اندھا


چندہ جمع کیا جا رہا تھا۔

مجھے بھی خبر دی گئی، میں نے اور میرے باقی تینوں بھائیوں نے حتیٰ المقدور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ میری بیوی، بہن، بیٹی اور ماں نے اپنے زیورات تک عطا کر دیے۔ جیسے کسی دانشور نے اپنے نطق کے الفاظ خیرات کر دیے ہوں۔

ہم بہت خوش تھے۔ ہماری آنکھیں قلب و نظر کی آسودگی کے باعث چمک رہی تھیں۔ ہم چاروں خاندانوں کا خیال تھا کہ ابا حضور ضرور اپنے گھر کے بارے میں بہتر سوچیں گے۔ جس کے لیے گھر کے چھوٹے بڑے ہر کسی نے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا تھا۔

ابا حضور نے بڑے طمطراق اور شاہانہ انداز میں پورے گھر کا جائزہ لیا۔ جس میں انہوں نے چاروں خاندانوں کے مسائل بڑے غور سے سنے اور وعدہ کیا کہ میں سب کی حالت بہتر سے بہترین کرنے کی کوشش کروں گا۔

ابا حضور کے اس جملے نے ہماری جملہ پریشانیوں کو یوں رفع کیا جیسے کسی مسیحا نے کوڑھی کے مریض پر مسیحائی کا ہاتھ پھیرا ہو۔ ہماری آنکھوں میں خوشی کے آنسو جھلملانے لگے اور باہم دگر معانقہ شروع ہوا۔ جس سے آنسو آنکھوں کے ساحلوں سے سفر کر کے خشک رخساروں پر آ ڈھلے۔

میں چپکے سے اٹھا، وضو کیا، نماز شکر کے لیے اندر کمرے میں داخل ہوا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی، جہاں گھر کے کئی افراد پہلے ہی سجدۂ شکر بجا لا رہے تھے۔ آنسو دوبارہ محو سفر ہوئے۔

ابا حضور کے ٹھاٹ باٹھ بڑے نرالے تھے۔ نیا اور خوبصورت لباس تا کہ ہماری عزت میں اضافہ ہو سکے۔ اونچے شملے والی دستار، جس سے ہماری قامت اور شان کا اندازہ ہو سکتا تھا۔ لکڑی، لوہے، پیتل اور تانبے سے بنا دیدہ زیب و خوش نما عصا، جس پر ابا حضور کی گرفت ہماری کامیابیوں پر دسترس کو ظاہر کر رہی تھی۔ نظر کی ابھری ہوئی عینک جو دونوں آنکھوں، کانوں اور ناک کو یوں ملا رہی تھی جیسے ہم سب کی وحدت کا نمونہ ہو اور ابھرے ہوئے شیشوں کے پیچھے چمکدار آنکھیں جس میں روشن مستقبل کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ ہاتھ پہ سونے کی گھڑی جس سے ہمارے وقت کے قیمتی ہونے کا احساس اجاگر تھا۔ جوتا اتنا دلکش اور با رعب کہ جس کی نظر جوتے پہ پڑے وہ اس سے نظر ہٹا کر اوپر نہ دیکھ سکے اور ہمارے قدموں میں ہی اپنے تمام عزائم زیر کر کے ہماری ہاں میں ہاں ملائے۔ چال ایسی کہ پاؤں کی پہلی حرکت سے واضح ہو ہو جاتا تھا کہ اب دنیا پہ حکومت ہماری ہوگی۔

ہم سب نے مشاورت سے ابا حضور کو دوسرے گھروں کے بخوشی دورے کروائے۔ بڑے بڑے لوگوں اور عظیم والدین سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جس سے یقیناً اًنہیں بھی ہم جلیسی کی سعادت حاصل ہوئی۔ مہنگے سے مہنگا لباس، بہتر سے بہتر سواری اور رہنے کی جگہ کی تو بات ہی نہ پوچھیے۔ جیسے ہفت اقلیم کی مالیت کا موتی کسی بادشاہ کے تاج میں جڑ دیا ہو۔ یوں ہمارے ابا حضور زندگی کی مسرتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ صرف اور صرف ہماری عزت کے لیے انہوں نے یہ سب کچھ کیا۔

