افسانہ: محبت سانس لینے دو
”کبھی کبھی میرا اس محبت سے دم گھٹنے لگتا ہے“
سائیکاٹرسٹ کا آخری جملہ میرے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا کیونکہ میں اس محبت میں شدت اختیار کرتا جا رہا تھا مجھے احساس ہی نہ رہا کہ انسان خود سے بھی تو محبت کرتا ہے میں جس محبت کو دوسرے لیے آکسیجن سمجھ رہا ہوں وہ اس کے لیے کاربن مونو آکسائیڈ بھی تو ہو سکتی ہے اور اب جو باتیں سامنے آ رہی تھیں ان سے یہ سب ثابت بھی ہو رہا تھا۔ سائیکاٹرسٹ اس کے بعد شاید اپنے اختتامی جملے بولی اور اٹھ کر چلی گئی لیکن میں جیسے سکتے میں آ گیا اور اس کا وہ جملہ میرے سر پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگا۔
”کبھی کبھی میرا اس محبت سے دم گھٹنے لگتا ہے“ اور میں اپنی سوچوں میں چھ ماہ پیچھے چلا گیا۔
احمد نے کال کی کہ میں تمہیں لینے آ رہا ہوں شہر سے باہر تھوڑا کام ہے تو ساتھ چلتے ہیں میں تیار ہو گیا۔ احمد میرا بہت اچھا دوست ہے مجھے اس کی ناکام ازدواجی زندگی کا افسوس رہتا ہے کیونکہ اس کی بیوی بچوں کو لے کر جا چکی تھی اور مکمل طور پر علیحدگی کا فیصلہ بھی کر چکی تھی بلکہ جب وہ ہمارے بارے بات کرتا ہے تو مجھے اور بھی عجیب سا احساس ہوتا ہے کہ کاش احمد بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوتا وہ اکثر یہی کہتا تم لوگوں کی ذہنی ہم آہنگی بہت ہے۔ تم لوگ ایک دوسرے کو سمجھتے ہو۔ میں اسے یہی سمجھاتا کہ اس رشتے کو نبھانے کے لیے ہمیں بہت سی باتوں کو نظرانداز کرنا پڑتا ہے ایک دوسرے کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہ یک طرفہ کوشش پر مبنی نہیں ہوتا۔
گاڑی چلاتے ہی اس نے پوچھا کہ اب بھابی کی طبعیت کیسی ہے۔ قریب ایک سال سے عاتکہ بیمار تھی اور بیماری کچھ خاص سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ بظاہر اسے سانس کا مسئلہ تھا ٹیسٹ کروانے پر معلوم ہوا کہ تھائرائیڈ ہے۔ لیکن یہ معاملہ کہیں کہیں نفسیاتی بھی معلوم ہوتا تھا۔ احمد کے بقول تمہیں کہیں گھومنے کے لیے جانا چاہیے کچھ وقت اکیلے شمالی علاقہ جات گزار کر آؤ اپنی روز مرہ کی مصروفیات میں کچھ وقفہ دو بھابی کو وقت دو۔ میں اس بات پر حیران تھا کہ مجھ سے زیادہ کون اپنے بچوں کو وقت دیتا ہو گا ایک شخص جو اپنی بنک کی اتنی مصروف نوکری کے باوجود اپنے بچوں کو تقریباً روزانہ کی بنیاد پر باہر لے کر جاتا ہے ان کے ساتھ وقت گزارتا ہے سارا دن کی تھکاوٹ کے باوجود وہ اپنی اس روز کی ڈیوٹی کو نبھاتا ہے اور اس کے بچوں کو کیا چاہیے۔
”میں نے بچوں کی نہیں بھابی کی بات کی ہے۔ انہیں اکیلے وقت دو ان کے ساتھ بیٹھو بات کرو صرف ان کے ساتھ گھومنے کے لیے جاؤ تاکہ تم کھل کر ایک دوسرے سے وہ باتیں کر سکو جو بچوں کی وجہ سے زبان پر نہیں آتیں“ احمد نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
