یہ حکم رواں تمہارے لیے
دل مسکرائیں آنکھ روشن رہے۔ دنیا میں خوشی پھیلے، ترنگیں گیت گاتی رہیں اور آپ سب پر سلامتی ہو۔
جب سے دنیا بنی ہے اور ابن آدم دھرتی پر آئے ہیں، خوشی اور غم ساتھ ساتھ ہیں۔ یاد رکھیے یہ دونوں دوست ہیں اور کبھی بچھڑ نہیں سکتے۔
آپ جانتے ہیں ہم خاکی مخلوق ہیں، مٹی کے بیٹے بیٹیاں ہیں، ہمارا وجود مادی ہے، مادے سے بنا ہے یہ تو ہر کوئی ہمیں بتاتا ہے بشمول سائنس۔ اور ہم پیدا ہونے کے چار سال بعد سے یہی سنتے آ رہے ہیں کہ تم مادہ ہو۔ مادیت کے بغیر تمہارا وجود بے کار ہے، ہمیں بچپن سے ہی یہ باتیں گھٹی میں گھول کر پلائی جاتی ہیں، کھلونوں کے پیچھے بھاگنے سے لے کر اچھے اسکول اور کالجز میں داخلوں تک ہم دنیا اور دنیا داری ہی سیکھتے چلے جاتے ہیں اور ایک دن ہمیں لگتا ہے کہ اب بس خالی ہو گئے ہیں، خالی پن سا آ گیا ہے، کوئی خلاء ہے ہماری زندگی میں جو بھرنے کی بجائے گہرا ہوتا چلا جاتا ہے، دوستیاں، رشتے دار، مال اسباب، ہنسی، قہقہے، پیسا، آسائشات سب دھواں بن کر تحلیل ہونے لگتے ہیں۔ پھر ہم میں سے بہت تو خدا سے ناراض ہو جاتے ہیں، کچھ خوش نصیب دوستوں کی کی مہربانی سے لوٹ بھی آتے ہیں، کچھ ہونے اور نہ ہونے کے درمیان لٹکتے رہ جاتے ہیں سود و زیاں سے بے نیاز اور اپنے وجود سے بے خبر!
کبھی آپ نے سوچا کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہم سب ایسے نہیں ہیں، ہم میں بہت زیادہ مذہبی لوگ بھی ہیں، صوم و صلوٰۃ کے پابند، صدقات و خیرات کے حاتم طائی، کچھ پکے دنیا دار بھی، کچھ متشکک، چند ملحد، بہت سے مذہبی۔ یہ سب اپنی اپنی جگہوں پر اپنی دنیا کی تلاش میں ہیں لیکن اس بات سے انجان ہیں کہ دراصل یہ ایک ہی منزل کے مسافر ہیں اور الگ راستوں پر بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔
آپ جس بھی عقیدے اور نظریے کے حامی ہوں اور چاہے کسی بھی نظریے کے حامی نہ ہوں۔ روح سے تو واقف ہی ہوں گے۔ سائنس، مادے اور روح کا گہرا رشتہ ہے۔ دیکھیے ہم بگ بینگ سے جنمے ہیں ایک بہت بڑے حادثے کی پیداوار۔ اور ہماری گلیکسی اور اس سے بھی باہر جتنی بھی دنیائیں ہیں جہاں تک ہماری نگاہ پہنچ رہی ہے اور جہاں نہیں پہنچ رہی یہ ڈیوائن باڈیز۔ شمس و قمر اور پورا سولر سسٹم مادے اور انرجی کے ملاپ سے تشکیل پایا ہے۔ ایسے ہی ہم بھی مادے اور انرجی کا تال میل ہیں۔ ہمارا بدن مادہ ہے اور روح انرجی ہے۔ آج کے دن تک ہم نے صرف اوپر ہی اوپر کام کیا ہے۔ ایک عنصر کو مضبوط کرتے آ رہے ہیں۔ دوسرے کو یکسر نظر انداز کر چکے ہیں۔
فزکس اور سائنس کا اصول ہے ایٹم، اور مالیکیولز جس بھی عنصر کے ہوں ان کی ایک ڈیوائن اور جینیٹک ترتیب ہوتی ہے اور اسی ترتیب کے سنورنے سے کسی بھی عنصر کی تشکیل ہوتی ہے۔ یہی توازن کا اصول ہے۔ ہمارے بدن اور روح میں یہی ترتیب کارفرما ہے۔
اب یہ کیا ہے؟ منفیت کیا ہے اور مثبتیت کیا ہے؟