ایک دن میرا چھوٹا بھائی بڑی آہستگی سے میرے کان میں آ کے بولا:

”بھائی جان! آج گھر کے دوسرے کونے میں دو بچے لڑ پڑے تھے اور یہاں تک لڑے کہ ایک کی آنکھ پھوٹ گئی اور دوسرے کا سر۔“

مجھے تشویش لاحق ہوئی تو میں بھاگا ہوا ابا حضور کے پاس پہنچا کہ راستے میں مجھے ان کے پرسنل سیکرٹری نے روک لیا اور مسئلہ سننے کے بعد بولا:اتنی سی بات، اب ابا حضور کو بتاؤ گے تو وہ پریشان ہوں گے اور یہ چھوٹے چھوٹے معاملے خود ہی نمٹا لیا کرو۔ اور بھی بہت سے کام ہوتے ہیں جو آپ کی بہتری کے لیے کرنے ہوتے ہیں۔ ”

میں سیکرٹری کا شکریہ ادا کر کے چلا آیا اور خود کو کوسنے لگا کہ میں کتنا بے وقوف ہوں، جو ابا حضور کے معیار اور مقام کو بھی نہیں سمجھتا۔ ان کا قیمتی وقت میں کس فضول کام پہ ضائع کروانے جا رہا تھا۔ میں نے آسمان کی جانب دیکھا اور نظروں ہی نظروں میں شکر بجا لایا۔

میں صحن میں بیٹھا بھائی کو سمجھا رہا تھا اور وہ بالکل عقیدت و احترام کا بت دل میں سجائے اندھی پوجا کیے جا رہا تھا کہ میری چھوٹی بہن چاندنی بھاگتی ہوئی آئی۔ میں نے پوچھا :

”خیر تو ہے کہ یوں بھاگتی ہوئی آ رہی ہو؟“ تو اپنے ہوش سنبھالتے ہوئے کہنے لگی:

”بھائی! بھائی! امی بازار سے آ رہی تھیں کہ راستے میں کسی نے ان کو روک کر ساری نقدی، سودا سلف اور زیور تک ہتھیا لیے ہیں۔“

میں نے پریشانی میں سر کو جھکا لیا جیسے کچھ نہ ہو سکتا ہوتو انسان بے بسی میں اپنے گریبان میں جھانک کر فقط شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ بھائی اٹھا اور اندر کمرے میں امی کی خیریت پوچھنے کو دوڑا تو میں بھی پیچھے پیچھے ہو لیا۔

کمرے میں گھر کے دوسرے افراد بھی امی کی خیریت پوچھنے کو موجود تھے۔ بھائی، بہنیں امی کا حال چال پوچھ رہے تھے، ساتھ میں ہماری بیویاں بھی شریک غم تھیں۔

مجھ سے امی کی حالت دیکھی نہ گئی تو میں بھاگ کر ابا حضور کی خدمت میں جا پہنچا۔ سیکرٹری نے پھر وہی بات کہی اور میں پھر چار و ناچار واپس لوٹ آیا۔

کف افسوس ملتے ملتے رات آنکھوں میں ہی ٹھہری تھی کہ سورج نے تمازت بھرا سلام پیش کر ڈالا اور ہمت نہ ہوتے ہوئے بھی اٹھ بیٹھا۔ اتنے میں چیخ پکار کی آواز میرے کانوں میں پڑی تو میں بھاگ کر صحن میں آیا۔ امی، جو رات کو صدمے سے دوچار پڑی تھیں، اپنا سینہ پیٹتے ہوئے اونچی اونچی دہائی دے رہی تھیں۔ میری بیوی نے روتے ہوئے آگے بڑھ کر اپنی ساس کے سر پہ چادر سیدھی کی۔

میں ڈگمگایا اور پھر سنبھل کے آگے بڑھا تو مجھے منجھلے بھائی نے روتے ہوئے بتایا کہ منا اور رانو مسجد سے سپارہ پڑھ کے واپس آ رہے تھے کہ کسی نے راستے سے اغوا کر لیا ہے۔ میں اپنا سا منھ لے کر رہ گیا اور پھر خاموش نظروں سے گریبان اور بغلیں جھانکنے لگا۔

