حکمران خاندان اور توشہ خانہ


پاکستان کو ایلیٹ کلاس نے اپنا کلب بنا لیا ہے۔ چند سیاسی خاندانوں کو اقتدار کی چھڑی چاہیے اور اس کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ نادار و مفلس عوام کے لئے تو یہ ملک اچھا قبرستان بھی نہیں ہے۔ پورا ملک اس پانچ فیصد اشرافیہ کے لئے تفریحی مرکز بنا ہوا ہے، جو سیاہ کرے یا سفید کرے، ان کے لئے کوئی قید یا کوئی بندش نہیں ہے لہٰذا ان کے لئے پاکستان کے قومی وسائل توشہ خانہ ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو اداروں سے دھونس کے بل پر ریلیف حاصل کرنا حکمران طبقات اور حکمران خاندانوں کے لئے کوئی بڑی بات نہیں۔ کچھ تاریخی ریلیف ایسے ہیں جو شاید عوام کبھی فراموش نہ کرسکیں، حمزہ شہباز کو چھٹی والے دن گھر کی بیسمنٹ میں ریلیف دیا گیا۔ مریم نواز کو جیل میں بند کرنے کی باری آئی تو صبح گئی اور دوپہر تک ان کی ضمانت ہو گئی بلکہ اس کے بعد نیب کی تاریخ کا بدترین واقعہ پیش آیا۔ اس ادارے کی کھڑکیاں پتھراؤ کر کے توڑنے اور نیب حکام کو ڈرانے دبانے کی کوشش کی گئی۔ یہی نہیں بلکہ الٹا یہ کہا گیا کہ کم از کم گرفتاری سے 10 دن پہلے بتایا جانا لازم تھا۔

عوام ان نام نہاد لیڈرز کو کس طرح بھول سکتے ہیں جو سینہ تان کر کہا کرتے تھے کہ میرے اثاثہ جات میرے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں تو کسی کو کیا تکلیف ہے۔ یاد ہے وہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی جو کہتا تھا کہ نیب کی کیا مجال جو مجھے گرفتار کرے۔ 37 حاضریوں، استثنا کی درخواستیں منظور ہونے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں چار گواہان کو نہ سنا جانا بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ قانون کی اس پانچ فیصد طبقہ کے گرد گھومتی انصاف کی دیو داس آنکھیں بند کیے رقص کیے جا رہی ہیں۔ کہاں ہے جمہوریت؟ عوام اور حکومتی اداروں کو ہپناٹائز کیے سسٹم کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، یہ صرف وہ چند خاندان جانتے ہیں جو مسلسل پورے پاکستان کے وسائل اور اثاثوں کو توشہ خانہ کی طرح استعمال کر رہے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے وہی خاندان جو اپنی مرضی سے قانونی اداروں کو استعمال کرنے کے عادی ہیں سب سے زیادہ ملک میں چوری کا شور کیے ہوئے ہیں۔

پنجابی کے ایک شعر کا مصرعہ ہے
وچوں وچوں کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جاؤ

اس ملک میں انقلاب کے لئے کوئی نیا مرد مومن اپنے پاؤں کس طرح جما سکتا ہے۔ کس طرح یہ پانچ سے دس فیصد لوگ کسی نئے آنے والے کو اس سسٹم کا حصہ بننے دیں گے جبکہ یہ ہر ادارے کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہے ہیں۔ یہاں حکومت تبدیل ہوتی ہے تو ساتھ ہی قانون میں ترمیم یا نرمی کرتے ہوئے اپنی بدترین کرپشن کے تمام مقدمات ختم کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں یعنی انہیں ان کی مرضی کے مطابق این آر او مل جاتا ہے تاکہ آئندہ انتخابات کے لئے پوتر ارواح یعنی دودھ کے دھلے سیاسی کردار نئی مہم اور پرانے انداز کے ساتھ سرخرو ہو سکیں۔ لفظ جمہوریت صرف استعمال کرنے کے لئے ہے عملی پیرہن قابل قبول نہیں۔ کس طرح بدلے گا یہ نظام؟ اس ملک میں کس طرح نیا انقلاب یا کوئی نجات دہندہ آئے گا؟

اگر جمہور اپنے جمہوری حقوق کے لئے سڑکوں پر نکل آئے تو ان پر پتھراؤ اور آنسو گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ 9 مئی کے سانحہ میں جن نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر گھروں سے اٹھا کر ان پر تشدد کے بعد ان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ کیا وہ نوجوان دہشت گرد تھے؟ یا محض ان کو ایک مخصوص جماعت سے دور کرنے کے لئے انہیں ڈرایا دھمکایا گیا یا سمجھایا گیا کہ قانون بدلے جا سکتے ہیں۔ نیب کے دروازے کھڑکیاں توڑے جا سکتے ہیں لیکن حق رائے دہی کی آزادی کا حق استعمال کرنے کی بھی آزادی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین) لیکن ان حالات میں مزید گزارا کرنا انتہائی دشوار ہے اور ایسے سازگار حالات بھی نہیں کہ کوئی امید کی کرن نظر آئے۔ عوامی سطح پر ریلیف ملنا ان کا بنیادی حق ہے۔ حکومت کوئی بھی آئے عوام کے ووٹ سے آئے اور انہیں ڈیلیور کرے ناں کہ پی ڈی ایم کی مانند اپنی توانائیاں اپنے اپنے کرپشن کے مقدمات ختم کرنے پر صرف کریں۔

Facebook Comments HS