فاٹا سیکرٹریٹ یا دائرے میں سفر


پاکستان میں عرصہ دراز سے اقتدار کے سنگھا سن پر بیٹھے اصل حکمرانوں کو کئی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ کوئی انہیں اشرافیہ گردانتا ہے کوئی مقتدر قوتیں کہتی ہے۔ کسی نے اسٹیبلشمنٹ نام رکھ دیا تو کسی نے انہیں خلائی مخلوق کے نام سے پکارا۔ حکمرانی اور اقتدار کی بات کرتے ہوئے بعض لوگ صرف مسکرا کر بتا دیتے ہیں کہ ان کا مطلب کون ہے۔ بعض لوگ تو ان سے محبت میں لائیو ٹاک شو میں بوٹ اٹھا کر میز پر رکھ دیتے ہیں اور اپنے آپ کو پاکستانی سیاست میں امر کر دیتے ہیں کیونکہ پھر ان کا اقتدار انہی جنات کی طرح لازوال ہوجاتا ہے۔ خواہ وہ کسی بھی پارٹی میں نہ ہو ان کے پاس کوئی عہدہ نہ ہو ان کے پاس بیچنے کو کوئی سودا نہ ہو مگر وہ ہر روز کسی نہ کسی چینل پر بیٹھ کر قوم کو اپنے فرامین سے نوازتے رہتے ہیں۔ بعض ہم جیسے ان روایات سے نابلد کھوپڑی میں کافی کچھ ہونے کے باوجود اس لئے سکرین سے آؤٹ اور گمنام ہو جاتے ہیں کہ وہ طاقت اور ہوا کے ساتھ چلنے کی بجائے آئین اور عوام کے ساتھ چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ابتدائی بات تھوڑی سی لمبی ہو گئی۔ مگر یہ لکھنا ناگزیر تھا تاکہ عوام کو کم از کم سمجھ آ سکے۔ کہ وقت کا پہیہ الٹا گھمانے کی کوشش کون کر رہا ہے اور کس لئے۔

قارئین کو آگاہ ہونا چاہیے کہ فاٹا انضمام کی کہانی دو چار دنوں کی بات نہ تھی۔ اس کے لئے قبائلی عوام، سیاسی جماعتوں سول سوسائٹی اور نوجوانوں نے بیس سال جدوجہد کی تھی۔ تب کہیں جاکر ملکی اور غیر ملکی حالات موافق ہو گئے اور عسکری و سیاسی قیادت نے مل کر ایف سی آر کے کالے قانون کو مٹانے اور قبائلی عوام کو پاکستانی قوانین اور انسانی حقوق فراہم کرنے کا مشترکہ فیصلہ کیا۔ اس کے لئے سینیٹر سرتاج عزیز صاحب کی قیادت میں ایک اعلی سطحی چھ رکنی کمیٹی نے چھ مہینے دن رات کام کیا۔ باجوڑ سے وزیرستان تک عوام کی رائے معلوم کی گئی۔ سفارشات تیار کیے اور پھر ان سفارشات پر ایک مرتبہ پھر تمام سیاسی قوتوں اور عسکری قیادت کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے اور پارلیمنٹ کی اجتماعی دانش سے انضمام کے لئے آئین میں ترمیم کی گئی۔ اس بیس سالہ جدوجہد کی داستان میری کتاب (فاٹا انضمام کی کہانی) میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دو ہزار اٹھارہ میں بننے والی نئی حکومت سرتاج عزیز کمیٹی کی جامع رپوٹ کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل تیار کرتی۔ اور گزشتہ پانچ سال میں ان سفارشات پر اس کی روح کے مطابق من و عن عمل کرتی۔ پھر پتہ چلتا کہ کیا اجتماعی دانش کا فیصلہ درست تھا یا غلط۔ مگر مقام افسوس ہے کہ جس سلیکٹیڈ حکومت نے چار سال میں باقی ملک کا بیڑا غرق کیا انھوں نے انضمام کا بھی ستیا ناس کر کے قبائلی عوام کو مایوس اور انضمام کے حامیوں کو اپنے کیے پر پچھتا دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس مایوسی اور پچھتاوے کا حل یہ ہے کہ ہم وقت کا پہیہ الٹا گھما دے۔ کیا ہم دائرے میں سفر کرتے ہوئے واپس اسی جگہ پہنچے ہیں جہاں ہم دو ہزار اٹھارہ سے پہلے تھے۔ میرا نہیں خیال کہ ان مسائل اور عوام کی مایوسی کا حل فاٹا سیکرٹریٹ کی بحالی ہے۔

پہلا سوال تو قابل احترام آرمی چیف صاحب سے ہے۔ کہ ایک ایسے مشکل دور میں جب ہائی بریڈ نظام کے ناکام تجربے کے بعد فوج پر سیاست میں عدم مداخلت کے لئے کافی دباؤ ہے۔ اور آپ سے پہلے جنرل باجوہ صاحب کھل کر اعتراف اور مزید عدم مداخلت کا اعلان کر چکے ہیں۔ آپ ایک ایسے غیر منتخب، سلیکٹیڈ اور مراعات یافتہ ملکان صاحبان کے سو رکنی جرگے کے مطالبے پر پچاس لاکھ قبائل کے مستقبل کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ جس میں نہ سیاسی جماعتیں موجود تھیں نہ سول سوسائٹی، نہ لائرز کمیونٹی، نہ مقامی صحافی اور نہ انضمام کے حامی۔

دوسری بات یہ کہ یہ ایک بہت بڑے ایکسرسائز کے بعد اجتماعی دانش سے ایک سیاسی اور جمہوری فیصلہ ہوا تھا، فاٹا سیکرٹریٹ کا خاتمہ کرپشن کی روک تھام، پشتون عوام کے اتحاد، جمہوری اور سیاسی حکمرانوں کو طاقتور بنانے اور قبائل کو ملکی قوانین اور قومی دھارے میں شامل کرنے کی دانستہ کوشش تھی۔ کیا فاٹا سیکرٹریٹ کے قیام سے علیحدہ صوبے کے حامیوں کو شہ نہیں ملے گی کیا انضمام کے مخالفین اور کرپٹ افسران میں دوبارہ جان پیدا نہیں ہوگی، کیا سیاسی لوگ اس عمل کو طالبان کے اس مطالبے کے ساتھ نہیں جوڑیں گے کہ فاٹا انضمام کا خاتمہ کر کے یہ علاقہ واپس ان کے حوالے کیا جائے۔

اس لئے آرمی چیف صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ مہربانی کر کے چند مفاد پرست افراد اور بیوروکریٹ کے مطالبے پر فاٹا سیکرٹریٹ کی بحالی کی بجائے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ اس میں قبائلی عوام کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیے جائے۔ مقامی حکومتوں کو فنڈز اور اختیار دیا جائے۔ اور ڈی آر سیز کو باقی صوبے کی طرح ریگولرائز کر کے اس پر چیک رکھا جائے۔ ترقیاتی فنڈز کا اجرا اور جاری سکیموں میں کرپشن کی روک تھام کی جائے۔ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ اس طرح عوام کی مایوسی سالوں میں نہیں مہینوں میں ختم ہوگی۔ نہ قبائل دائرے میں سفر کریں گے نہ فوج پر الزام لگے گا کہ وہ فاٹا کو واپس پتھر کے دور میں بھیجنا یا طالبان کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔

Facebook Comments HS