میں اس بات پر بہت ہنسا اس کی بات کافی حد تک درست تھی لیکن یہ ہمارے معاملے میں بالکل بھی درست نہیں تھی۔ عام طور پر والدین اپنے بچوں کو نانی یا دادی کے پاس چھوڑ جاتے ہیں ہم ایسا بہت ہی کم کرتے تھے ہمارا بچوں سے کچھ زیادہ ہی لگاؤ بھی تھا اور اس معاملے میں ہم لوگ بہت زیادہ فکر مند بھی ہوتے ہمارا ماننا ہے کہ اپنے بچوں کا آپ کے علاوہ کوئی بھی دوسرا رشتہ اتنے اچھے سے خیال نہیں رکھ سکتا۔ ہمیں عجیب سے واہمے ہوتے ہیں بلکہ مجھ سے زیادہ عاتکہ اس معاملے میں محتاط ہے۔ وہ کبھی بھی ہم دونوں کے اکیلے کسی تفریحی مقام پر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ وہ کبھی بھی نہیں مانے گی کہ بچوں کے بغیر ہم کہیں سیر کے لیے جائیں۔
” اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم دوسرے کے خیالات خود ہی فرض کر لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے تمہارے مفروضات بالکل درست ہوں۔ لیکن ایسے رشتوں میں بھرم اور شرم کی وجہ سے بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں۔“ احمد نے فلسفہ جھاڑتے ہوئے کہا۔ لیکن دوبارہ میں اس کی بات سے کافی حد تک متفق تھا مگر میں اسے اپنے حالات کے ساتھ کسی بھی طرح سے جڑتا نہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنی بیگم کو بھی بچوں کی طرح پیار دیا تھا اس کا ایسے خیال رکھا جیسے ہر لڑکی چاہتی ہے۔
ہر لڑکی کا ہیرو اس کا باپ ہوتا ہے۔ کارل ینگ نے اس نظریے کو الیکٹرا کمپلیکس کا نام دیا ہے جسے سگمنڈ فرائیڈ کے ایڈی پس کمپلیکس کا فی میل ورژن بھی کہا جاتا ہے۔ باپ چاہے جیسا بھی ہو معاشرے کی نظر کتنا ہی برا کیوں نہ ہوں وہ اپنی بیٹی کے لیے ایک آدرش کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ باپ سے اسے غیر مشروط محبت ملتی ہے جو اسے احساس دلاتی رہتی ہے کہ دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو اس کی فکر کرتا ہے اس کا خیال رکھتا ہے اس کی تمام تر خواہشات کو پورا کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔
اور باپ کے بعد یہی کچھ وہ اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اسے اگر کسی سے پیار ہوتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اسے ان تمام باتوں کی جھلک نظر آتی ہے یا اگر وہ کسی کو جیون ساتھی بھی چنتی ہے تو اس شخص سے وہی توقع رکھتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب اس کی توقعات ٹوٹتی ہیں تو وہ اندر سے بکھر جاتی ہے اور بیشتر لڑکیاں سمجھوتے کے نام پر تمام عمر گھٹ گھٹ کر گزار دیتی ہیں۔
