2018 ء سے 2023 تک ملکی تاریخ کا سیاہ دور


الحمدللہ قومی اسمبلی کے بعد سندھ کی صوبائی اسمبلی بھی آج 11 اگست تک توڑ دی جائے گی، پنجاب اور کے پی کے میں پہلے ہی نگران حکومت قائم ہے۔ ملک میں پی ٹی آئی کے بعد پی ڈی ایم کے اقتدار کا بھی سیاہ دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ نگران حکومت کتنا وقت چلے گی یہ آنے والے وقت پر ہے کہ 3 ماہ چلے یا 12 ماہ تک چلے اور عام انتخابات کرائے جائیں۔ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کردی ہے، صدر نے دستخط کر دیے۔

اس وقت ہم الحمد للہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم حکومت سے آزاد ہو کر بغیر وزیراعظم کے نگران حکومت میں داخل ہوچکے ہیں۔ نگران حکومت عوام کے لئے کیسی ثابت ہوگی یہ موجودہ معاشی اقتصادی حالات سے ہی پتا چل سکتا ہے۔ اگر مارچ 2022ء میں عدم اعتماد کی تحریک سے پہلے قومی اسمبلی تحلیل کر دیتا اور صدر علوی اس وقت دستخط کرتا تو آج نہ پی ٹی آئی ختم ہوتی نہ خٹک الگ جماعت بناتا نہ ہی استحکام جنم لیتی اور نہ ہی 9 مئی کا واقعہ رونما ہوتا نہ ہی عمران خان آج جیل میں قید ہوتے، اور نہ ہی شہباز شریف وزیراعظم بنتا نہ ہی بلاول بھٹو زرداری وزیر خارجہ بنتے! مولانا فضل الرحمان کا اس وقت اسمبلی تحلیل کر کے عام انتخابات کروانے کا فیصلہ اصل میں عمران خان کے لئے این آر او ثابت ہوتا۔

لیکن حقیقی این آر او پیپلز پارٹی اور نون لیگ لے گئے۔ کبھی کبھی مخالف دشمن کی بات پر بھی غور کرنا چاہیے ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے بہتری اور فائدے میں ہو! جے یو آئی سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے جتنے ملین مارچ اور آزادی مارچ کیے اس میں فوری طور پر اسمبلیوں کو تحلیل کر کے عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیکن آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف صاحب نے کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی وجہ نیب سے تمام کیسز میں ریلیف حاصل کرنا تھا۔ جو کہ حاصل کر چکے ہیں۔

پانچ سال قبل 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے لے کر اگست 2023 تک 5 سالوں میں ملک میں بدترین معاشی بد حالی، بیروزگاری، لاقانونیت، بھوک بدحالی رہی۔ ڈالر، سونا، پیٹرولیم مصنوعات، آٹا، گھی، چاول، سمیت روز مرہ کی اشیاء آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ لوگوں نے غربت کے باعث خودکشیاں کی، نوجوانوں نے ڈگریاں جلائی، دجالی دور میں غریب عوام کی پہنچ سے آٹا بھی دور رکھا، خواتین جسم بیچ کر بچوں کا دو ٹائم پیٹ بھرنے پر مجبور ہوئی۔ بدقسمتی سے ان پانچ سالوں میں عوام کا کوئی جائز کام مفت نہیں ہوا، کرپشن عروج پر رہی۔ غریب غریب تر رہا، اور امیر امیر ترین بن گیا۔ دوسری طرف حکمرانوں، اشرافیہ، بیوروکریسی، افسر شاہی، مافیا نے اربوں، کھربوں روپے بنائے، بینک بیلنس

گاڑیاں، بنگلے، فارم ہاؤسز وغیرہ وغیرہ بنائے۔ احتساب کے نام پر احتساب کرنے والے اداروں نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن نے کچے کے ڈاکوؤں کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے تاریخ ساز کرپشن کر کے اداروں کی جڑیں اکھاڑ کر پھینک دیں اور اداروں کی ساکھ کھودی۔ جوڈیشری پہلی مرتبہ کھل کر سامنے آئی اور ملک میں جاری حکمرانی، انتظامی سسٹم کو تباہ کر کے رکھ دیا، واٹس اپ، فونز اور سیکریٹ ملاقاتوں میں انصاف کا جنازہ نکال کر رکھ دیا، سپریم کورٹ کے فیصلے اور ججز کا کردار قوم اور دنیا کے سامنے ہے۔