اتنے میں چھوٹے سے بڑا بھائی روتا ہوا میرے پاس آ کے کہنے لگا:

”بھائی جان! وہ صرف میری بیٹی اور بیٹا ہی نہ تھے بلکہ ابا حضور کی بھی آنکھوں کی ٹھنڈک تھے اور ہم نے انہیں اپنے تحفظ کے لیے ہی چندہ دیا تھا۔“

میں نہ بھائی کو سچ کہہ سکتا تھا اور نہ ہی ابا حضور کا دفاع کر سکتا تھا۔

منجھلا بھائی بھاگا ہوا ابا حضور کی خدمت میں جا پہنچا، جہاں سیکرٹری سے اس کی منھ ماری ہو گئی اور ابا حضور نے سارا معاملہ سن کر شدید مذمت کی اور ہمیں صبر کی تلقین کے ساتھ ساتھ بچوں کی بازیابی کا بھی یقین دلایا۔ جس سے ہماری روحیں ایک دفعہ پھر سکون کی فریج میں لگ کے ٹھنڈی ہو گئیں اور بے چینی و پریشانی کی گرمی یک لخت سرد پڑ گئی۔

مئی کو دسمبر میں بدلے ابھی ایک دن ہی ہوا تھا کہ میری ساس دل کا دورہ پڑنے سے ہسپتال جا پہنچی۔ بہت پریشانی کے عالم میں جب وہاں پہنچے تو میں بھی سن کے مخبوط الحواس ہو گیا کہ میرے دونوں سالے دھماکے میں چل بسے ہیں۔ جن کے جسم کی راکھ بھی دفنانے کو میسر نہیں آئی۔

میری بیوی کی حالت دیدنی تھی۔ باپ پہلے ہی کسی انجان گولی کا نشانہ بن چکا تھا، ماں زندگی اور موت کی کشمکش تھی اور اب دونوں بھائی بھی نہ رہے۔

میرا دماغ حالت نازک سے پھٹا جا رہا تھا کہ اچانک چھوٹا بھائی ہانپتا ہوا میرے پاس آیا اور مجھے الگ کر کے، آنسو روک کے بولا:

”بھائی جان! چاندنی نے خود کشی کر لی ہے۔“
یہ کہتے ہوئے اس کا ضبط ٹوٹ گیا۔
میرے قدموں کے نیچے سے جیسے زمین سرک گئی۔ سر پہ مصیبتوں کے آسمان ٹوٹے چلے آ رہے تھے۔
میں بھاگ کے گھر پہنچا تو سب سے چھوٹے بھائی نے روتے ہوئے مجھے ایک کاغذ دیا، جس پر لکھا تھا:
”جسے سمجھ آ جائے، اسے پھر سمجھ نہیں آتی۔ میں اپنے شعور کے ہاتھوں مجبور ہوں اور ایسے مقام پہ کھڑی ہوں جہاں موت، زندگی سے زیادہ حسین، دل کش اور آسان معلوم ہو رہی ہے۔ میں نے فرسٹ ڈویژن میں ماسٹر کیا ہوا ہے اور بیسیوں دفعہ اپلائی کرنے کے باوجود ابھی تک بے روزگار بیٹھی ہوں۔ نہ جانے وہ کون سے باپ ہوتے ہیں جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنی اولاد کی حفاظت کرتے ہیں اور ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں۔ میں اپنے انتخاب پر بے حد شرمندہ ہوں اور مجھے دکھ ہے کہ پھانسی لے کر
مر رہی ہوں کیونکہ زہر کھانے کو پیسے نہیں تھے۔ بھائی مجھے افسوس ہے کہ آپ جسے پیار سے جاوداں کہا کرتے تھے وہ اپنی طبعی موت کا بھی انتظار نہیں کر سکی۔ ”
آپ کی زندگی کا اندھیرا
چاندنی

خط پر میری آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔ میں نے روتے روتے خط کو آنکھوں سے لگا لیا اور چھوٹا بھائی بھی میرے گلے لگ کے رونے لگا۔

