بے توقیری، ناامیدی اور امید کا چراغ

بشرطیکہ مایوسی کا اظہار قابلِ دست اندازی پولیس نہ قرار پایا ہو، ازکارِ رفتہ سپاہی کو یہ کہنے میں کوئی تامّل نہیں کہ وطنِ عزیز جس طرح آج یاس و ناامیدی کے گہرے سیاہ بادلوں میں گھرا ہے کم ازکم ہماری عمر کے پاکستانیوں کواپنے ہوش میں ایسا ماحول یاد نہیں۔ سیاست اورمعاشرت میں زوال، معیشت میں ابتری اور سلامتی کو لاحق خدشات۔سقوطِ پاکستان کا سیاہ ترین دن جنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، بالخصوص اُن میں سے وہ کہ جنہوں نے جناح کے پاکستان کو بنتے بھی دیکھا ہو، اُن کے دکھ کا بیان تو ہمارے بس کی بات نہیں۔ تاہم یہ بھی ضرور ہے کہ سانحے کے فوراََ بعد قوم کے اوسان بحال ہوئے تو بچا کھچا پاکستان آئین سازی پر یکسو ہو گیا۔ 1973ء میں لکھا گیا آئین کثیر القومی ریاست کو یکجا رکھنے کا ضامن بن کر وجود میں آیا۔ شہریوں کو زمین پر اللہ کی حاکمیتِ اعلیٰ کا وارث قرار دیا گیا۔ اپنے حکمرانوں کے انتخاب کے لئے عوام کو دیا گیا ووٹ کا بر وقت حق اٹل قرار دیا گیا۔ سیاسی جماعت بنانے، کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے اور پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے، تحریر و تقریر اور ملک کے طول وعرض میں سفرکرنے، آباد ہونے، ملازمت و کاروبار کرنے کی آزادیوں کو بنیادی حقوق کی طویل فہرست میں شامل کیا گیا۔ اسی آئین میں طے شدہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مقننہ کو شہریوں کی بہبود و سلامتی کی خاطر قانون سازی، عدلیہ کوانصاف کی فراہمی، آئین کی پاسبانی جبکہ انتظامیہ کو شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت، عوام الناس کی فلاح و بہبودکا ماحول پیدا کرنے، ان کی تعلیم اور صحت و سلامتی کے اسباب پیدا کرنے کے لئے ذمہ دارٹھہرایا گیا۔
1973ء کا آئین ایک زندہ دستاویز ہے۔ چنا نچہ کئی دست درازیوں کے باوجود کسی نہ کسی شکل میں دستورکی اصلی روح سبز کتاب کے اندردھڑکتی رہی ہے۔ کم ازکم دو مواقع پر آئین کو معطل کیا گیا۔ متعدد مرتبہ اس کی شکل بگاڑی گئی، لیکن کسی میں یہ ہمت نہ ہوئی کہ اس کی جگہ پر کوئی نیادستور لے آئے۔ مسخ شدہ حالت میں بھی قوم کی امیدیں اسی ریاستی میثاق کے ساتھ جڑی رہیں۔ ناصرف سویلین بلکہ فوجی حکمرانوں کے دو ادوار کاخاتمہ اورسویلین حکمرانی کے ہر دورکا دوبارہ آغاز بھی اسی آئین کی عملداری میں وقوع پذیر ہوا۔ حال ہی میں اسی آئین کی پچاسویں سالگرہ منائی گئی ہے۔ ایک ایسے لاچار ضعیف شخص کی سالگرہ، جو سارا سال توڈیوڑھی میں تنہا پڑا کھانستا رہتا ہو، اچانک مگر ایک دن جسے نہلا دھلا کر سب گھر والے اس سے کیک کٹواتے تصویریں بنوا رہے ہوں۔ فوٹو سیشن کے بعد مگر وہی ڈیوڑھی میں واپسی! قومی اسمبلی میں آئینِ پاکستان کی پچاسویں سالگرہ منائے جانے کے موقع پرنامزد چیف جسٹس آف پاکستان بھی موجود تھے۔بدقسمتی سے فضاء مگر کچھ اس قدر بد گمانی سے بھری پڑی تھی کہ اگلے ہی روز انتہائی ناموافق عوامی رد عمل کی بناء پر اجلاس میں اپنی غیر معمولی شرکت پر انہیں وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا۔ جسٹس عیسیٰ کی پارلیمانی تقریب میں شرکت سے متعلق اُن کی نیک نیتی پر شک کرنے کی ہمارے پاس بظاہرکوئی وجہ نہیں۔ ان کی شرکت پر کوئی اور بھی اعتراض نہ کرتا، اگر پارلیمنٹ عین ان دنوں عدلیہ سے کھلم کھلا محاذآرائی پر تلی نہ ہوتی۔ اس حکومت کی پشت پر نہ کھڑی ہو جاتی جو آئین سے روگردانی اور سپریم کورٹ کے احکامات کی عدم عدولی کے لئے اُسے استعمال کر رہی تھی۔نتیجے میں ایک انتہائی اہم تقریب بد مزگی کا شکار ہوکر رہ گئی۔ اس سے بڑانقصان مگر یہ ہوا کہ اسی پارلیمنٹ کی مدد سے حکومت وقت بالآخر سپریم کورٹ کو عضو معطل بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ چند درجن ارکان کے سر پر وہ وہ قانون سازی کی گئی کہ جس کا صاف مقصد چند مخصوص افراد کے مفادات کا تحفظ اور اس کے لئے اعلیٰ عدلیہ کے پر کاٹنا مقصود نظر آرہا تھا۔ اس جنگ کا نقطہ عروج پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کے سر پر منعقد کیا جانے والا وہ جلسہ تھا کہ جس میں کی گئی ایک تقریر سال1998ء میں سپریم کورٹ پر کئے گئے حملے سے زیادہ خوفناک تھی۔ اب کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مزید ایک آدھ ماہ میں سپریم کورٹ کا وقار چٹکی بجاتے ہی بحال ہو جائے گا۔ کاش ایسا ہی ہو!