ملکی حالات، معاشی بحران، لاقانونیت، کرپشن، انارکی، بوگس انتخابات، قومی معاشی اخلاقی ڈیفالٹ میں اہم کردار مسٹر معزز جاوید باجوہ، فیض حمید، ثاقب نثار اور عمران خان نے اینڈ کمپنی نے ادا کیا، قوم اور تاریخ انہیں بھی نہیں بھولے گی، ! غریب عوام کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، عوام کا خون پی کر بدترین معاشی بد حالی میں دھکیل دیا گیا۔ لاقانونیت بدامنی عروج پر رہی، ۔ پانچ سالوں میں آٹا 150، چینی 150، بجلی، 50 روپے یونٹ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 32 پر پہنچا دی گئی ہے۔

اب ڈالر 287 روپے کا ہے۔ مہنگائی کی شرح 32 فیصد ہے۔ شرح سود 22 فیصد ہے۔ ترقی کی شرح 0.29 فیصد رہی۔ زرعی شعبے کی ترقی کم ہو کر 1.55 فیصد ہوئی، صنعت کی شرح منفی 2.94 فیصد پر آ گئی، فی کس آمدنی ایک ہزار 568 ڈالر ہو گئی ہے۔ پیٹرول 273 روپے فی لیٹر ہے، ڈیزل 274 روپے فی لیٹر ہے۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 18.39 روپے فی یونٹ تک کا اضافہ کیا گیا۔ دال مونگ 320 روپے، دال ماش 310 روپے سے 520 روپے، آٹا 155 روپے تک چلا گیا۔

برائلر مرغی 700 روپے تک چلی گئی، چائے 560 روپے ہو گئی ہے۔ انڈے 280 روپے درجن ہیں، چینی 160 روپے فی کلو ہو گئی۔ اب نگران دور چلے گا جو کہ گزشتہ پانچ سال کے مقابلے میں مشکل ثابت ہو گا۔ آئندہ عام انتخابات کے بعد آنے والا دور کیسا ہو گا ایک اللہ کو پتا، دوسرا امریکا اور اسٹیبلشمنٹ کو پتا ہو گا! لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل حافظ منیر نے کہا کہ وہ ملک کو آگے لے کر چلیں گے۔ اس وقت پی ٹی آئی سربراہ جیل میں قید ہیں، عدالت نے تین سال قید کی سزا سنائی ہے اور پانچ سال کے لئے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی اسے پانچ سال کے لئے نا اہل قرار دے دیا ہے۔ سندھ میں پی پی مخالف جماعتوں کا انتخابی اتحاد بننے جا رہا ہے۔ اہم کیو ایم پاکستان کا وفد اپوزیشن لیڈر میڈم رعنا اور خواجہ اظہار الحسن کی قیادت میں جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو کی رہائش گاہ پر ملاقات کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب جی ڈی اے کے ساتھ بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پنجاب میں نواز لیگ، استحکام پاکستان، جے یو آئی کا اتحاد بنتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

نگران وزیراعظم اور صوبائی نگران وزیر اعلیٰ سندھ کی مقرری کے بعد آگے کا لائحہ عمل تیار ہو جائے گا۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اگلی حکومت ان کی بنے گی اور وزیر اعظم بلاول بھٹو زرداری بنے گا جبکہ دوسری طرف نواز لیگ کی جانب سے ان کا وزیراعظم بننے کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور دوسری جانب جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آئندہ حکومت ان کے بغیر بننا مشکل ہے۔ کیونکہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ریاست میں جے یو آئی کی شراکت داری کے بغیر ریاست کا تصور ادھورا ہے۔ امید ہے کہ نگران حکومت کے بعد آنے والی حکومت عوام دوست غریب دوست ثابت ہو عوام دشمن ثابت نہ ہو!

Facebook Comments HS