عدلیہ اور آئین: آپ کی منصفی کا جادو ہے


قیام پاکستان کو 76 برس اور آئین پاکستان کو بنے تقریباً 50 برس بیت چکے مگر آج بھی عملی طور پر یہ طے نہیں ہوسکا کہ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کیسے سفر کرنا ہے۔ وقفے وقفے سے ایک ادارہ اپنے اختیار سے آگے بڑھ کر دوسرے کے امور میں مداخلت کرتا ہے۔ پاکستانی تاریخ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گزشتہ غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے محض کرداروں کی تبدیلی کے ساتھ پچھلی غلطیاں ہی دہرائی جاتی ہیں۔

عدلیہ کی بدترین تاریخ کے موجد جسٹس منیر تھے جن کے الفاظ ”Necessity makes lawful which is unlawful“ یعنی ”ضرورت غیر قانونی کام کو قانونی بنا دیتی ہے“ ۔ نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا۔ ایوب خان اور دوسرے طالع آزماؤں نے عدلیہ کو داشتہ بکار آید کے مصداق خوب استعمال کیا۔ آئین بننے کے بعد عدلیہ کا پہلا اور سب سے بڑا امتحان خود آئین بنا اور عدلیہ نے جنرل ضیاء کے مارشل لاء کو ( 10 نومبر 1977 ) نظریہ ضرورت کی بنیاد پر نصرت بھٹو کی پٹیشن رد کردی اور جنرل ضیاء کا دور گیارہ سال تک چلتا رہا غیر جماعتی انتخابات سے من پسند قانونی اصلاحات اس دور کا خاصا رہیں۔ 1973 ء کے آئین نے بنیادی ڈھانچہ فراہم کر دیا لیکن یہ تاثر عام رہا کہ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کے پارٹنر کے طور پر کام کرتی ہے۔ 1990 ء کی دہائی میں پاکستان کے سیاسی حالات نے عدلیہ کا کردار بھی مرکزی بنا دیا۔ اس دور میں لفظ ٹرائیکا Troika کو اہمیت ملی۔ صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے دفاتر سے کی گئی متعدد کھینچا تانی کے واقعات کا مرکز سپریم کورٹ بھی بنی۔ 1999 میں نواز شریف حکومت ختم کردی گئی تو عدلیہ نے اس غیر آئینی اقدام کی توثیق کی اور آمر کو آئین میں ترمیم کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیاں ہمیشہ سے سپریم کورٹ ججز کے لیے ذاتی پسند نا پسند اور انا کا مسئلہ رہیں۔ 1996 کے الجہاد کیس میں سپریم کورٹ نے ایگزیکٹو کی عدلیہ میں تعیناتیوں میں اثرانداز ہونے کی گنجایش ختم کر دی گئی۔

سنیارٹی نظر انداز کر کے اپنے ججز لانے کی خواہش نے ملک کو بحرانوں میں دھکیلا اور آج بھی یہی خواہشیں بحرانوں کا موجب ہیں۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا سپریم کورٹ میں دو جونیئر ججز کی تقرری پر قوم سے معافی مانگنا، واضح کرتا ہے کہ غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے حکومت نے میرٹ کو نظر انداز کیا اور اپنی اسی غلطی کے سبب حکومت بھی پریشان رہی اور ملک میں سنگین ترین آئینی بحران نے جنم لیا۔

80 ء کی دہائی کے آخر میں عدلیہ کو عوامی مفاد عامہ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا گیا اور 184 تین کے تحت ان گنت سوموٹو نوٹسز لیے گئے۔ این آر او کالعدم قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے 17 ججز مسیحا ٹھہرے۔ جسٹس طارق محمود کہتے رہے کہ یہ تمام اقدامات اور سپریم کورٹ کی دیگر اداروں اور انتظامیہ کے کام میں بے جا مداخلت ملک میں طاقت کی تقسیم کے تصور کو تباہ و برباد کردے گی۔ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ این آ ر او عملدرآمد کیس میں سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کے جرم میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی توہین عدالت میں آرٹیکل 63 کے تحت پانچ سال کے لیے نا اہل کر دیے گئے۔ اس نا اہلی سے پہلے اور بعد حکومت کا اٹھایا ہوا تقریباً ہر انتظامی فیصلہ سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کی تلوار کے نیچے آیا۔ ہم خیال بنچز آج ہی نہیں بلکہ 2009 سے 2013 ء کے دوران بھی بنتے رہے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس عارف خلجی کا بنچ بھی ایک ہم خیال بنچ تھا، جس کا نتیجہ کیس کی سماعت سے قبل ہی سب جان لیتے۔

اٹھارہویں ترمیم میں ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کا طریقہ کار متعارف کروایا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ کو یہ گوارا نہ تھا، پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کو ایک پٹیشن داخل ہونے پر مسترد کر دیا گیا۔ یہاں بھی آرٹیکل 184 تین کا استعمال کیا گیا۔ پارلیمان کو مجبوراً 19 ویں آئینی ترمیم کے پاس کرنی پڑی اور اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی میں پارلیمانی کمیٹی کا کردار ربڑ اسٹیمپ جیسا رہ گیا۔

عدلیہ کا ایک اور سیاہ باب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں رقم ہوا۔ جوڈیشل ایکٹوازم کا جو بیج افتخار چوہدری نے بویا وہ 2018 ء میں زقوم کا درخت بن چکا تھا۔ ثاقب نثار نے آرٹیکل 184 تین کو نہایت بھونڈے انداز میں استعمال کیا 1973 ء کے آئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ عدلیہ، انتظامیہ کے امور میں مداخلت کرے۔ عوام، سرکاری افسران، ڈاکٹرز یہاں تک عدلیہ کے جونیئر ججز سمیت کوئی بھی چیف جسٹس ثاقب نثار کے عتاب سے محفوظ نہیں تھا۔ 81

