ایک دن کی روشنی اور 364 دن کا اندھیرا


7 اگست کی رات اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ مرکز میں میری بیٹی کو گھر کے ایک کام کے سلسلے میں جانا ہوا۔ واپسی پر جب وہ گھر میں پریشانی کے عالم میں داخل ہوئی اور گھر والوں نے اس کے چہرے کی پریشانی دیکھ کر وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ مرکز میں گاڑیوں اور خریداروں کا معمول کا رش تھا۔ اور ہمیشہ کی طرح ڈھیروں کے حساب سے خواتین، بچے، بوڑھے اور خواجہ سرا، خریداری کی غرض سے آنے والے صارفین سے مانگنے میں مصروف تھے۔ اسی اثناء میں اچانک ایک بچی جس کی عمر تقریباً دس برس کے لگ بھگ ہو گی، اچانک ایک گاڑی کی جانب بھاگتے ہوئے سڑک پر آئی اور دوسری جانب سے آنے والے موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔ گو کہ موٹرسائیکل کی رفتار زیادہ تیز نہیں تھی تاہم اس بچی کو کافی چوٹ آئی اور اس کے چہرے سے خون بھی بہنے لگا۔ اس اچانک حادثے کے لئے موٹر سائیکل سوار بالکل تیار نہیں تھا کیونکہ بچی چھوٹی ہونے کے باعث پارکنگ میں موجود گاڑی کے پیچھے سے اچانک ایک آنے والی گاڑی کے تعاقب میں بھاگ پڑی تھی جس کو اتنے زیادہ رش اور دائیں بائیں سے گزرتی گاڑیوں کے باعث دیکھ پانا تقریباً نا ممکن تھا۔

بیٹی نے بتایا کہ موقعہ پر موجود افراد فوری طور پر بچی کو قریبی کلینک لے گئے۔ چونکہ موٹرسائیکل سوار کو بہت سے افراد نے ٹریفک قوانین کے مطابق مناسب رفتار اور سڑک کی صحیح جانب سے آتے ہوئے دیکھا تھا اس لئے اسے بھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ورنہ عام حالات میں یہ جانے بغیر کے غلطی کس کی ہے، موقعہ پر موجود افراد سب سے پہلے گاڑی یا موٹر سائیکل پر سوار شخص یا عورت کو ہی قصور وار ٹھہراتے ہیں۔

بیٹی کے جانے کے بعد ایک بات جو مسلسل بے چین کرتی رہی، اسے میں آج ”ہم سب“ کے قارئین کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ گو کہ شہری سڑکوں اور مارکیٹوں میں بھیک مانگتے افراد سے مختلف وجوہات کی وجہ سے اکثر نالاں ہی رہتے ہیں۔ اور اکثر یہ وجوہات بے وجہ نہیں بھی ہوتیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بھیک مانگتے بیشتر افراد پیشہ ور ہیں اور اکثر جرائم پیشہ افراد بھی اس کام میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ ان سب وجوہات کے باوجود میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ایک دس سال کی بچی جو میری چھوٹی بیٹی سے دو یا تین سال ہی چھوٹی ہو گی کا کیا قصور ہو سکتا ہے؟

یہ کہ اس معصوم کی پیدائش ایک ایسے گھر میں ہوئی جہاں بھیک مانگنا ایک پیشہ تھا اور اسے بھی اس ننھی عمر میں صحیح یا غلط کا تعین نہ کر پانے کے باعث اس پیشہ کا حصہ بننا پڑا؟
یہ کہ وہ کسی شدید مجبوری کی وجہ سے بھیک مانگنے پر مجبور ہے؟
خدانخواستہ یہ کہ وہ کسی بھکاری گروہ کے قبضے میں ہے اور زبردستی اس سے بھیک منگوائی جا رہی ہے؟

ان میں سے کوئی بھی وجہ ہے، وہ ننھی سے جان تمام دن کتنے خطرات سے دوچار رہتی ہو گی۔ گزرتی گاڑیوں سے ٹکرا جانے کا خطرہ، کسی بدنیت شخص سے پہنچ سکنے والی تکلیف کا خطرہ، ممکنہ طور پر تمام دن موسم کی سختیوں کی تکلیف، بھوک اور تمام دن لوگوں کی دھتکار اس کے ننھے سے دل کو کسی کرب سے دوچار کرتی ہوگی۔

ان میں کس وجہ اور حالات کے لئے اس چھوٹی سی بچی کو قصور وار ٹھہرائیں۔ یقیناً قارئین اس معاشرتی مسئلے کے بارے میں مختلف رائے رکھیں گے۔ لیکن میری ادنیٰ رائے میں قصور ریاست کا ہے اور اس کے اداروں کا۔ یہ ملک جس مذہب کے نام پر بنایا گیا، اس میں جس آئین کا اطلاق ہے اور جو قوانین رائج ہیں، سب ہی اس بچی اور اس جیسے ہزاروں بچوں کو بنیادی انسانی حقوق بشمول چھت، خوراک، تعلیم اور صحت تک با آسانی رسائی کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔

یہ واقعہ پاکستان کے دارالحکومت کے ایک اہم سیکٹر کا ہے جہاں پولیس اور شہری انتظامیہ سڑکوں پر گاڑیوں کے پیچھے بھاگتے ان ننھے بچوں کے موجودگی سے لا علم اور ان بچوں اور سڑکوں پر موجود گاڑیوں کو تحفظ دینے سے قاصر ہیں تو ملک کے باقی علاقوں میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

سال میں ایک مرتبہ تو بچوں کے عالمی دن کے موقعہ پر تمام ادارے بشمول بچوں کے حقوق کی عالمی تنظیمیں، مقامی سول سوسائٹی تنظیمیں، حکومتی ادارے اور میڈیا بچوں کے مسائل پر کافی بات کرتے ہیں۔ گو کہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں ہونے والے ان تقریبات سے نہ تو ائر کنڈیشنز کی ٹھنڈی ہوا ان بچوں کو باہر کی جھلستی گرمی سے بچا پاتی ہے اور نہ ان تقریبات میں پیش کیا جانے والے کھانا ان معصوموں کے پیٹ کے آگ بجھانے سڑکوں تک آ پاتا ہے۔ بس اس ایک دن ان بچوں کو معمولی سے روشنی دکھائی جاتی ہے کہ ہم آپ کے لئے کچھ کرنے والے ہیں۔ پھر وہ دن گزر جاتا ہے۔ ان تقریبات میں شرکت کرنے والے تمام افراد اپنی اپنی زندگیوں میں واپس چلے جاتے ہیں اور ان بچوں کی زندگیاں سال کے باقی 364 دن پھر سے اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہیں۔

میری ریاست پاکستان کے متعلقہ اداروں، اقتدار کے ٹھنڈے اور آرام دہ ایوانوں میں موجود سیاسی نمائندوں اور خاص طور پر اسلام آباد کی پولیس اور شہری انتظامیہ سے گزارش ہے کہ خدارا ان بچوں کے حفاظت اور ایک اچھے مستقبل کے لئے مستقل بنیادوں پر کوئی حل تلاش کریں۔ یہ حالات کی سختیوں کا شکار سڑکوں پر بھٹکتے بچے اس ریاست اور ہم سب کے احساسِ ذمہ داری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔

Facebook Comments HS