قدیم طب کے مطابق انسان عناصر خمسہ سے وجود پایا ہے۔ یہ ویدک نظریہ ہے، یونانی طب کا نظریہ انسانی تشکیل کو عناصر اربعہ کے ملاپ کا نتیجہ بتاتا ہے لیکن میرے نزدیک طب یونانی کا یقین نظریہ ادھورا ہے۔ کیونکہ انسان محض آگ ہوا، مٹی اور پانی کا مجموعہ نہیں ہے۔ انسان کے اندر ایک پانچواں تتو (عنصر) بھی موجود ہے اور وہ ہے آکاش تتو۔ جسے مشتری سے نسبت ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بات کر چکے ہیں کہ ڈیوائن باڈیز اور ہم ایک ہی انرجی اور مادے کے ملاپ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر ہم یہاں مذہبی نقطہ ء نظر کو تسلیم کریں تب بھی اس نظریے پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہمارے جد امجد کے بدن کو ملائک نے اسی زمین کی مٹی سے گوندھا تھا۔ اور پانچویں چیز جو پھونکی گئی وہ تھا ایتھر۔ آکاش یا روحی عنصر۔ جس کا وجود ہم نے بھلا دیا ہے۔
ہم نے کیا بھلا دیا ہے؟ کچھ نظر انداز سا ہو رہا ہے۔ بھلا کیا؟
ہم خود! ہماری روح۔
آپ اچھے کپڑے پہنتے ہیں، عمدہ پکوان کھاتے ہیں، نفیس گاڑیوں میں گھومتے ہیں، آپ کے پاس اعلی ترین رہائش گاہیں ہیں یا پھر اپنے اپنے دائرہ کار میں آپ ایک آسودہ یا نا آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی زندگی بسر کرنے کے بارے میں سوچا ہے؟
ویدک نجوم میں اصطلاح استعمال ہوتی ہے نکھشتر۔ نکھشتر ستاروں کے جھرمٹ کو کہتے ہیں۔ ہر برج میں اڑھائی نکھشتر آتے ہیں۔ ویدوں کے مطابق اس کائنات کی ابتدا اترا پھالگن نکھشتر سے ہوتی ہے۔ یہ پھالگن دراصل دیسی مہینے کا نام ہے پھاگن۔ اور یہ ربیع یعنی موسم بہار کا مہینہ ہے۔ آپ سوچیے کہ انرجی اور مادے کا میل موسم بہار میں ہی کیوں ممکن ہوا؟ اس لیے کہ اس موسم میں نہ سردی زیادہ ہوتی ہے اور نہ گرمی، یہ اعتدال اور توازن کا وقت ہے۔ یعنی انرجی اور مادے سے بننے والی ہر شے احسن تقویم پر تبھی رہ سکتی ہے جب وہ توازن میں رہے۔
ہم نے قدامت پرستی ترک کی اور جدید ہوئے۔ اور صرف ایک ہی موسم کا لطف اٹھاتے رہے اور اتنے کھوئے رہے کہ قطب شمالی کی منجمد ہواؤں میں ہمارے حواس صلب ہو گئے، آنکھیں اندھیروں سے اندھی ہو گئیں، ذہن نور سے خالی ہو گئے۔ اور صرف سرد خلاء رہ گیا۔ روح کی گرمی کو ہم نے برتنا ہی چھوڑ دیا۔
اب لوگ آسودہ حال ہوں یا غریب ہر ایک پاس فقط جسم اور اس کی ضروریات ہیں۔ جیسے اوشو کہتے ہیں کہ بدن کی لذتوں کو اتنا برت لیا جائے کہ وہ آسودگی میں تبدیل ہو جائیں پھر ہی انسان روحانیت سے لطف اندوز ہو سکے گا۔
اس بات میں کسی قدر سچائی ہے لیکن کتنی؟ دیکھیے ہمیشہ میٹھی چائے پینے والے کی چائے میں کبھی ایک نمک چٹکی ڈال دیجیے گا۔ وہ اسے الگ ہی لطف دے گا بس اتنی سچائی اس قول میں موجود ہے۔
ہماری پوری انرجی فیلڈ ایک منجمد قطب شمالی بن چکی ہے۔ اور ہم اپنی ضروریات، اپنی سچائیوں اور اپنے نظریات کے مقبروں میں قید ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں یہ موبائل ہے کبھی چوبیس گھنٹوں کے لیے اسے خود سے جدا کر کے دیکھیے۔ کر پائیں گے؟ بس یہی وہ سرد خلاء ہے جس نے ہمیں لمس، قربت، آزادی سے محروم کر دیا ہے۔ اور وہ روحی توانائی وہ آکاش تتو کمزور پڑ چکا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔
آئیے اپنی انرجی فیلڈز کو جگانے کا کام شروع کرتے ہیں تاکہ یہ دنیا، یہ شہر، یہ ملک پھر سے سچائی کے یگ میں داخل ہو جائے۔
جاری ہے۔