2016 ء میں پانامہ پیپرز میں سینکڑوں پاکستانیوں کی طرح شریف خاندان کے اثاثوں کا ذکر تھا۔ ڈان لیکس کی رپورٹ اور آئی ایس پی آر کی اس رپورٹ کو ریجیکٹڈ کہنے کے بعد نواز شریف کے تعلقات جب جنرل باجوہ کی اسٹیبشلمنٹ سے کشیدہ ہوئے تو عمران خان کی اپنی زبان کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کے کہنے پر اسے سپریم کورٹ میں لایا گیا۔ آرٹیکل 184 تین کا ایک بار پھر استعمال ہوا چیف جسٹس ثاقب نثار سمیت سپریم کورٹ کے سینئر ججز اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر نواز شریف کو پانامہ کیس میں سزا سنائی گئی۔ ثاقب نثار اس بنچ کا حصہ نہ تھے لیکن تمام کام ان کی نگرانی میں ہوا۔ اس بار طریقہ واردات دلچسپ تھا، آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نواز شریف کو پانچ میں سے دو ججز نے نا اہل قرار دیا اور پھر تین ججز نے معاملہ جے آئی ٹی کو بھیجا اور منطقی ہدف حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ایک جج کو اس معاملے کا مانیٹرنگ جج مقرر کیا گیا۔ یہ کام بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ بعد میں تمام ججز نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد نواز شریف کو نا اہل کر دیا اور وہ 1973 ء کے آئین کے مطابق صادق اور امین نہ رہے۔ قانونی طور پر ایک بھونڈا فیصلہ تھا۔ کیس پانامہ پیپرز سے شروع ہوا اور نواز شریف کو اقامہ رکھنے اور اپنے بیٹے سے ایسی تنخواہ، جو انہوں نے وصول نہیں کی تھی، ظاہر نہ کرنے پر نا اہل کر دیا گیا۔

آپ کی منصفی کا جادو ہے
دل میں جو تیر ہے ترازو ہے

اسی دور میں ایک پٹیشن حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے نا اہلی کے لیے دائر کی۔ اس کیس میں hyper technicality کی وجہ سے عمران خان صادق اور امین قرار پائے، البتہ جہانگیر ترین کو balancing act کے طور پر قربانی کا بکرا بنا کر نا اہل قرار دیا گیا۔ ارٹیکل 62 1 f کے تحت تاحیات نا اہلی کا ذکر آئین میں موجود نہیں، یہ کارنامہ بھی اعلی عدلیہ نے انجام دیا۔ البتہ آج کی سپریم کورٹ اور چیف جسٹس بندیال کی رائے میں تاحیات نا اہلی بہت سخت سزا ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کا ایک شاندار فیصلہ فیض آباد دھرنا کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے دیا۔ اس فیصلہ نے ملک کے طاقت ور طبقے کو مشکل میں ڈال دیا۔ عمران خان کے دور میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر سپریم جوڈیشل کونسل میں قاضی فائز عیسیٰ کو ریفرنس کا سامنا کرنا پڑا۔ الزامات بے تکے تھے لیکن اس معاملے پر بھی قاضی صاحب کے کچھ brother judges نے ہولناک کردار ادا کیا۔ جسٹس گلزار چیف جسٹس بنے تو انہوں نے بھی انتظامی معاملات میں بھرپور مداخلت کی۔ کراچی سرکلر ریلوے سے لے کر نسلہ ٹاور، گرانے تک عجیب فیصلے کیے گئے۔ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے تو بدقسمتی سے آج بھی سپریم کورٹ میں ہم خیال بنچ موجود ہے جس کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ کیس لگنے سے پہلے ہی فیصلہ طے ہوتا ہے۔ چیف جسٹس صاحب سینئر جج صاحبان کو اپنے ساتھ کسی بنچ کا حصہ بنانا پسند نہیں کرتے اور نہ ہی کسی اہم سیاسی یا آئینی کیس میں یہ بنچ کا حصہ ہوتے ہیں۔ موجودہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں فوجداری تاویلیں استعمال کیں اور ایک ایسی تشریح کر ڈالی، جسے ملک کے جید قانون دان آئین سے کھلم کھلا انحراف اور Re۔ Writing of the Constitution گردانتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس کیس کا فیصلہ بھی تین دو کے تناسب سے آیا جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

پارٹی صدر اور پارلیمانی لیڈر کے اختیارات کے حوالے سے بھی فیصلہ کرتے ہوئے جناب چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اپنے ہی لکھے ماضی کے فیصلے کی نفی کردی۔ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات کے حوالے سے تنازعہ بھی سپریم کورٹ کی زینت اس وقت بنا جب ایک اور مقدمے میں دو جج صاحبان نے نوٹ لکھ کر چیف جسٹس کو نوٹس لینے کے لیے کہا، جبکہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے متعلق معاملات لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھے۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے پے درپے حکم نامے جاری کیے یہاں تک کہ یکم مارچ 2023 ء کے حکم نامے کے بعد سپریم کورٹ کے اندر موجود جج صاحبان کا فیصلہ تھا کہ یہ معاملہ چار تین کے تناسب سے مسترد کر دیا گیا ہے جبکہ چیف جسٹس اور ان کے ہمنوا جج صاحبان کے مطابق یہ معاملہ تین دو سے منظور کیا گیا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمان کی کی گئی قانون سازی کو نافذ العمل ہونے سے روکنے کے لیے Anticipatory Injunctionکو استعمال کیا گیا۔ اس کا مقصد چیف جسٹس کے سوموٹو لینے اور بنچ بنانے کے اختیارات کو محدود کرنے سے روکنا تھا۔

Facebook Comments HS