سائفر پر سیاست کا سلسلہ بند کیا جائے
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ سے پاکستانی سفیر اسد مجید کے بھیجے گئے سائفر کے مندرجات درست رپورٹ ہوئے ہیں تو یہ بہت بڑا جرم ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ جرم کس سے سرزد ہوا ہے۔ البتہ شہباز شریف نے عمران خان پر سائفر کی نقل گم کرنے کے بہانے اسے اپنے پاس رکھنے کا الزام بھی لگایا۔ اسی دوران میں سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سائفر گم کرنے پر سابق وزیر اعظم کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ سال اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر عمران خان نے امریکہ سے آنے والے ایک سائفر کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ انہیں امریکی سازش کے نتیجہ میں اقتدار سے محروم کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس سائفر کے حوالے سے تمام تر سیاسی گرم جوشی اور تواتر سے دیے گئے الزامات اور جوابی الزامات کے باوجود کبھی اس کا متن سامنے نہیں آیا۔ سائفر ایسا سفارتی مراسلہ ہوتا ہے جس میں کسی ملک میں متعین سفیر وہاں کی حکومت سے روابط کے حوالے سے اپنی رائے سے وزارت خارجہ کو آگاہ کرتا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کے طور پر اسد مجید کی ملاقات امریکی وزارت خارجہ کے انڈر سیکرٹری ڈونلڈ لو کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو اور اس پر اپنی رائے پر مبنی ایک سائفر انہوں نے وزارت خارجہ کو روانہ کیا تھا۔ سائفر کو نہایت حساس اور خفیہ دستاویز سمجھا جاتا ہے اور عام طور سے چند اعلیٰ سول اور فوجی حکام کے علاوہ اس تک کسی کو رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ ان حکام میں وزیر خارجہ کے علاوہ، وزیر اعظم اور آرمی چیف شامل ہوتے ہیں۔
عام طور سے کسی سائفر کو خفیہ مباحث اور پالیسی سازی کے مقصد سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس پر نہ تو عام جلسوں میں گفتگو ہوتی ہے اور نہ ہی اسے میڈیا پر زیر بحث لایا جاتا ہے۔ البتہ عمران خان نے پہلے خود کو تحریک عدم اعتماد سے بچانے اور اقتدار سے محرومی کے بعد اس سائفر کو اپنے خلاف امریکی سازش کا ’ثبوت‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف سیاسی تبدیلی لانے والے عناصر امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے تھے۔ کسی پاکستانی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا حربہ خوب کامیاب ہوا اور عمران خان نے اس سے بہت سیاسی فائدہ اٹھایا۔ تاہم بعد ازاں جب وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ روابط استوار کرنے میں مکمل طور سے ناکام ہو گئے تو وہ اس سازش کا الزام فوجی قیادت پر بھی عائد کرتے رہے تھے۔ البتہ نو مئی کے بعد سیاسی مقاصد کے لئے تحریک انصاف نے سرگرمی سے امریکی حکومت اور کانگرس ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کی ہے۔ اسی دوران میں عمران خان نے سائفر کے حوالے سے اپنے پرانے موقف سے رجوع کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ ان کے خلاف امریکہ نے کوئی سازش نہیں کی تھی۔ انہیں غلط فہمی ہو گئی تھی۔
سائفر کے معاملہ پر قومی سلامتی کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے تھے۔ ایک اجلاس اس وقت ہوا جب عمران خان بدستور وزیر اعظم تھے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر امریکہ کو سخت احتجاجی مراسلہ دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اس معاملہ پر قومی سلامتی کمیٹی کا دوسرا اجلاس شہباز شریف کی قیادت میں ہوا تھا اور اس اجلاس میں پاکستان کے خلاف کسی سازش کے امکان کو مسترد کیا گیا تھا۔ اس طرح قومی سلامتی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم کی طرف سے امریکی سازشی نظریے کو مسترد کیا لیکن عمران خان کافی مدت تک اس ہتھکنڈے کو استعمال کرتے رہے۔ بعد ازاں عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے ایک اقبالی بیان میں اعتراف کیا کہ سابق وزیر اعظم نے سائفر کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا تھا۔ اس کی جو کاپی انہیں دی گئی تھی، وہ بھی انہوں نے واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ان سے گم ہو گئی ہے۔ پی ڈی ایم کی حکومت نے اس طریقہ پر شدید نکتہ چینی کی تھی اور اسے سابق وزیر اعظم کی غیر قانونی حرکت کہا تھا۔
اب ایک امریکی ویب سائٹ ’دی انٹر سیپٹ‘ نے اس سائفر کے مندرجات شائع کیے ہیں۔ اس میں بعض فقرے تشویشناک اور بین اقوامی تعلقات کے تناظر میں ہتک آمیز اور کسی حد تک دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ سفیر اسد مجید نے بھی امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کے ساتھ اپنا مکالمہ رپورٹ کرنے کے بعد اپنے تجزیے میں اسے ناجائز اور سخت امریکی رویہ قرار دیا ہے اور وزارت خارجہ کو اس کے خلاف احتجاج کا مشورہ دیا تھا۔ انٹر سیپٹ کی رپورٹ کے مطابق اسد مجید نے اس سفارتی مراسلہ میں لکھا تھا کہ ’ڈونلڈ لو اتنے ٹھوس انداز میں تحفظات کا اظہار وائٹ ہاؤس کی واضح منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے تھے جس کا انہوں نے بارہا حوالہ بھی دیا۔ یہ واضح ہے کہ ڈونلڈ لو نے پاکستان کے داخلی سیاسی امور پر غیر ذمہ دارانہ انداز میں بات کی۔ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو مناسب انداز میں ڈیمارش جاری کرنے کی ضرورت ہے‘ ۔
