11 اگست کو 14 اگست

فضا میں گونجتے نئے و پرانے ملی نغمے، خوبصورت صبح میں ننھے ننھے ہاتھوں میں لہراتے چھوٹے چھوٹے سبز ہلالی پرچم ، سفید براق اور ہرے رنگ سے مزین لباس پہننے معصوم فرشتے ، چہروں پر بکھری مسکراہٹ اور خوشی سے جھومتے قدم اسکول جانے کیلئے تیار اور 11 اگست کو 14 اگست منانے کیلئے بے قرار ۔۔۔ جی ہاں صحیح پڑھا ۔ ۔ 14 اگست پاکستان کا یوم آزای ،پاکستان کی 76ویں سالگرہ بیشتر تعلیمی اداروں میں 11 اگست کو منائی گئی ہے ۔ ایک فرض جو ٹال دیا گیا، ایک قرض جو ہر سال کی طرح اس سال بھی طوعا کر ہا اتار دیا گیا۔
چھوٹی چھوٹی خوشیاں منانے ، انہیں دونوں ہاتھوں سے سمیٹنے اور اپنی سا لگراہیں ٹھیک رات کے بارہ بجے اور اگلے دن دھوم دھام سے منانے کا عملی طور پر درس دینے والی قوم اب شاید14 اگست کو بہت چھوٹی ، ہر سال منائی جانے والی ، صرف ایک فرض کی طرح ٹالی جانے والی عام سے خوشی یا بات بھی تصور نہیں کرتی ۔اسی لیے 14اگست کو عام تعطیل کی جاتی ہے ۔ اس ملک کا قیام بے شک دینی فریضہ نہ سہی لیکن دین کی وجہ سے ضرور عمل میں لایا گیا ہے ۔ بے شک یہ دن عید الفطر اور عید الضحی جیسا نہیں لیکن ہمارے لیے ایک نعمت خداوندی ضرور ہے جسمیں رہتے ہوئے ہم آج ہر دینی فریضہ ہر دینی احکام بلاروک ٹوک ادا کرتے ہیں ۔
آزادی کی قدر ، جانوں کی قربانی ، جشن آزادی جوش و جذبے سے منانے کی باتیں کرنے والے یوم آزادی پر دیر سے سو کر اٹھتے ہیں اور ہر ے و سفید رنگ کا مقدس پرچم ہارن بجاتی گاڑیوں اور سائلنسر سے آزاد بائیکوں پر لگا کر کچھ دیر پہلے جاگے ہونے کا احساس دلاتے ہیں ۔اپنی خوشی جتانے کیلئے ایک نئی واہیات ایجاد پاں پاں کرتے باجے کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور کوئی کسر نہیں چھوڑتے کہ اس عظیم دن کو شکرانے خدا کے بجائے دوسروں کیلئے اذیت ناک بنایا جائے ۔بدقسمتی سے ہمارا سارا جشن آزادی اور ملک سے محبت کا جوش و جذبہ صرف نئی نئی اشیاءکی خریداری اور گانوں تک محدود ہے اس غلط سوچ کی ذمہ دار صرف یہ نسل نہیں بلکہ ان کے وہ بڑے ہیں جو آہستہ آہستہ ان سے وہ سب اخلاقیات ، روایات ، رسم و رواج چھینتے جارہے ہیں جو وہ کبھی اپنے بڑوں کے ساتھ عقیدت و محبت سے جاری رکھے ہوئے تھے۔
