محاسبہ



پاکستان کو بنے چھہتر برس کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم اس ملک کو کیا دیا۔ ہم سب ملک سے حکمرانوں سے لینے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن دینے کے معاملے میں ہم چپ سادھ لیتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ ہم اتنے سالوں میں آج تک اپنے لیے راہیں متعین نہیں کر پائے۔ ہم سب کو ترقی چاہیے پر آسائش زندگی چاہیے برابری کی بنیاد پہ قانون کا اطلاق چاہیے اپنے بڑے بڑے خوابوں کی تعبیر بنا کسی محنت اور انتظار کے چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے ہم کب تک ایسے ہی ایک ریوڑ کی مانند پر سکون کامیاب زندگی کے سیراب جیسے خواب کے پیچھے بھاگتے رہیں گے۔

چھہتر سال کا عرصہ کافی ہونا چاہیے ریوڑ کی مانند ایک قوم کی شکل میں رہنے کے لیے۔ اب ہمیں یقیناً ضرورت ہے کہ ہم سب بحیثیت قوم اور ذمہ دار شہری کے اپنی اپنی ذات کا محاسبہ کریں۔ اور اپنے آپ کو اس پہچان تک پہنچائیں جہان ہمیں ادراک ہو کہ ہم نے ایک ذمہ دار قوم کا طرح بننا ہے۔ اگر ہم ترقی چاہتے ہیں پر آسائش زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے مکمل ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کرنے ہوں گے کیونکہ حقوقِ و فرائض کا یہ سلسلہ ایک دوسرے سے باہم منسلک ہے۔ جب تک ہم اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی نہیں کریں اس وقت تک ہمارے ملک میں نا تو ترقی ہو سکتی ہے نا پرسکون زندگی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔

پاکستان سے کسی دوسرے ملک میں جا کے جو فرائض تندہی سے ادا کرنے ہیں کیونکہ ان فرائض کو پاکستان میں رہ کے پورا کیا جائے تاکہ کسی کو یہ حسرت ہی نا ہو کہ پاکستان سے چلے جاتے ہیں باہر سکون کی زندگی ہے۔ ہمارے تمام مسائل کا حل پاکستان سے چلے جانے میں نہیں ہے بلکہ پاکستان میں رہ کر پوری ایمانداری سے اپنی اپنی ذات کا محاسبہ کرنے میں اور ذمہ دار محب وطن پاکستانی ہونے میں ہے۔

ہر شخص با اصول ہر شخص با ضمیر

Facebook Comments HS