اس سائفر کا جو متن امریکی ویب سائٹ پر رپورٹ ہوا ہے اس میں ڈونلڈ نے اسد مجید سے کہا تھا کہ ’میرے خیال میں اگر وزیر اعظم (عمران خان) کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو امریکا کی جانب سے سب کو معاف کر دیا جائے گا۔ کیونکہ دورہ روس کو صرف وزیر اعظم (عمران خان) کے ہی فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بصورت دیگر مجھے لگتا ہے کہ ساتھ آگے چلنا مشکل ہو گا‘ ۔ ایک سینئر سفارت کار نے ڈونلڈ لو کے ان مبینہ ریمارکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بظاہر اس میں کوئی سازش نہیں ہے لیکن ایک امریکی عہدیدار کی جانب سے ایسے الفاظ استعمال کرنا ناقابل قبول ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے تو سب کو معاف کر دیا جائے گا‘ ۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے سائفر کے بارے میں سامنے آنے والے متن پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی براہ راست اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی بجائے بالواسطہ طور سے سازش کے تاثر کی تردید کرتے ہوئے ضرور تسلیم کیا ہے کہ غیر سرکاری طور سے سامنے آنے والا یہ متن درست ہو سکتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’سائفر کے شائع شدہ مندرجات میں امریکا کی جانب سے ایسے کسی موقف کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ پاکستان کی قیادت کس رہنما کے پاس ہونی چاہیے‘ ۔
البتہ پاکستان کے وزیر اعظم اور سبک دوش ہونے والی کابینہ کے ارکان اس متن کو سابق وزیر اعظم کا جرم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومتی جماعتوں کے بعض ترجمانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ قیاس یہی ہے امریکی ویب سائٹ کو یہ متن تحریک انصاف کی طرف سے فراہم کیا گیا ہو گا۔ ’دی انٹر سیپٹ‘ کا موقف ہے کہ اسے پاک فوج کے ایک نامعلوم افسر نے سائفر کے متن سے آگاہ کیا ہے۔ اس افسر کا دعویٰ ہے کہ اس کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عمران خان نے گزشتہ سال کئی ماہ تک سائفر کے معاملہ پر سیاست کی تھی۔ جس معاملہ پر قومی سیاسی و عسکری قیادت کو اتفاق رائے سے کوئی حکمت عملی بنانی چاہیے تھے، اس نے امریکہ سے جواب طلب کرنے اور تحفظات کا اظہار کرنے کی بجائے خود آپس میں ہی دست و گریبان ہونے کو ترجیح دی۔ تاہم سیاسی حالات کا دھارا تبدیل ہوتے ہی عمران خان نے یہ حکمت عملی ترک کر دی۔ البتہ اب سائفر کے مبینہ متن کی اشاعت کے بعد پاکستان میں اس معاملہ کو ایک بار پھر سیاسی مقابلہ بازی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر عمران خان کا ہتھکنڈا ناجائز اور وسیع تر قومی مفادات کے خلاف تھا تو اب شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے سائفر کے سوال پر عمران خان کو مجرم قرار دینے کا طریقہ بھی غلط ہے۔ بہتر ہو گا کہ اس قسم کے عوامی مناظرہ سے گریز کیا جائے اور حقیقی صورت حال کے مطابق امریکہ سے معاملات طے کرنے اور مستقبل میں پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے کہ سیاسی فریقین اپنے اپنے فائدے کے لئے سائفر معاملے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنی سیاست کے فروغ کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ ترک کریں۔
گزشتہ سال سائفر کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ان سطور میں مشورہ دیا گیا تھا کہ سب سے بہتر حل یہی ہو گا کہ پاکستان اور امریکہ باہمی مشاورت سے اس سائفر کو عام کرنے کا فیصلہ کر لیں تاکہ غیر ضروری غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔ یا اسد مجید اور ڈونلڈ لو کی ملاقات کے سرکاری نوٹس کو عام کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اب اس سائفر کی غیر سرکاری تشہیر ہو چکی ہے۔ اس لئے اب بھی اس معاملہ کو مزید سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنانے کی بجائے بہتر ہو گا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن مشترکہ طور سے اس سائفر کو عام کرنے کا فیصلہ کریں تاکہ قیاس آرائیوں اور بے بنیاد نکتہ چینی و الزام تراشی کا سلسلہ بند ہو۔
پاکستان کی حد تک بہتر یہی ہو گا کہ اس معاملہ پر بیان بازی کرنے اور سائفر پر عمران خان کو قانونی طور سے گھیرنے کی منصوبہ بندی کی بجائے، اس وقوعہ سے سبق سیکھا جائے اور مستقبل میں کسی ملک کو پاکستان کے بارے میں دھمکی آمیز انداز میں بات کرنے کی اجازت نہ دینے کا عزم کیا جائے۔


