جلتا تندور ٹھنڈا کیسے کرنا ھے


یوں محسوس ھوتا ھے کرۂ ارض اس وقت ابلنے پہ آیا ھوا ھے ۔ ایسی خوفناک گرمی اور ھدت جس کا پہلے غالباً ھم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا ، جسے دیکھو اسی کے ھاتوں ستایا دکھائی دیتا ھے ۔ اس گرما گرمی کے ماحول میں سمجھ نہیں آتا کہ جذبات کا زیادہ اثر ھے یا بھاپ کا ۔ لیکن مبرا دونوں میں سے کسی ایک کو بھی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ دنیا کی بیشتر خوشحال ممالک کی ایک نمایاں تنظیم کا نام ھے جی -20 جو درحقیقت جی -7 کے مدمقابل بنائی گئی تھی لیکن اپنے مقاصد کی تکمیل میں ابھی تک وہ کامیابیاں نہیں سمیٹ سکی جس کی اس سے توقع تھی ۔ بڑی جدوجہد کے بعد نومبر 2014 میں واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین ایک ماحولیاتی معائدہ طے پایا تھا ۔ مگر افسوسناک امر یہ ھے کہ اس پہ عملدرآمد نہیں ھوسکا جس کی ابھی انتہائی اھم ضرورت ھے ۔ اب اس سال جو قیامت خیز بارشوں نے چین میں ایسی تباھی پھیلائی ھے ایسی طوفانی بارش پچھلے 140 سالہ تاریخ میں نہیں ھوئی ۔ اور انہی دنوں درجۂ حرارت بھی بیجنگ میں 52 ڈگری تک جاپہنچا ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے مطابق کرۂ ارض اس وقت ابل رہا ھے ۔ اس کے اثرات شمالی امریکہ اور کینیڈا و یورپ میں محسوس کئے جاسکتے ھیں ۔ اب چونکہ معاملات اس نہج پہ پہنچ چکے ھیں تمام عالم کے لوگوں کو مل کر جنگی بنیادوں پر اس کا سدباب کرنا ھوگا جیسا کہ کووڈ -19 کی تباہ کاریوں کے خلاف باھم مل کر ھم نے ایک حکمت عملی اپنائی اور بروقت تدارک کیا جس کی وجہ سے اس روگ سے گلوخلاصی حاصل ھوئی ۔ مگر معاملہ کچھ اتنا بھی سیدھا نہیں اب بہت سے ممالک اپنی اناوؤں کے اسیربند ھیں باھم متصادم ھیں مثلاً دنیا سیاست کا ماحول روسی حملہ نے مکدر کردیا ھے اب یوکرائن کی وجہ سے بہت سے لوگ آپس میں ملنا جلنا بھی گوارا نہیں کرتے اسی طرح امریکیوں کو چینیوں سے بہت گلے شکوے ھیں جس کی وجہ عالمی ماحول خاصا کشیدہ ہوچکے ہیں ۔ ھمارے جاں تو کوئلے کی بجلی بنانےکی بڑی خوشیاں منائیں جارہی ہیں جبکہ عالمی سطح پہ اس کی شدید مخالفت کی جاتی ھے چونکہ کوئلے سے نکلنے والی گیس ماحول کی تباہ کاری میں اھم رول ادا کرتی ھے ۔ اس وقت دنیا کے ممالک کی کوشش ھے کہ ایسا ایندھن دریافت کیا جاسکے جس کے مابعد اثرات سے دنیایں نقصانات کم از کم ھوں اور اسی بنا پہ پٹرولیم و گیس کی معدنیات کے بجاۓ مستقبل میں ایسا ایندھن استعمال کیا جاۓ گا جو ماحول دوست ھو ۔ ایمازون ، کینیڈا اور اب تازہ ترین جنگلی آگ نے تو گویا سب کے کان کھڑے کر دیئے ھیں ۔ اب ان بڑی طاقتوں پہ منحصر ھے کہ وہ اپنی اناوؤں سے نکل کر کچھ فائدۂ انسانیت کا سوچیں اور دنیا میں درختوں کی شجرکاری کی جاۓ۔ ھمارے ھاں جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر ھیں ھمیں چاھیئے کہ اس موقع کو شجرکاری کی مہم چلائیں ۔ پر نکاح خواں یہ یقیں بنائیں کہ دولہا اور دلہن نے دو دو درخت لگائے ھیں ۔ پھر پر نومولود کی آمد پہ دو درخت لگانا لازمی قرار دیا جاۓ پر بچے کی سالگرہ بھی تب منائیں جب وہ دو درخت لگا کر ان کی نگہداشت کرنے کا بھی بیڑا اٹھاۓ۔ یہ جب تک نہیں ھوگا تب ھم اسی گرمی میں جھلستے ھی رہیں گے۔

Facebook Comments HS