کیا افغانستان میں دس سال کی بچیاں بھی سکول نہیں جا سکیں گی؟


بے شک ہر ملک کو اپنی حدود میں اپنی مرضی، ثقافت اور مذہب کے مطابق قانون سازی کا بھی حق ہے اور اس ملک کے عوام کی خواہشات کے مطابق ضابطہ حیات وضع کرنے کا بھی مگر عوام کا مطلب ہے اس ملک کی اکثر آبادی بلا امتیاز صنف۔ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ تمام مذاہب اور تہذیبوں میں یکساں ہے اس لئے ان کی پامالی مقبوضہ کشمیر میں ہو، فلسطین میں یا بالخصوص خواتین کے حوالے سے آج کے افغانستان میں دنیا بھر سے سنجیدہ حلقے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو پاکستان کی بہت بڑی آبادی نے خوشیاں منائیں کہ برادر ملک میں زمین زادوں کو زمین پر حکومت کا حق مل گیا اب وہ ایک مستحکم افغانستان کی تعمیر نو کریں گے اور دنیا کے لئے مثال بنیں گے۔ طالبان کی جانب سے اعلانات کیے گئے کہ پرانی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی بالخصوص خواتین کے حقوق کے حوالے سے دنیا بھر کو ان سے جو شکایات رہی ہیں اب نہیں دہرائی جائیں گی۔ تاہم ستمبر 2021 میں اس وقت کے افغان وزیر تعلیم کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایم اے یا پی ایچ ڈی کی ڈگری کی کوئی حیثیت نہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ سب سے زیادہ طاقتور برسر اقتدار گروپ کے پاس ایم اے، پی ایچ ڈی تو کیا ہائی سکول کی بھی ڈگری نہیں۔ یہ افسوسناک بیان افغانستان میں تعلیمی مستقبل کی پیشن گوئی تھا۔

بعض عہدوں کے علاوہ نوکریوں سے خواتین کی برخاستگی، بیوٹی پارلر، جم اور خواتین کے کاروبار کرنے پر پابندی بھی تکلیف دہ تھی تاہم ان پر تو اندرونی معاملہ کہہ کر کسی حد تک خاموش رہا جا سکتا ہے لیکن بچیوں کے سکول جانے پر پابندی ظلم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جب طالبان حکومت قائم ہوئی تو یونیسف کے مطابق سکول جانے کی عمر کے 37 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے تھے جن میں تقریباً ساٹھ فیصد لڑکیاں تھیں طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد مزید ساڑھے 12 لاکھ لڑکیوں پر سکول کے دروازے بند کر دیے گئے۔

بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ موسم سرما کی تعطیلات کے بعد جب سکولوں میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوا تو 13 سال اور اس سے بڑی عمر کی بچیوں کو یہ کہہ کر واپس لوٹا دیا گیا کہ مذہبی تعلیمات کے مطابق انتظامات تک وہ سکول نہیں آ سکتیں۔ مذہبی تعلیمات سر آنکھوں پر مگر ان کی تشریح کون کرے گا کیونکہ مصر سے لے کر پاکستان اور سعودی عرب تک کسی بھی اسلامی سکالر نے لڑکیوں کی تعلیمی بندش کو اسلامی عمل قرار نہیں دیا۔

مخلوط تعلیم پر پابندی قابل فہم ہو سکتی ہے لیکن تعلیم کے حق سے یکسر محروم کر دینا نا قابل فہم ہے۔ پاکستان میں بھی نوے فیصد سے زائد سکول لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ عمارتوں میں قائم ہیں اس ماڈل کی پیروی کی جا سکتی تھی یا موجود عمارتوں میں ایک شفٹ لڑکوں اور دوسری لڑکیوں کے لئے مختص کی جا سکتی تھی۔ جیسے افغانستان اپنی اجناس کی ضروریات پاکستان سے پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے تعلیم کے معاملے میں مدد مانگی جا سکتی تھی لیکن یہ تب ہی ہوتا جب تعلیم نسواں کی اہمیت کا ادراک ہوتا۔