اور اب اگر میں ان باتوں کے حوالے سے اپنے معاملے کو دیکھوں تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ عاتکہ کی توقعات ہرگز نہیں ٹوٹی ہوں گی ۔ کیونکہ میں نے اپنی دس سالہ ازدواجی زندگی میں اپنی ہر ممکن کوشش کر کے اسے خوشی ہی دی ہے۔ میں نے خود کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے جو کچھ جیسا چاہا میں نے اسے اسی طرح کر کے دیا۔ اور احمد خود بھی ان سب باتوں کا گواہ تھا کہ یہ سب صرف باتیں نہیں تھیں میں نے یہ کر کے بھی دکھایا تھا اس کے بعد جو احمد نے کہا مجھے اس نے سوچنے پر مجبور کر دیا۔
”پھر مجھے لگتا ہے تم محبت کی اوور ڈوز دے چکے ہو“ ۔
دو ماہ قبل میں عاتکہ کو سائیکاٹرسٹ کے پاس لے گیا اور آج اسے جدا ہوئے ایک ماہ گزر گیا ہے۔ ایک ماہ سے میں جاگنگ کے لیے نہیں گیا تھا آج جب ایک راؤنڈ لگا کر بیٹھا تو وہی سائیکاٹرسٹ میرے پاس آئیں پہچانا اور سلام دعا کے بعد عاتکہ کا پوچھنے لگیں کہ وہ دوبارہ کیوں نہیں آئیں۔ میرے بتانے پر انہوں نے کافی افسوس کا اظہار کیا اور پھر وہ سب باتیں بتائیں جو عاتکہ مجھے نہ بتا سکی۔
”مجھے ایسی کوئی شکایت نہیں ہے ان سے۔ میں بس خود کو نہیں کھونا چاہتی جو کہ میں کھو چکی ہوں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس گھر میں صرف ایک ہی شخصیت رہتی ہے ہر بات میں وہی ہے۔ ایسا کہاں ہوتا ہے۔ مجھے خود بھی تو اپنے لیے وقت چاہیے۔ میں ہر بات کے لیے ان کی محتاج بن کر رہ گئی ہوں۔ وہ قریب دکان تک جائیں تو میں خود کو ادھورا سمجھتی ہوں مجھے خوف آنے لگتا ہے دیواریں کھانے کو دوڑتی ہیں۔ میرا دل کرتا ہے یہ شخص اسی گھر میں موجود رہے بس کہیں بھی نہ جائے۔
مجھے یہ سب کیوں محسوس ہوتا ہے۔ مجھے بالکل ناکارہ کر کے رکھ دیا ہے۔ میں خود کہیں موجود ہی نہیں ہوں۔ مجھے اب خوف آنے لگتا ہے انہیں کچھ ہو گیا تو کیا کروں گی۔ میں اس خوف سے کیسے نکلوں۔ میرے دماغ میں چیخوں کی آوازیں گونجتی ہیں۔ میں خود کو ڈھونڈنا چاہتی ہوں میں ان کے اس حصار سے نکلنا چاہتی ہوں جس میں میری روح کو باندی بنا رکھا ہوا ہے اور انہوں نے کوئی زبردستی نہیں کیا یہ میں خود ہی اس حصار میں چلی گئی ہوں۔ پتہ نہیں اس میں کس کا قصور ہے۔ مجھے اس کا ایک ہی حل نظر آتا ہے کہ میں ان سے پہلے اس دنیا سے چلی جاؤں ورنہ میں ان کے بعد والی اذیت برداشت نہیں کر سکوں گی میں وہ سوچ سوچ کر ہی مرتی جا رہی ہوں۔“
سائیکاٹرسٹ نے بتایا کہ ان کی یہ حالت اسی وجہ سے ہوئی تھی کہ مجھ پر وہ بہت زیادہ انحصار کرنے لگ گئی تھی۔ جسے وہ ’Dependent Personality Disorder‘ کا نام دے رہی تھی۔ اس میں انسان کو ایسے شخص کے کھو دینے کا بھی ڈر رہتا ہے جو اس کا بہت زیادہ خیال رکھتا ہو۔ چونکہ عاتکہ نے خود بھی نفسیات پڑھ رکھی تھی تو وہ اس سے نکلنا چاہ رہی تھی اور ان سب کو کچھ زیادہ ہی سوچ رہی تھی جس کی وجہ سے اس کا ڈپریشن بڑھتا جا رہا تھا۔
سائیکاٹرسٹ اپنے تعزیتی کلمات کہہ کر چلی گئیں لیکن میں وہیں بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ کیا واقعی محبت کی اوور ڈوز سے دم گھٹنے لگتا ہے


