بلوچستان اور وزیر اعظم
کچھ ہی دیر قبل اعلان منظر عام پر آ چکا کہ نگران وزیر اعظم کے لئے چھوٹے صوبے سے انوار الحق کاکڑ کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے۔ جو قابل صد تحسین اور حوصلہ افزاء ہے۔ اگر چہ بلوچستان والے حد درجہ نا امیدی کی وجہ سے متعلقہ خبر کو ایک خواب کی مانند سمجھ کر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یا اگر یقین کر بھی لیں تو زندگی بھر کے اندھیروں نے اتنا خوف زدہ کیا ہوا ہے۔ کہ انہیں اپنے اس پسماندہ صوبہ بارے خیر کے فیصلوں کی کوئی توقع ہی نہیں ہے۔
نتیجتاً ان جیسے فیصلوں کو بھی اپنی مستقبل کی بے تابیوں اور تاریکیوں کو دوچند کرنے کا اگلا قدم سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ان بے چاروں کو قسطوں میں بٹی موت مارنے جب بھی کوئی آیا تو اپنا آیا غیروں کے احکام اور ایجنڈے لے کر۔ اب یہ تو وقت بتائے گا کہ بڑوں کا بلوچستان کے لئے حالیہ لطف کسی زخم کا عنوان ثابت ہوتا ہے، یا پھر مرہم کا کام دے کر ان کے لئے رحم دلی کی کوئی دلیل۔
لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ سیاستدان جو بھی ہوں ہاتھی کے دانت ہوتے ہیں۔ کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ تو کوئی بہت زیادہ خوشی کی بات نہیں ہے۔ اس لئے کوئی بہت بڑی امید نہیں لگا لینی چاہیے۔ تاریخ بھری پڑی ہے بلوچستان کی قربانیوں اور حصول مطالب کے بعد اسے ایک قبرستان گردان کر اپنی حالت پر چھوڑ دینے سے۔ جس کے انحطاط و زوال کے صف اول کے سپاہی وہی سردار و نواب ہیں جو رات کا نوالہ پانے کو ایک مزدور کے پاؤں کی مٹی تک بنتے۔
اور ادھوری عقل آنے پر محدود و مختصر مسند کے لئے اپنے چہیتوں سمیت گراں قدر وطن کے سودے کر کے خون خوار جنگلی بنے ہوئے ہیں۔ اتنی بڑی تاریخ سامنے ہونے پر بھلا کوئی کیا امید لگا سکتا ہے۔ اسے قبرستان سے تعبیر کرنے کا مطلب وہاں کے خون خوار اور ہر صاحب مسند بڑوں سے طریقے سیکھ چکے ہیں کہ بخت کے تخت سے اترتے ہی عیش مملکت کو معیوب دیکھ کر یورپ کے مزے لوٹنے بھاگ جاتے ہیں۔ مختصر مدت میں عروج ملنے پر قابو میں رہنا ذرا نہیں زیادہ مشکل ہے۔
کیونکہ بغیر مشقت جو بھی چیز ملتی ہے نچا دیتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے نگران وزیر اعظم صاحب کو بھی صاحب مسند ہوتے کوئی بہت وقت نہیں لگا۔ تو اس تعیناتی کو ہم کس رحم کا نام دیں۔ موصوف 2018 میں آزاد حیثیت سے ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے۔ اور اس پانچ سال کی مختصر ترین مدت میں وزارت عظمی کی کرسی کو چھو لی۔ ورنہ اس سے جڑتے چمٹتے یا پھر الگ ہونے کو کس کس رخ کا سامنا کرنا ہوتا ہے تو جانے والوں کی شکلیں سب کو یاد ہیں۔
بلوچستان میں حکومت منتخب کیسے ہوتی ہے؟ لوگوں کو کیا قربانیاں دینی ہوتی ہیں؟ کیونکہ نوابوں کے بچوں کو کیپیٹل اور یورپ کے سیر سپاٹے بھی کروانے ہوتے ہیں۔ وہاں کی انفرادی زندگی کیسی ہوتی ہے؟ لوگوں کو کتنا رلایا گیا ہے؟ اور وہاں کے لیڈروں کی بے حسی بڑھتے بڑھتے معاشرے پر کیا اثرات چھوڑتی ہے؟ وہاں کے مسائل کا حل کیا ہے؟ تو یہ سب وہ باتیں ہیں کہ جسے اتنی آسانی سے کچھ ہی جملوں میں سمیٹنا مشکل نہیں ناممکن ہے۔ اور لکھ بھی لیں تو ان کی بے شعوری اتنی محدود نہیں کہ کچھ لکھے پڑھے دانشوروں کی مکتوبات سے ان کے نشے اتر جائیں۔ اس لئے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ پاک ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنادے۔ صوبہ بلوچستان پر رحم فرمائے۔ ہر خائن کو عبرت کا نشان بنا دے۔


