چودہ اگست ۔ یوم آزادی

کافی عرصہ پہلے، ہمارے ایک جاننے والے نے اپنے بیٹے کا نام "آزاد” رکھا جو ہماری قومی زبان اردو میں "آزاد” ہی بولا اور پڑھا جاتا ہے۔ میں نے اُنہیں مشورہ دیا کہ وہ اس لفظ "آزاد” کو انگریزی یا رومن اردوزبان میں ایسے لکھوائیں کہ جسے پڑھنے سے "آزاد” ہی کا تلفظ نمایاں ہو۔انہوں نے اپنے بیٹے کے نام کے اسپیلنگ AAZAAD لکھوا ئےتھے۔ جسے پڑھتے اور لکھتے وقت، "آزاد” کی ادائیگی صحیح طور پر ہوتی ہے۔
آج تمام دنیا بشمول وطن عزیز پاکستان میں، 14اگست "یوم آزادی” زور شور سے منایا جا رہا ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہےکہ جب میں انگریزی زبان میں لکھے گئے لفظ کو پڑھتا ہوں تو اسکا تلفظ مجھے ذاتی طور پر "آزادی” کی بجائے پانچ ہجوں کا مرکب ( اے۔ز۔اے۔د۔ی )کچھ عجیب ہی بنتا اور سمجھتا نظر آتا ہے۔ یہ میں پاکستانی اردو دانشوروں پر چھوڑتا ہوں کہ وہ میری اس منطق کو کیا کہتے ہیں؟
تاہم مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ یہی لفظ ، اگر میں اپنے موجودہ اپنائے ہوئے ملک جرمنی میں اور جرمن زبان میں لکھا ہوا پڑھوں تو میں اردو زبان میں، اس کا صحیح معنوں میں تلفظ "آزادی” پڑھتا ہوں جس سے مجھے خوشی ہوتی ہے کیونکہ جرمن زبان میں اکثریت الفاظ کی لکھت، ان کے تلفظ کی ساتھ مطابقت رکھتی ہے یعنی جیسے الفاظ لکھے جاتے ہیں ویسے ہی انہیں پڑھا اور بولا جاتاہے۔ مثلاً
"Lahore”
کو جرمن زبان میں "لاہورے” پڑھا اور بولا جاتا ہے۔ جرمن زبان میں ، ایسی بہت سی دوسری مثالیں، موجود ہیں۔
جرمن زبان کے حروف ابجد کے پہلے حرف "A” کو پڑھتے وقت "آ” بولا اور پڑھا جاتاہے جبکہ "E” کو انگریزی کے "A ” کی طرح ، پڑھا اور بولا جاتا ہے ۔
میری طرف سے سب پاکستانیوں کو آج کے دن یعنی 14 اگست کی مناسبت سے بہت بہت مبارک ہو ۔