اس صف میں بدقسمتی سے ا ب سرکاری ، پرائیوٹ اور مہنگے ترین پرائیوٹ تعلیمی ادارے شامل ہیں چاہے وہ نرسی اسکول ہوں یا اعلی یونیورسٹیاں ۔۔ایک دور تھاکہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا فرد چاہے اعلی پوسٹ پر ہو یا نرسری کلاس کا معصوم طالب علم ۔14 اگست کو اپنے ہم عصروں کے ساتھ پر چم کشائی کی باقاعدہ منعقد کی جانے والی تقریب میں خوشی خوشی شرکت کرتا تھا ۔ تلاوت قرآن سے شروع ہونے والی تقریب میں پرچم کشائی کے بعد ٹیبلوز ، تقاریر ، ملی نغمے ، سوال و جو اب کے مقا بلوں اور ملک کی خوشحالی کی دعاوں کا خصوصی سلسلہ ترتیب دیا جاتا تھا ۔ چھوٹی مگر پروقار سادہ سی تقریب میں ساری توجہ اس مواد پر ہوتی تھی جس کا مقصد ننھے ذہنوں کی آبیاری ، جذبہ حب الونی ، خلوص ، جذبہ ایثار و قربانی پروان چڑھانا تھا ۔
لیکن آج 14ا اگست کو عام تعطیل دے کر خواب خرگوش کے ساتھ ساتھ خواب غفلت کو بھی پروان چڑھایا جارہا ہے ۔ یہ بچے معصوم ہیں انکے ذہن خالی سلیٹ ہیں آپ اس پر جو رنگ بکھیریں گے وہی اپنا رنگ چھوڑ جائیں گے اگر آج انہیں یہ سکھایا جارہا ہے کہ چھٹی ضروری ہے لیکن یوم آزادی کو 14 اگست پر منانا ضروری نہیں ہے تو یہ کل یقینا اپنی مصروفیات میں یہ زحمت بھی نہیں کرینگے ۔ 14اگست عام دنوں سے مختلف ہے اس دن کو ان کیلئے مزید خوبصورت بنائیں ، انہیں احساس دلائیں کہ پیسے، ذاتی مفاد اور آرام طلبی سے یہ وطن حاصل نہیں ہوا تھا ۔ صرف قوت ایمانی اور بے لوث جوش و جذبہ تھا جو آج یہ وطن ہمارا ہے اور یہ فارمولا ہر دور میں اور ہر فرد پر کام کرتا ہے۔
بلاوجہ بغیر منزل چلتی اور پھر منتشر ہوتی ریلیاں محبت نہیں ۔۔ پیٹرول کا بے جا ضیاں حد یہ ہے کہ قومی جھنڈیوں کی بھی چین سے درآمدات کا بوجھ اس ملک کے شانوں کو جھکا رہی ہے ۔
خدارا اس مادر وطن کا اسقدر امتحان نہ لیں ، اس پر اس کی صلاحیت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں کچھ امتحان خود بھی دیں ۔ اپنی اور اپنے بچوں کی نیند کا امتحان ،آ رام طلبی اور صرف لینے کا،14اگست کو بطور عام تعطیل منانے کا، بلاوجہ کے کانسرٹس میں شرکت کا ، لغو اور بے سروپا گفتگو سے بھرے ٹی وی او ر ریڈیو پروگرامز کا امتحان ۔محبت بلکہ دائمی محبت وہ ہوگی جو ہم ان کے ننھے ذہنوں میں انڈیلیں گے ۔ہمیں اپنا فرض نبھانا ہو گا چاہے ہم جس بھی کردار میں ہوں آج کی دی جانے والی مثبت سوچ ہی کل نسل کو صحیح سمت پر گامزن کرے گی جو وطن کو مضبو ط کرے گی ، اسکی تعمیر کرے گی ،اسے خوشحال اور ترقی یافتہ بنائے گی ۔۔۔ والدین اور اساتذہ اپنا کردار نبھائیں۔ ابھی یہ آپ کے ہاتھوں میں ہیں ،کل انہیں زندگی اور مسائل کی بھیڑ میں گم ہوجانا ہے یہ نہ سوچیں کہ یہ خود سیکھ لیں گے ۔ اس سلسلے میں کسی تحریک ، کسی بل ، کسی قانون کی ضرورت نہیں صرف اپنے گھر اور اسکول کا نظام بہتر کر لیں، یقین کیجئے یہ ملک خود بخود بہترین بن جائے گا۔
