جنم جنم کے غلام اور اقلیتیں


پاکستان کو آزاد ہوئے 72 سال ہو گئے۔ ان 72 سالوں میں انگریز کے دیے ہوئے مجسٹریٹی سسٹم نے ہر شخص کو غلامی کے طوق میں باندھ رکھا ہے جس سے نکلنا کسی کے بس کی بات نہیں، تاہم ان 72 سالوں میں اقلیتوں پر بہت سے تجربے کیا گئے، ان کو درجہ چہارم کی نوکری دے کر احسان جتایا گیا، بستیوں پر حملے کروا کر مخصوص علاقوں تک محصور کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ سے ایسے امتیازی قوانین منظور کروائے گئے جن کی وجہ سے اقلیتیں بالخصوص مسیحی معاشی طور سے کمزور سے کمزور تک ہوتے گئے۔

سرکاری سکولوں میں ایسا ماحول بنایا گیا جس کی وجہ سے اقلیت کا کوئی بھی غریب بچہ مفت تعلیم نہ حاصل کر سکے۔ سیاسی میدان میں ایسے ایسے نمونے متعارف کرائے جو تعلیم اور معاشی طور سے کمزور تھے کو خصوصی سیٹوں پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں لایا گیا۔ کارپوریشنوں کے یونین لیڈروں کو خاص ہدایات دے کر اقلیت ورکروں کو معاشی استحصال کروایا گیا۔ میں نے جب بھی اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیا تو اس میں ایک نعرہ ہمیشہ قابل ذکر رہا ( میرے مولا دے دے آزادی۔ ہم چھین کے لیں گے آزادی) جب میں یہ نعرے سنتا اور لگاتا کہ خوش ہوتا کہ کسی ادارے کے بڑے آفیسر کی زیادتیوں کا شکار ہیں اسی لیے متحد ہو کر اس سے آزادی مانگ رہے ہیں۔ مذہبی جماعتیں امریکہ سے آزادی کی آڑ میں درپردہ مسیحیوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی لحاظ سے دباؤ میں رکھنا چاہتی ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ ان مذہبی جماعتوں کو حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ میں حیران ہوتا کہ امریکہ بہادر کا یہاں کیا کام؟ جب کسی ڈکٹیٹر نے مارشل لاء لگایا تو اس نے بھی ٹی وی پر بیٹھ کر ہم وطنوں کو چوروں اور لٹیرے سیاست دانوں سے آزادی کی نوید سنائی اور اقلیتوں کو مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

مگر کیا ایک ڈکٹیٹر کے پاس ہمیں حق آزادی اور مساوی حقوق دینے کا اختیار ہے؟ ہم تو غلام گردشوں کے حصار میں جکڑے ہوئے ایسے کوئے ہیں جو ہر مرتبہ شکاری کے پنجرے میں پھنس جاتے ہیں۔ میں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1993 سے کیا اور 2005 کو سماجی خدمت اور سیاسی ورکر کے طور پر میدان عمل میں اترا۔ میں تواتر سے کارپوریشن کے خاکروبوں کی یونین لیڈروں کو دیکھتا، پرکھتا اور پھر غم و غصہ کو پی لیتا، کیونکہ لیڈر ڈی سی کا غلام، ڈی سی کمشنر کا غلام، کمشنر چیف سیکرٹری کا غلام اور چیف سیکرٹری وزیر اعلی کا غلام، وزیر اعلی پس پردہ کسی غائبی قوت کا غلام۔

تو پھر ہم اقلیت کیسے سوچ لیں کہ ہم بھی اس دیس میں آزاد ہیں۔ کوئی بھی آزاد نہیں یہاں تک کے ریاست پاکستان کا وزیر اعظم اور چیف جسٹس بھی آئین پاکستان کے غلام ہیں۔ اس لیے یہ جو آزادی کا کیڑا ہے یہ صرف دھوکہ ہے۔ میں شہید شہباز بھٹی کو بھی قریب سے دیکھا اور پرکھا جس نے اقلیتوں کے تمام دھڑوں کو یکجا کیا اور پھر 2005 میں اقلیتوں کی مخصوص سیٹ پر قومی اسمبلی کا حصہ بنیں جن کی بدولت 11 اگست کو یوم اقلیت سرکاری سطح پر منانے کے لیے قومی اسمبلی سے منظوری کروائی۔

مگر کیا 11 اگست کو اقلیت سے تعلق رکھنے والے سرکاری یا غیر سرکاری سرکاری ورکروں کو چھٹی دی جاتی ہے؟ کیا یوم اقلیت کے موقع پر قیدیوں کی قید میں کمی کی جاتی ہے؟ کیا یوم اقلیت کے موقع پر گورنر ہاؤس یا وزیر اعلی ہاؤس یا ایوان صدر یا وزیر اعظم ہاؤس میں کسی اقلیت رکن صوبائی یا قومی کے ساتھ مل کر پرچم کشائی کی جاتی ہے؟ کیا کسی گرجا گھر میں، مندر اور گوردوارہ میں سرکاری خرچ کر کے شکرانے کی تقریب منعقد کی ہے یا پھر یوم اقلیت کے موقع پر پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کو ختم کرنے کا کوئی وعدہ کیا گیا؟

جواب تو نہیں میں ہی ہے : ایسے ہی جیسے ٹیلی ویژنوں اور اخباروں میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات روزانہ سنائے اور اخباروں میں پڑھے جاتے ہیں، جن میں قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر کو ہر حکومت خاص طور سے چلواتی اور سناتی ہے۔ جس میں بانی پاکستان نے فرمایا ”آپ آزاد ہیں مندر جائیں یا گوردوارے چرچ جائیں مسجد“ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ میں نے اس لفظ ”آزادی“ کو سمجھنے کی بہت کوشش کی اور اب میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ قائد نے ہندؤں کو پنڈت، سکھوں کو گرو، مسلمانوں کو مولوی اور مسیحیوں کو پادری کی غلامی میں دے دیا۔

اگر آپ نے پادری اور پنڈت کی غلامی سے نکلنا ہے تو اپنے بچوں کو تعلیم و ہنر دو، ان کو کمپیوٹر اور قانون کی تعلیم دلاؤ تاکہ وہ بہتر شہری بنے۔ آج پھر 11 اگست ہے۔ آج قائد اعظم محمد علی جناح ہم میں نہیں۔ آج پاکستان کے مختلف شہروں میں کچھ یوم سیاہ اور کچھ گروپ یوم اقلیت منا رہے ہیں۔ کچھ آزادی مانگ رہے ہیں اور کچھ شناخت۔ مگر ان کو کچھ بھی معلوم نہیں کہ جنم جنم کے غلام کبھی بھی آزاد نہیں ہو سکتے۔

Facebook Comments HS