آزادی کا جشن تعمیری جذبہ کے ساتھ


14 اگست کو وطن عزیر پاکستان کا 77 واں یوم آزادی ملی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی یکم اگست سے ہی سرکاری، نجی اور عوامی سطح پر جشن آزادی کی تیاریاں جاری ہیں۔ تمام شہروں، بازاروں اور چوکوں چوراہوں میں آزادی کی مناسبت سے بچوں و بڑوں کے پسندیدہ سبز و سفید ملبوسات، جیولری، قومی پرچم، سامان میوزک یعنی تفریح اور جشن کے تمام لوازمات نے ماحول کو سرسبز بنا دیا ہے۔ شاہراہوں، عمارتوں، گھروں اور گاڑیوں پر سبز ہلالی پرچموں کی بہاریں جوبن پر پہنچ چکی ہیں۔ دیگر تہواروں اور خصوصی ایام کی طرح جشن آزادی کی تیاریوں میں بچوں کا جوش و خروش قابل دید ہے۔ سرکاری محکمہ جات، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی، سماجی تنظیموں، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مختلف سوسائٹیز کے زیر اہتمام رنگارنگ تقریبات کی تیاریاں اور انعقاد عروج پر ہیں۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار اقوام اپنے قومی ایام کو دھوم دھام سے مناتی ہیں۔

یوم آزادی منانے کے لیے بھرپور تیاریاں انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ لیکن یوم آزادی پر ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہو گا کہ کیا ہم 76 سال گزرنے کے بعد منزل پر پہنچ پائے ہیں؟ ریاست مدینہ کی طرز پر قائم ہونے والی اس مملکت خداداد میں کیا 14 سو سال قبل وضع ہونے والے اصولوں اور قوانین کی پاسداری ممکن ہو سکی ہے؟ 77 ویں یوم آزادی پر حکمران، ادارے اور عوام مشاہدہ کریں کہ کس حد تک ذمہ داریاں پوری کی گئی ہیں۔

جشن آزادی کے اس پر مسرت اور مبارک موقع پر ذمہ داریوں کا احساس اجاگر کرنا ہو گا۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے سینکڑوں فٹ کی بلندی پر قومی پرچم لہرانے والے حکمرانوں سے جان کی امان پا کر ہم نے عرض کرنا ہے شہری غربت، مہنگائی اور بھوک سے عاجز آ کر بچوں سمیت خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ پرچم کی تیاری پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بجائے بھوک کے خاتمہ اور قرض کے بوجھ سے نکلنے کے لیے کوشش زیادہ ضروری ہے۔ غیر جمہوری طاقتوں کو تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی کہ مصور پاکستان علامہ محمد اقبال نے اسلامی فلاحی ریاست کا تصور پیش کیا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے جمہوری وطن کے لیے جدوجہد کی تھی اس لیے عوامی رائے یا ووٹ کو عزت بخشی جائے۔ مذہب کے ٹھیکیداروں کو باور کرانا پڑے گا یہ ملک سب کا ہے جہاں مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ اقلیتوں کے حقوق متعین کیے گئے تھے۔ جشن آزادی منانے والے اس ملک کے ووٹرز کو یہ شعور دینا ہو گا کہ سامراجی نظام کو للکارنے والے آزادی پسندوں کے خلاف غداری کر کے مراعات سمیٹنے والے نوابوں، جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادیں آج بھی اقتدار پر براجمان ہیں اس لیے اپنے ووٹ کو قابل عزت بنائیں۔ طلبہ کو قیام پاکستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا جائے تاکہ نوجوان نسل آزادی کی قدر سے روشناس ہو سکے۔ تعلیمی اداروں کو اس امر کا پابند بنانے کی ضرورت ہے کہ 14 اگست کی تقریبات کو سادہ اور معلوماتی رکھیں۔ والدین مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے ہیں اس لیے مختلف تقریبات کے نام پر والدین پر مزید بوجھ نہ ڈالیں۔ محکمہ جات اور اداروں میں مختلف عہدوں پر فائز کچھ کرپٹ اور راشی عناصر کو باور کرانا پڑے گا لوٹ مار سے ریاست کمزور ہوتی ہے خدانخواستہ ملک ہی نہ رہا تو یہ عیش و مستی بھی ختم ہو جائے گی۔

جشن آزادی کی خوشی میں رقص و سرور کی محافل سجانے والوں کو بتانا ہے کہ قیام پاکستان کی تحریک میں ہزاروں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوئی تھیں۔ باجے بجا اور گولے پھوڑ کر شہریوں کا سکون غارت کرنے والے آزادی کے متوالوں کے گوش گزار کرنا ہو گا جدا مملکت کے حصول کی جدوجہد میں دریا بھی ان گنت شہداء کے مقدس خون سے رنگین ہوئے تھے۔ بغیر سائلنسر موٹر سائیکل سوار ون ویلر کو سمجھانا ہو گا یہ وطن لاکھوں جانیں قربان کر کے حاصل کیا گیا تھا۔ آزادی کا جشن منائیں لیکن بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی کریں۔

یوم آزادی جشن اور خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ تجدید عہد اور جائزہ کا دن بھی ہے۔ ہر سال یوم آزادی پر ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ گزشتہ سال ملکی ترقی اور بہتری کے لیے بحیثیت پاکستانی کیا کردار ادا کیا ہے۔ اس عہد کی تجدید کریں کہ آنے والی نسلوں کو آج سے بہتر پاکستان منتقل کریں گے۔ پاکستان کو بہتری کی طرف لے جانے میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ خوش قسمتی سے ہماری آبادی کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو اس ملک کا مستقبل ہیں۔ باہمی اختلافات کو دشمن کا ہتھیار نہ بننے دیں۔ سیاسی نظریاتی اختلافات رکھیں لیکن ان اختلافات کو نفرتوں اور دشمنیوں میں نہ بدلیں۔ قومی مفاد، سالمیت اور خود مختاری کے لیے متحد رہیں۔ اب وقت آ گیا ہے نوجوان دانشمندی اور شعور سے وطن عزیر کو مسائل کی دلدل سے باہر نکالیں۔

Facebook Comments HS