ملکی تاریخ کے ایک اور جمہوری دور کا اختتام۔ کیا جمہوریت آ گئی؟
ملکی تاریخ میں جمہوری حکومت کا ایک اور باب اختتام پذیر ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ نگراں وزیراعظم بیوروکریٹ ہو گا یا سیاست دان؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر آج پھر ایک عرصے بعد ملک میں انتخابات کا چرچا ہو رہا ہے، آج نہیں تو کل کبھی نا کبھی پھر انتخابات کا دنگل سجے گا، عوام انتخابات کا شور سنتے سنتے آج پھر یہ سوچ رہے ہیں۔ کیا پھر نئی جمہوریت آ نے والی ہے۔ ؟ کہا جاتا ہے کہ جمہوری ملکوں میں عوام ہی حکمران ہوتے ہیں، مگر پاکستان کو بنے پونے صدی کا عرصہ بیت چکا ہے، مگر عوام کا حال یہ ہے کہ نہ خدا ہی ملا۔ نہ وصال صنم۔ نہ ادھر کے رہے۔ نہ ادھر کے رہے ہم۔
نئے انتخابات سے قبل ایک بار پھر بڑے بڑے وعدوں اور دعوؤں کا دور چلے گا۔ پھر زمین پر چاند تارے توڑ لانے کی قسمیں سیاستدان کھائیں گی۔ پھر روٹی کپڑا مکان کی صدائیں گونجیں گی۔ پھر ووٹ کو عزت دو سے عوام کو عزت دو تک کے دلاسے دیے جائیں گے۔ پھر نئے پاکستان کے نئے دور کے آغاز کا خواب دکھایا جائے گا، کوئی دین کے نام پر دنیا سے ووٹ مانگے گا۔ تو کوئی دنیا کو دین بنانے کے لئے ووٹ مانگے گا۔
مگر 75 سال بعد عوام کا سوال اب بھی یہی ہے آخر ہمارے مسائل کب اور کون حل کرے گا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ڈی ایم حکومت نے اپنی آخری اننگز میں معیشت کو بہتر بنانے کے لئے بہت اچھے اور مثبت فیصلے کیے مگر اس کے باوجود عوام کا سوال یہ ہے کہ 16 ماہ کے دور اقتدار میں ہمیں کتنا ریلیف ملا؟ 16 ماہ قبل جو قیمتیں ڈالر، پیٹرول اور دیگر ضروری اشیا کی تھیں وہ آج 80 سے 100 فیصد تک کیوں مہنگی ہو گئیں۔ ؟ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں کل بڑے معنی خیز الفاظ کہہ کر دریا کو کوزے میں بند کر دیا کہ:لگتا ہے ہمارے بڑوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جو تیس سال انہوں نے سیاست بھگتی ہے ویسے ہی ہم بھی کریں نوجوان ہماری روایتی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں، نوجوان اب کسی پر بھروسا نہیں کرتے، ایسا رویہ رکھیں جس سے نوجوانوں کی امید برقرار رہے۔
سوال یہ ہے کہ۔ کیا آنے والا وقت سیاسی چہروں کے بجائے ملک کے نظام میں تبدیلی لا سکے گا؟ کیا عوام کی امیدیں عوامی امنگیں پوری ہو سکیں گی؟ کیا انتخابات سے قبل محض انتخابی تیاریاں کی جائیں یا پھر جمہور کی خدمت سے وابستہ ہر حلقے کو سوچنا ہو گا کہ حق حکمرانی کی کھینچا تانی میں کہیں جمہور کا ریاست اور نظام پہ رہا سہا اعتبار بھی ختم نہ ہو جائے۔ ؟