ہم نے قصد کیا کہ ہم سب مل کے ابا حضور کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ہم سب بہن، بھائی، ماں، بیٹے، بیٹیاں، بہوئیں بیٹھے خوشبو کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آئے تو ہم سب مل کر چلیں۔ امی نے پریشان ہو کے کہا:

”پہلے تو مغرب تک آ جاتی تھی۔ نہ جانے کیوں آج ابھی تک نہیں آئی۔“

مجھے بھی تشویش ہوئی۔ میں نے ٹیوشن سنٹر فون کیا، تو پتا چلا کہ ٹیوشن سے تو اپنے وقت مقررہ پہ چھٹی ہو گئی تھی۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ میں اٹھا تو مجھ سے اٹھا نہ گیا۔ میں ہمت کر کے پھر اٹھا اور دروازے میں جا کے گر گیا۔ جیسے اندھیرے نے مجھے گھیر لیا ہو۔

ایک دم خوشبو دروازے سے اندر گھر میں داخل ہوئی۔ اس کی حالت غیر تھی۔ بال بکھرے، چہرہ مسلا ہوا، بدن پہ لباس بھی ایک دو جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ جیسے کوئی زبر دستی اس سے جھگڑ رہا تھا اور یہ چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔

امی اٹھی اور پھر گر گئیں۔ ہماری تیسری بہن نے چلاتے ہوئے آگے بڑھ کے خوشبو کو تھاما، دوسرے بھائیوں نے ماں کو سنبھالا۔ میری بیوی میری طرف لپکی اور جو رہ گیا وہ حواس باختہ وہیں ٹھٹھکا اور سہما دیواروں کے سہارے لاچار و بے مدد گار کھڑا رہا۔

گھر میں کہرام بپا تھا۔
اگلے دن ہم چاروں بھائی ابا حضور کی خدمت میں پہنچے اور زبردستی وقت لیا۔
ابا حضور ابھی اپنی شاہانہ کرسی پہ براجمان نہیں ہوئے تھے جبکہ ہم سراپا منتظر بیٹھے تھے۔

اچانک ابا حضور تین چار مسلح آدمیوں کے گھیرے میں اسی طمطراق اور سطوت شاہی سے جلوہ افروز ہوئے۔ ہم سب استقبالاً کھڑے ہو گئے اور دست بستہ مودبانہ کھڑے رہے۔ ابا حضور سنگھاسن پہ براجمان ہوئے تو ہمیں بھی بیٹھنے کا پروانہ مل گیا۔

منجھلے کی آنکھوں میں سیلاب امڈا ہوا تھا اور یہ واحد سیلاب تھا جو دل میں بھڑکی آگ نے پیدا کیا تھا۔ میرے سمجھانے کے باوجود بول پڑا:

”ابا حضور! زندگی کانٹوں کی سیج بن کے رہ گئی ہے۔ رو رو کے آنکھوں سے خونناب ابلنے کو ہے۔ خدارا کچھ کیجیے۔“

ابا حضور نے ماتھے پہ تیوری چڑھائی جیسے یہ باتیں ان کے جگر کو چھلنی کر گئی ہوں۔
میں بولنے ہی لگا تھا تھا کہ سب سے چھوٹے کا ضبط ٹوٹا:

”ابا حضور! ماں صدموں سے دوچار ہے اور دن، رات کی پریشانی نے انہیں اندر ہی اندر گھن لگا دیا ہے۔ منا اور رانو ابھی تک بازیاب نہیں ہوئے۔“

چھوٹا، کتے کے پلے کی طرح بلکتا اور سسکتا ہوا چپ کر گیا۔ اس کی آواز بھی کہیں دور گلے میں اٹک رہی تھی۔

میں بولنے کی جسارت ہی کرنے لگا تھا کہ ابا حضور کا ذاتی سیکرٹری ایک دل کش، خوبصورت اور نادر ڈبیا لے کر حاضر خدمت ہوا۔

ابا حضور نے اسے کھول کر دیکھا جو ہمیں نظر نہ آیا، مگر ابا حضور کے چہرے کے کھلکھلاتے انداز سے اندازہ ہوتا تھا کہ کوئی نایاب چیز ہو گی۔ وہ ڈبیا سامنے پڑی بلوریں میز پہ رکھ دی گئی۔