افغانستان میں ستمبر 2021 میں بچیوں کے سیکنڈری سکول جانے پر پابندی عائد کی گئی یعنی وہ پانچویں جماعت سے آگے تعلیم کا حق نہیں رکھتیں۔ پھر دسمبر 2022 میں خواتین کی ہائر ایجوکیشن یعنی یونیورسٹی تعلیم پر پابندی عائد کی گئی اور بالخصوص کچھ شعبوں جیسے وٹرنری، زراعت، انجینئرنگ، معیشت اور بہت حد تک صحافت کو بھی خواتین کے لئے غیر موزوں قرار دے دیا گیا۔ پچھلے دور حکومت 1996 تا 2001 میں جب ملک خانہ جنگی سے بے حال تھا زیادہ تر لوگوں کے لئے تعلیم ترجیح نہیں تھی۔

اب صورتحال قدرے مختلف تھی 2018 تک سیکنڈری سکول میں لڑکیوں کے داخلوں میں چالیس فیصد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ کابل کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں جدید مضامین پڑھائے جانے لگے تھے اور افغانی لڑکیاں بھی کچھ کر دکھانے کے اور اپنے آپ کو منوانے کے خواب دیکھنے لگی تھیں تب اچانک طالبات پر یونیورسٹی ایجوکیشن کے راستے بھی بند کر دیے گئے۔ ان لڑکیوں کے لئے جن کی منزل اب ایک ہاتھ کے فاصلے پر تھی پہلے مضامین کے انتخاب کے حق کو محدود کیا گیا اور پھر یونیورسٹی کی تعلیم کے دروازے ان پر مکمل طور پر بند کر دیے گئے۔ کچھ یونیورسٹیوں میں احتجاج ہوا۔ طالبات کے لئے ان کے ساتھی طلبہ نے بھی احتجاج کیا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر نے مذمت کی لیکن طاقت جیت گئی اور علم ہار گیا۔ ڈگری کی تکمیل کے لئے امتحانات دینے کی اجازت بھی نہیں دی گئی جبکہ طالبات سے میڈیکل اگزٹ امتحان بھی نہ لیا گیا۔

حکمران گروپ کو یہ سوچنا ہو گا کہ تعلیمی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے علیحدہ تعلیمی اداروں کے لئے سو فیصد کوالیفائیڈ خواتین اساتذہ کہاں سے میسر آئیں گی۔ اور ان کے میسر آنے تک بچیوں پر تعلیم کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہیں اور ظاہر ہے بند ہی رہیں گے۔

کوالیفائیڈ خواتین طبی عملہ بھی بتدریج کم ہوتا جائے گا کیونکہ جب بچیوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں ہو گی تو نئی لیڈی ڈاکٹرز، نرسز کہاں سے آئیں گی اور خواتین کے پاس شاید پھر علاج معالجے کی گنجائش بھی نہ رہے کیونکہ افغانی ثقافت خواتین کی مرد معالجین سے معائنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اقوام متحدہ میں بچوں کے فنڈ (یونیسف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے مارچ 2023 میں افغانستان پر زور دیا کہ وہ نئے تعلیمی سال میں لڑکیوں کی ہائی سکول میں واپسی یقینی بنائیں۔

لیکن اس کا مثبت نتیجہ آنے کی بجائے غزنی سمیت افغانستان کے بعض علاقوں سے خبریں موصول ہوئیں کہ افغانی بچیاں اب تیسری جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے کی اہل نہیں ہوں گی یعنی دس سال کی عمر کے بعد ان کے سکول جانے پر پابندی ہو گی اگر کوئی بچی دس سال سے کم عمر ہے لیکن جسمانی طور پر دس سال کی لگتی ہے تو وہ بھی سکول نہیں جا سکے گی اس خبر کو پاکستانی اور بھارتی میڈیا کے ساتھ بعض بین الاقوامی ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی رپورٹ کیا گیا۔ پہلے بارہ سے اٹھارہ سال کی بچیوں پر پھر یونیورسٹی طالبات پر اور اب دس سال کی بچیوں کے حصول علم پر پابندی سراسر ظلم ہے اور اس کے بعد شاید اگلا قدم بچیوں کو کبھی بھی سکول داخلے کی اجازت نہ دینا ہو گا۔

عالمی برادری اب بھی تعلیم نسواں کے حوالے سے افغان حکومت کو قائل نہیں کر سکی تو شاید افغانی معاشرے میں لڑکیوں کے پاس شادی اور افزائش نسل کے سوا کوئی کردار نہ بچے۔ کاش اس بات کو سمجھ لیا جائے کہ یہ تعلیم کو رد کرنے کی پالیسی معاشرے کی پدرسری سوچ کا عکاس تو ہو سکتی ہیں مذہب انسانیت ”اسلام“ کی نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments