ہمارے نوجوان اور ذہنی الجھنیں


فرض کرتے ہیں کہ بیس سال پہلے فوت شدگان میں ایک آدھ کو موقع ملے کہ وہ جائیں اور اپنے پیچھے چھوڑی دنیا کا مشاہدہ کریں۔ یقین جانیں کہ وہ یہاں ایک دن کیا ایک لمحہ بھی گزارنا پسند نہیں کریں گے، کیوں؟ کیونکہ وہ جو اپنے پیچھے چھوڑ کے گئے تھے وہ یہ دنیا تھی ہی نہیں۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی بے ہنگم ایجادات نے دنیا کی شکل و شباہت ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ جس کو دیکھو سائنس کی چمک دمک میں ایسا کھویا ہے کہ اسے اپنے اردگرد کا کوئی علم ہی نہیں۔ آپ صرف اس دس سے بارہ انچ کے موبائل کو ملاحظہ کیجئے جس کے ایک بٹن کے کلک سے ساری دنیا جیسے آپ کے قدموں میں آجاتی ہے۔ اور انسان اسی کو ترقی کہہ بیٹھا۔

آج انسان ترقی کے معراج کو چھو چکا ہے۔ اور اس کی تازہ ترین مثال مصنوعی ذہانت ہے جسے عام فہم میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کہتے ہیں۔ یقیناً جس تیز رفتاری سے دنیا سائنس کے میدان میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے تو مصنوعی ذہانت جیسی ایجاد کوئی اچنبھے کی بات نہیں اور یقیناً یہ ہونا ہی تھا۔

ہر ایجاد کے دو پہلو مثبت اور منفی ہوتے ہیں۔ مثبت پہلو جیسا کہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اب انسانوں کے کرنے کے کام مشینی انداز میں، کم وقت میں مشین سرانجام دیں گے۔ لیکن جو اس کے مضر اثرات ہیں اور تادیر ہوں گے وہ انسان کی کاہلی، سستی اور نااہلی ہے کہ ہر وہ کام جو انسان سے منسوب تھا اب ایک بٹن کے ایک کلک سے مشین سر انجام دے گی۔

انسان کی تخلیق و تخیل مقید ہو کر رہ گئیں ہیں۔ انسان کا دماغ جو تجربات، تخیلات، تحقیقات اور ایجادات کی آماجگاہ تھی وہ مشین کے زیراثر چلی گئی ہیں اور انسان کاہلی کے دلدل میں دھنستا چلتا گیا۔

ہماری نوجوان نسل جو تحقیق سے کوسوں دور ہے اور شاید تحقیق جیسے لفظ سے ناآشنا بھی ہے، کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ کل کلاں کسی یونیورسٹی میں داخلہ اور اس کے بعد کسی بھی مضمون میں ریسرچ کرنا کتنا مشکل کام اور ایک نئی چیز کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا اور اپنی ریسرچ کی بنیاد پر کسی نئی ایجاد کا طرح ڈالنا، خود میں ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اس نئی دریافت جسے مصنوعی ذہانت کہتے ہیں، نے سب کچھ پر پانی پھیر دیا ہے، کیوں؟ کیونکہ اب نوجوان اپنی تحقیق تخیل اور ادراک کی بجائے اسی مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اسی پر اکتفا کر کے اپنی نام نہاد تحقیق کر لیتا ہے۔

دوسرا بڑا نقصان، میں بڑا نقصان اس لئے کہتا ہوں کہ سائنسی ایجادات کے نقصانات تو بہت زیادہ ہیں لیکن جو چیدہ چیدہ نقصانات ہیں ان میں دوسرا بڑا نقصان جو سائنس کی دنیا نے ہماری نوجوان نسل کو پہنچایا ہے وہ نوجوان نسل میں شارٹ کٹس سے راتوں رات امیر بننے کے خواب ہیں۔

چونکہ تقریباً آدھی دنیا آف لائن سے آن لائن میں منتقل ہو چکی ہے، اور ہوتے ہوتے تیسری دنیا کے ممالک بھی اندھی تقلید میں آن لائن بزنس، آن لائن پراڈکٹ کی خریداری، سوئی سے لے کر جہاز تک آنلائن خریداری اور اس کے لئے نت نئے کورسز اور ان کورسز کی چارجز جن میں اکثر فراڈ ہوتے ہیں، ہماری نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے تک لے آئی ہے۔

یقین جانیے ہمارے نوجوانوں کا کتاب سے رشتہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور شارٹ کٹس کے پیچھے ایک نا ختم ہونے والے ریس کا حصہ بن چکے ہیں۔ اوپر سے وہ لوگ جنہوں نے منٹور شپ جیسے لفظ کو پامال کیا ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کے اعصاب پر چھائے ہوئے ہیں۔ اور مختلف حیلوں بہانوں سے معصوم اذہان کو اپاہج کر رہے ہیں۔ نوجوان ان نام نہاد منٹورز کی اٹھک بیٹھک اور رہن سہن سے متاثر ہیں بلکہ احساس کمتری کا شکار ہو گئے ہیں، کہ ہم تو بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ لوگ بہت پیسہ کما کر بہت آگے نکل چکے ہیں۔

میری اپنی رائے میں ان منٹورز کے پیچھے بھی ایک لابی ہے جو ہماری نسل کو کتاب، تحقیق، تخیل، دریافت اور ایجادات سے روکنے میں لگی ہے اور ان جوانوں کو شارٹ کٹس میں لگا کر حلال حرام کی تمیز کیے بغیر مقابلے کے اس ریس میں دھکیل دیا گیا تاکہ یہاں پاکستان جیسے ممالک میں کوئی محقق اور مجدد پیدا نہ ہو بلکہ صرف سیلز مین پیدا ہوں۔ جو ایک آن لائن دکان سے ایک چیز اٹھائے اور دوسری آنلائن دکان میں فروخت کریں۔

Facebook Comments HS