعقاد 31 ویں ہفتے میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں کیا جاتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے عمر کی حد 10 سے 19 سال تک مقرر کی گئی ہے۔ اس سال ناروے کپ میں دنیا کے 30 مختلف ممالک کی 2350 ٹیموں نے حصہ لیا۔ جن میں ایک ٹیم پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ پر مشتمل تھی۔ اس ٹیم نے انڈر 17 کی کیٹگری میں حصہ لیا۔
پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم نے اس سال چوتھی بار ناروے کپ میں حصہ لیا ہے۔ پہلی دفعہ سنہ 2014 میں پاکستان کے لیے نیک خواہشات اور درد دل رکھنے والی پاکستانی نژاد ڈاکٹر ٹینا شگفتہ نے اپنے رفقا سے مل کر اپنی مدد آپ کے تحت پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ فٹبال ٹیم کو ناروے کپ کھیلنے کے لیے مدعو کیا اور آئندہ کے لیے راہیں ہموار کیں۔ اس سال ٹیم کے کھلاڑیوں کا انتخاب اوپن ٹرائل کے ذریعے پاکستان میں کام کرنے والی ایک رفاہی تنظیم مسلم ہینڈز نے کیا۔ یہ ٹیم پاکستان کے دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے غریب اور پس ماندہ مگر پر عزم اور پر جوش نوجوانوں پر مشتمل تھی۔
جب یہ ٹیم ناروے کی سرزمین پر اتری تو ناروے میں بسنے والے پاکستانیوں اور سفارت خانہ پاکستان نے ملی جذبے کے تحت ان کا والہانہ استقبال کیا۔ ان کے قیام و طعام سے لے کر ان کو زندگی کی ہر سہولت بہم پہنچانے کے لیے نارویجن پاکستانی ہر دم پیش پیش رہے۔ ناروے کے اوورسیز پاکستانی اپنے آبائی وطن سے بے لاگ اور غیر مشروط محبت کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اسٹریٹ چائلڈ ٹیم کو ناروے میں دیکھ کر پاکستان کے اداروں اور ائرپورٹس پر اپنی جامہ تلاشی اور ناروا سلوک بھی بھول گئے۔ اسٹریٹ چائلڈ ٹیم کے کھلاڑی جو پھٹے، پرانے جوتوں اور کپڑوں میں ملبوس، بلند عزم اور حوصلے لیے ناروے کپ کھیلنے آئے تھے۔ ناروے میں بسنے والے پاکستانیوں کے پرخلوص رویوں نے ان کے اس عزم اور حوصلوں کو مزید تقویت بخشی۔ انھوں نے دیگر انتظامات کے علاوہ ان کو فٹ بال کھیلنے والے نئے جوتے اور کپڑے بھی خرید کر دیے۔ پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم، ناروے کپ کے مسلسل سات میچ جیت کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچ گئی۔ ٹیم نے فائنل میں جاں فشانی اور استقلال سے مقابلہ کیا اور بدقسمتی سے ایک پینلٹی سے ہار گئی۔
اس ٹیم کا مقابلہ ان ٹیموں سے تھا جن کے نوجوانوں کو سرکاری سرپرستی اور دنیا کی ہر آسائش اور سہولت میسر ہوتی ہے۔ پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم کا اس بے سروسامانی کے عالم میں فائنل میں پہنچنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ فائنل میچ میں ان کی یہ ہار بھی سو جیت پر بھاری ہے۔ پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم کے کھلاڑیوں نے وسائل اور مواقع نہ ہونے کے باوجود اپنے جواں جذبوں، محنت، ناقابل شکست عزم و ہمت اور طرز عمل سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پاکستانی نوجوان اور قوم کسی لحاظ سے بھی کسی دوسری قوم سے کم نہیں ہے۔
ضرورت فقط اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ارباب اختیار انتقامی سیاست اور ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے، ایسے اقدامات عمل میں لائیں جو پاکستانی عوام اور نوجوانوں کی بہتری، بھلائی، ترقی اور کام یابی کے ضامن ہوں۔ پاکستان کی پاک اور زرخیز سرزمین کو بار آور کرنے کے لیے بہت زیادہ تگ و دو کی ضرورت نہیں ہے اس کے لیے تو ذرا سا نم بھی کافی ہے۔

