سوشل میڈیا کے مریض


پاکستان میں سوشل میڈیا کے مریضوں کی تعداد میں دھڑا دھڑ اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک طبقہ پکچر فوبیا کے مرض میں مبتلا ہے۔ یہ مریض ہر محفل میں بن بلائے مہمان کی طرح آن دھمکتے ہیں اور تقریب کی ہر ٹیبل پر ہر اینگل سے عجیب و غریب منہ بنا کے تصویریں کھنچواتے ہیں۔ شمع محفل کے ساتھ تو ہر صورت تصویر بنوانے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ بعض تصویروں میں وکٹری کا نشان بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ چندریان تھری انڈین اسرو سے نہی بلکہ پاک سپارکو سے انہوں نے ہی چاند پر بھیجا ہے یا پھر افغانستان سے امریکہ کو بھگانے والے مجاہدین یہی تو ہیں۔ پھر درجنوں کے حساب سے ان تصاویر کو واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کر کے اپنی احساس کمتری کا علاج ڈھونڈتے ہیں۔ بعض اوقات پکچر فوبیا کے مرض میں مبتلا اشخاص اور آپ بدقسمتی سے کئی واٹس ایپ گروپس میں شریک ممبران ہوتے ہیں۔ نتیجتاً اپ کے موبائل فون کی گیلری ان مریضوں کی بے معنی بھونڈی سی تصویروں سے کھچا کھچ بھر جاتی ہے۔ اور آپ وہی چہرے مہرے بار بار دیکھ کر اپنا فشار خون بلند کر بیٹھتے ہیں۔ بسا اوقات ملک بھر میں موجود سیاسی سماجی و کاروباری تنظیموں کے الیکشن کے امیدواران میں سے اگر کوئی امیدوار اپنی تصویر گروپ میں برائے استدعا ووٹ و سپورٹ شیئر کر دے تو مخالف امیدوار اور اس کے حامی مقابلتاً اپنے امیدوار کی سینکڑوں تصویریں بیک جنبش انگشت شیئر کر دیتے ہیں جس سے یقیناً کسی تصویری مقابلے کا سا گماں ہوتا ہے۔ اور یہ تان اس وقت تک نہیں ٹوٹتی جب تک گروپ ایڈمن زچ ہو کر ان حضرات کو بلاک نہ کر دے۔

اسی طرح کے مریضوں کی ایک دوسری قسم مسلسل باقاعدگی کے ساتھ صبح بخیر اور شب بخیر کی پوسٹوں کو لگاتار گروپوں میں شیئر کرنے کو عین عبادت سمجھتی ہے۔ اور اگر خدانخواستہ کوئی تہوار عید شب برات آ جائے تو ایسی ایسی اسلامی پوسٹیں شیئر کرتے ہیں کہ ان سے بڑا حاجی ثنا اللہ تو پیدا ہی نہیں ہوا۔

ان مریضوں کی ایک تیسری قسم بھی ہے جو صرف کاپی پیسٹ پر یقین رکھتی ہے پانچ پانچ سال قبل رونما ہونے والے واقعات کی تصاویر ویڈیوز یا تحریریں خدانخواستہ ان کے ہتھے چڑھ جائیں تو یہ حضرات ان باسی تحریروں تصویروں اور ویڈیوز کو جب تک دو چار درجن گروپوں میں شیئر نہ کر لیں تو چین سے نہیں بیٹھتے۔ ان مریضوں کا سماجی اخلاقیات سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا ایپس کے مالکان ان مریضوں کے شافی علاج کے لیے کارآمد پالیسیاں مرتب کریں۔

Facebook Comments HS