عمران خان، ماضی، حال اور مستقبل


کیا پاکستان میں تحریک انصاف کا مستقبل بطور سیاسی پارٹی مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے؟ تو اس سوال کا جواب نفی میں ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر پاکستان مسلم لیگ (ق) نے مشکل ترین حالات میں اپنا وجود برقرار رکھا تو پاکستان تحریک انصاف تو پھر ایک اہم ترین جماعت ہے۔ پرویز الہی پہ کیا الزامات نہیں لگے۔ قاتل لیگ تک کہا گیا لیکن پھر بھی وہ اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف بھی یقینی طور پر اپنا سیاسی وجود برقرار رکھ پائے گی۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو چاہے ہمارا اس سے شدید ترین اختلاف ہی کیوں نا ہو، سیاست کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اب یہ عوام پہ ہے کہ وہ اس سیاسی جماعت کے بلنڈرز پہ سوال اٹھاتے ہیں یا پھر اندھی تقلید کو ہی اپنائے رکھتے ہیں۔

دوسرا سوال، کیا پاکستان تحریک انصاف اب بھی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پہ کامیاب ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اس سوال کا جواب بھی یقینی طور پر ہاں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے قیام سے آج تک یقینی طور پر جہدوجہد کی ہے۔ اور اس میں کوئی شق نہیں کہ یہ جماعت میانوالی کی ایک نشست جیتنے سے 2018 کے عام انتخابات تک اپنا وجود پارلیمانی سیاست میں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 25 اپریل 1996 سے آج تک پاکستان تحریک انصاف کی جہدوجہد پاکستان میں حقیقی تبدیلی کے لیے رہی ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ خود پاکستان تحریک انصاف ہی تبدیلی کی ٹرین مس کر چکی ہے۔ 2002 کے عام انتخابات، 2007 کے انتخابات کے بائیکاٹ، 2013 انتخابات میں کامیابی، اور پھر 2018 میں اقتدار کی کرسی پہ براجمان ہونا۔ ان تمام واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا ہرگز بے جا نہیں کہ 27 سالہ جہدوجہد کا صلہ ملا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 2018 میں جب سادہ اکثریت نا مل پائی تو دو راستے تھے۔ پہلا یہ کہ مضبوط اپوزیشن کی جاتی اور ناکوں چنے حکومت کو چبوائے جاتے۔ دوسرا راستہ تھا کہ حکومت بنائی جاتی، مختلف پارٹیوں کو ملا کر۔ دوسرا راستہ اپنایا گیا۔ لیکن ایسے بے ڈھنگے انداز سے یہ راستہ اپنایا گیا کہ اب تو 27 سالہ جہدوجہد کا نعرہ بھی لگے تو توجہ اس جانب نہیں جاتی۔ عمران خان حکومت سنبھالنے کے اس قدر مشتاق تھے کہ الیکٹیبلز کی دوڑ میں حکومت تو بنا لی لیکن اپنا سیاسی قد بہت حد تک گرا لیا۔ کیوں کہ جب آپ الیکٹیبلز کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں تو کچھ لے اور دے کی بنیاد پر ایسا ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان تحریک انصاف اپنا وجود یقیناً برقرار رکھے گی۔ لیکن ایک پریشر گروپ کے طور پر، یا مخلوط طرز حکومت میں ایک حصہ پا کر۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف حقیقی تبدیلی کی نام لیوا اب بھی ہے تو اسے بلی کے خواب میں چھیچھڑے ہی کہا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں۔ کیوں کہ جس طرح 2018 میں حکومت بنائی گئی، جیسے اپنے دورِ اقتدار میں بڑھکوں پہ گزارہ کیا گیا، اور جس طرح مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا، اس سے تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔

تیسرا سوال، کیا اب بھی پاکستان تحریک انصاف پاکستان کی مقبول جماعت ہے؟ ہم کسی حد تک اس سوال کا جواب بھی ہاں میں دے سکتے ہیں۔ لیکن 2013 میں جو مقبولیت ملی اس کو مکمل طور پر کیش نہیں کروایا جا سکا۔ پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیوں کو ایسے کارکنان میسر ہوتے ہیں جو ہر اچھے برے کام پہ پارٹی کے خلاف بات کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ اور ہر حال میں اپنی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنے کو نظریاتی ہونے کا تمغہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایک ساکت جوہڑ بدبودار ہو جاتا ہے اور ایک بہتی ہوئی ندی میں تازگی رہتی ہے۔ اسی طرح ایک مخصوص سوچ اپنا لینا اور اس پہ ہر حال میں قائم رہنا ایسا ہی جوہڑ ہے جو بدبودار ہو جائے۔ اور اپنی پارٹی میں رہیں یا نا رہیں، اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنا، غلط کام پہ تنقید کرنا اور اچھے کام پہ توصیف کرنا ایک بہتی ہوئی ندی کی تازگی جیسا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہی ہے کہ جیسی اندھی تقلید دوسری سیاسی جماعتوں کو میسر آئی ہے ویسے ہی پاکستنا تحریک انصاف کے حصے میں آئی ہے۔ اور اس پارٹی کے کارکنان بھی یہ پوچھنا گوارا نہیں کر سکتے کہ جب امریکہ میں آپ نواز شریف سے اے سی، ٹی وی، اور دیگر سہولیات جیل سے واپس لینے کے نعرے لگاتے رہے تو اب اپنے لیے انہی سہولیات کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں؟ جیل تو سیاستدانوں کی نرسری شمار ہوتی ہے۔ اور شیخ رشید تو بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ جیل میرا سسرال، ہتھکڑی میرا زیور۔ تو یہی بات وہ عمران خان کو بھی سمجھا دیں۔ باقی چھوڑیے ہم ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کے کھوکھلے نعروں کو صحت کارڈ پروگرام اور بلین ٹری سونامی کی کامیابی کے ساتھ بھول جاتے ہیں۔ لیکن حقیقی تبدیلی کیا ہے؟ آپ میں اور پہلوں میں فرق کیا ہے؟

قرائن بتاتے ہیں کہ عمران خان نے جو نعرہ 126 دن لگائے رکھا کہ اشرافیہ اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے اور پروٹوکول لیتی ہے، انہی اپنے نعروں کے برعکس انہوں نے مکمل پروٹوکول سے لطف دورانِ اقتدار اٹھایا۔ بنی گالہ کو خصوصی حیثیت حاصل رہی۔ زمان پارک پہ بھی صورتحال مختلف نا تھی۔ عدالتوں میں نا پیش ہونے کے طعنوں کے بعد وہ خود کسی بھی عدالت میں مرضی سے پیش نا ہوئے۔ بارہا بلانے پہ بھی ساتھ والے کمرے میں بیٹھے ہوں مگر عدالت آنا ممکن نہیں تھا۔ انصاف کا نعرہ بنیادی نعرہ تو تھا لیکن خود انصاف کے کٹہرے میں نہیں آنا چاہتے۔ اور اب دورانِ قید بھی خصوصی پروٹوکول کے متمنی ہے۔ اور ایک درخواست سامنے آ چکی ہے کہ جس میں اڈیالہ جیل منتقلی کا زور ہے۔

عمران خان ماضی میں ایک قومی ہیرو تھے اور رہیں گے۔ 92ء کی فتح ان کے نام ہوئی۔ ڈکٹیٹر کے ساتھ کھڑے ہونے کے بعد "جہدو جہد” بھی کی۔ نواز حکومت کے خلاف کامیاب دھرنا بھی دیا۔ لیکن اقتدار ملا تو ان کی روش تبدیل ہو گئی۔ اور اب مستقبل بھی ان کا تابناک نہیں کہ وہ سیاسی لیڈر تو ہیں لیکن راہنما نہیں بن پائے۔ کیوں کہ راہنما کبھی جیل میں سہولیات نہیں مانگتے۔ یہ زباں اہل زمین ہے

Facebook Comments HS