اتنے میں مجھ سے چھوٹا بول پڑا:

” ابا حضور! گھر تو جنت کی طرح ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا گھر تو دوزخ سے بھی زیادہ بھیانک ہوا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ چاندنی نے اس دوزخ سے گھبرا کر اپنی جان تک۔“

اس کے بعد اس کے جذبات نے لفظوں کا سہارا نہ لیا اور وہ روتا ہوا، منھ چھپا کے دل خراش آہیں بھرنے لگا۔
ابا حضور تھوڑے سے ٹھٹکے، جیسے افق قلب پر غم کے ابر نے گھٹائے زلف سے اندھیر مچایا ہو۔
میں اپنی نشست سے اٹھا اور اک نظر اپنے سسکتے، بلکتے بھائیوں پہ ڈال کر بولا:

”ابا حضور!“ میری آنکھوں سے بھی آنسو قطار اندر قطار ڈھلکنے لگے ”سارے گھر کا نقشہ تو تینوں بھائیوں نے کھینچ کے رکھ دیا ہے۔ اب میری کیا اوقات کہ آپ کے حضور مزید لہو افشانی کروں۔“

میں نے اپنے آنسو آستین سے بے دھیان پونچھے اور رندھی ہوئی آواز میں پھر گویا ہوا:

”ابا حضور! زندگی کے سب صدمے ہم جھیل رہے ہیں اور شاید جھیلتے بھی رہیں گے۔ مگر بات تکلیف اور پریشانی سے بڑھ کر عزت اور غیرت تک آ پہنچی ہے۔ کسی نے ہماری عزت یعنی ہماری بہن اور آپ کی لاڈلی بیٹی خوشبو کی قبائے حیا کو تار تار کیا ہے، اس کا گوہر عصمت چھینا ہے جو ہماری برداشت سے باہر ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ آپ خوشبو سے کتنا پیار کرتے تھے بلکہ اپنی تمام بیٹیوں سے کس قدر انس تھا آپ کو۔ مگر اب گھر کی حالت آپ کے سامنے ہے۔ ابا حضور! کچھ کیجیے، خدارا کچھ کیجیے۔“

میں بھرائی ہوئی آواز میں تکرار کرتے کرتے روتے ہوئے، ابا حضور کے قدموں میں گر گیا۔

ابا حضور کے جسم بے جان میں حرکت پیدا ہوئی اور اپنی نظر والی عینک کو اتار کر سامنے پڑی بلوریں میز پر بڑے قرینے سے رکھ دیا۔ میں سمجھا شاید ابا حضور کی کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہونے لگا ہے۔ وہ مجھے قدموں سے اٹھا کے سینے سے لگا نا چاہتے ہیں اور جی بھر کے رونا چاہتے ہیں۔

مگر انہوں نے وہ خوبصورت ڈبیا میز سے اٹھائی اور اس کو کھولا، جس میں خوبصورت سیاہ شیشوں والی دل کش عینک تھی۔ ابا حضور نے وہ اپنے چہرے پہ سجائی اور مونچھوں کو تاؤ دے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

میں نے اپنے بھائیوں کی طرف دیکھا، ان کے چہروں پر بھی خوشی کے آثار آویزاں تھے۔ وہ بھی میری طرح یہی سمجھ رہے تھے کہ ابا حضور جس شان اور وقار سے کھڑے ہوئے ہیں، ضرور اس غرور و تکبر کی لاج رکھتے ہوئے کوئی ایسا حکم صادر کریں گے کہ سارے گھر کا نظام پلک جھپکتے درست ہو جائے گا۔

ابا حضور نے اپنے عصا پر گرفت مضبوط کی اور ہمیں پشت کر کے لڑکھڑاتے ہوئے، عصا ٹیکتے ٹیکتے کمرے سے باہر چلے گئے۔

Facebook Comments HS

One thought on “اندھا

  • 15/08/2023 at 11:38 شام
    Permalink

    نہایت عمدہ تحریر 🫥👍🥹

Comments are closed.