دوسری طرف پارلیمنٹ نے کیا کھویا،کیا پایا؟ اس کا اندازہ حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کے آخری اجلاس کے بعد آنے والے عوامی ردعمل کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اور تو اور، خود شاہد خاقان عباسی صاحب کو آخری دن انگلی کٹوا کر شہیدوں میں شامل ہونے کا خیال آگیا۔ اپنی الوداعی تقریر میں بلاول زرداری بھی اپنے اور مریم نواز کے لئے’موافق حالات’پیدا نہ کرنے پر شاکی نظر آئے۔ کاش ہر دو حضرات یہ آوازیں اس وقت بلند کرتے جب پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر حکومتی ارکان عدلیہ کو نام لے لے کر تضحیک کا نشانہ بناتے رہے۔ اپوزیشن کے بغیر یکطرفہ ایوان چلانے پر مصر رہے۔ جس راستے سے پارلیمنٹ وجود میں آئی، اسی کو مسدود کرنے کی خاطر پارلیمنٹ کو بے دریغ استعمال کرتے رہے۔ ایک کرم خوردہ پارلیمنٹ کی پے در پے متنازعہ قانون سازی پر تو اِس کے آخری دنوں میں خود اتحادی بھی چیخ اٹھے تھے۔بانتظامیہ کی جانب سے آئین، پارلیمنٹ اور عدلیہ کی بے توقیری کا ہی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج بدقسمتی سے شاید ہی کوئی آئینی عہدہ بچا ہو جو بے وقعت ہونے سے رہ گیاہو۔ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے کو جس طرح بےتوقیر کیا گیاہے، اسے ملکی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طورپر یاد رکھا جائے گا۔ اگلے انتخابات میں جوقائدِ حزبِ اختلاف ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہش مند ہیں، آج کل وہ نگران وزیرِ اعظم کے انتخاب میں وزیرِ اعظم سے ‘اختلاف’ کرتے ہوئے بتائے جاتے ہیں۔نتیجے میں،بایک غیر جانبدارنگران حکومت کا بنیادی تصور ہی فنا کر دیا گیاہے۔ اب کوئی ماننے کو تیار نہیں کہ نگران حکومت کی نگرانی میں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہے۔ اب بھروسہ کیا جائے توکس پر؟ الیکشن کمیشن پر؟ کسی اور ادارے پر؟ وائے ناکامی۔ وائے ناکامی۔چار سو اندھیرا ہے۔ ناامیدی کفر تو ہے ہی۔کیا جرم بھی ہے؟
مایوسی کے اندھیرے سے نکلنے کا اب ایک ہی حل ہے۔ یہی امید کا آخری چراغ ہے۔ ہم جیسے 9مئی کے سیاہ دن کے بعد بھی جس کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں۔ درجہ حرارت کو کم کرنے، قومی اتفاقِ رائے پیدا کئے جانے میں ہی نجات ہے۔ قومی اتفاقِ رائے کے بغیر اب انتخابات بھی بے سود ہوں گے۔ بہت سے دل نفرت میں ڈوبے ہیں۔ مار دو، پکڑ لو، اب چھوڑنا نہیں۔ اپنی بقاء کے لئے جو کسی اورکے کندھے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ناامیدی کے اندھیروں سے نکلنے کے لئے مگر ہر دو اطراف سے نفرت کوشکست دیئے جانے کے سوا اب کوئی چارہ نہیں۔ آئین کی عملداری کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

