انفلوئنسر مارکیٹنگ کی نئی لہر
حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی فیلڈ میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے جو کہ اِنفلوئنسر مارکیٹنگ ہے اور اب اِنفلوئنسر مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ پہلے اِنفلوئنسر مارکیٹنگ کو ایک خاص تکنیک کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن اب یہ تقریباً تمام معروف برینڈز اور کارپوریشنز کے لیے بنیادی مارکیٹنگ کی حکمت عملی بن گئی ہے جو اس تکنیک کے ذریعے اپنی پہنچ و رسائی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ جیسے جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں جِدت آئی اور یہ ہر طرف بلا تفریق پھیل گئے، تو اس کے ساتھ ساتھ ہی اِنفلوئنسر مارکیٹنگ کی مقبولیت بھی بڑھتی چلی گئی اور اب اِنفلوئنسر نے کمپنیوں کے ساتھ مل کر پراڈکٹس اور سروسز کو زیادہ اچھے طریقوں سے آگے بڑھانے کے لیے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اِنفلوئنسر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے سوشل میڈیا پر مداحوں کی کافی تعداد ہوتی ہے اور ان فالوورز کی رائے پر اِنفلوئنسر کا نمایاں اَثر ہوتا ہے۔ اِنفلوئنسر مارکیٹنگ اب روایتی اشتہارات کا ایک طاقتور متبادل بن گئی ہے کیونکہ روایتی اشتہارات کا واضح اثر اب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔
پُر اثر، نمایاں اور مستند ہونا، اِنفلوئنسر مارکیٹنگ کی اصل کامیابی ہے۔ مختلف طریقوں، ویڈیوز اور متعلقہ معلومات کے ذریعے، اِنفلوئنسر اپنے مداحوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرتے ہیں اور ان کا اعتماد جیتتے ہیں جس کے بعد اِنفلوئنسر کو صارفین کے کسی پراڈکٹ کی خریداری کے فیصلوں پر کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ لوگ ان کی بات کو اشتہار نہیں بلکہ ایک تجربے، مشاہدے یا مشورے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اِنفلوئنسر اور ان کے مداحوں کے درمیان جذباتی تعلق، برینڈ اور پراڈکٹ کے مستند ہو نے کے تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے اور لوگ اسے زیادہ سے زیادہ خریدتے ہیں۔ اِنفلوئنسر مارکیٹنگ کے کانٹینٹ کی سب سے مشہور قسم ویڈیو ہے۔ اِنفلوئنسر اب اکثر پراڈکٹس کی تشہیر، تجزیے کرنے اور اسے دلچسپ انداز میں پیش کرنے کے لیے یوٹیوب، انسٹا گرام، ٹک ٹاک اور فیس بک جیسی سائٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ پراڈکٹس کو متاثر کن انداز میں بیان کر کے اِنفلوئنسر دراصل اپنے دیکھنے والوں کو ذہنی اور جذباتی طور پر ابھارتے ہیں تاکہ وہ اس پراڈکٹ کو دوستوں اور رشتہ داروں سمیت خود بھی خریدنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے پہلے شاہ رخ خان ٹی وی پر کسی اشتہار میں ایک گھڑی پہنے ہوئے نظر آتے تھے تو لوگ بھی وہی گھڑی خریدنا چاہتے تھے لیکن اب یوں سمجھ لیں جیسے شاہ رخ خان خود اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بنا کر ڈالیں جس میں وہ کوئی پراڈکٹ استعمال کرتے دکھائی دیں، وہ اس کا ریویو بھی دیں اور لوگوں کو وہ پراڈکٹ خریدنے پر بھی ابھاریں۔
برینڈز عموماً اپنی کیمپین کے لئے سوشل میڈیا اینالیٹکس کا استعمال کرتے ہوئے اپنی پراڈکٹ کے حساب سے مناسب اِنفلوئنسر کو تلاش کرتے ہیں، جس میں ڈیموگرافکس، لوگوں کی تعداد، دلچسپی اور اس سے حاصل ہونے والے فائدے کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور اس کے لیے دیگر جدید ٹیکنالوجیز اور پلیٹ فارمز کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ برینڈز اب ایسے اِنفلوئنسر کے ساتھ مستقل بنیادوں پر مل کر بھی کام کر رہے ہیں جن کے ساتھ ان کی ذہنی ہم آہنگی ہو، ان کی پراڈکٹس اس اِنفلوئنسر پر جچتی بھی ہوں اور وہ ان کی پراڈکٹس کی مارکیٹنگ بنا کسی رکاوٹ کے ایک مربوط انداز میں کر سکے۔
ایک اور اہم بات یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ اب اِنفلوئنسر مارکیٹنگ صرف صارفین کی روزمرہ استعمال کی اشیاء اور لائف اسٹائل کی پراڈکٹس تک محدود نہیں رہی بلکہ اس سے نکل کر کچھ مخصوص فیلڈز میں بھی داخل ہو گئی ہے جیسا کہ بینکنگ، ہسپتال اور تعلیمی ادارے، وغیرہ۔ اِنفلوئنسر مارکیٹنگ کی تیز رفتار ترقی کے باوجود اس کو کچھ مسائل کا بھی سامنا ہے، مثلاً جعلی اِنفلوئنسر جو صرف آن لائن پیڈ اشتہارات کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کیے ہوئے ہیں اور وہ مختلف غیر معیاری اشیاء کے لئے جعلی ریویو بھی فراہم کرتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دینے میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس ڈیجیٹل دور میں کمپنیوں کا اپنے صارفین کے ساتھ بات چیت اور رابطے کا طریقہ اِنفلوئنسر مارکیٹنگ کے نتیجے میں بدل گیا ہے اور یہ اپنی مخصوص تکنیک اور لوگوں کی رائے پر واضح اثرات رکھنے کی وجہ سے موجودہ دور کی مارکیٹنگ کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔ اس لیے اس کی اہمیت کے پیشِ نظر اس طرح کے مسائل کے سلسلے میں کمپنیوں اور مستند اِنفلوئنسر کو ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

