تعلیمی اداروں میں تشدد کا رجحان
طالبعلم اگر اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ رواداری اور بھائی چارے کے بجائے نفرت اور تشدد کا رویہ اپنائیں تو سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور تعلیمی نصاب کے معیار سے متعلق ہوتا ہے۔ کیا ہمارے تدریسی ادارے طالب علموں میں باہمی رواداری اور بھائی چارے کے بجائے عدم برداشت کے روئیے کو جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں؟ ہماری درسگاہیں آنے والی نسلوں کے لئے کیسی مثالیں چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں؟ یہ اور ایسے ہی کئی اور سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں جب ہم طالب علموں کو ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما ہوتے دیکھتے ہیں۔
چھ ماہ قبل کراچی کے ایک اہم علاقے گلشن اقبال کے ایک تعلیمی ادارے میں نویں جماعت کے دو طالب علموں کے درمیان کسی معمولی سی بات پر کوئی تنازعہ ہو گیا جو جھگڑے کی شکل اختیار کر گیا۔ بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ اسکول کی انتظامیہ نے بیچ بچاؤ کے بعد دونوں طالب علموں کو سخت تنبیہ کی کہ آئندہ اگر انہوں نے اس رویے کا مظاہرہ کیا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بات آئی گئی ہو گئی اور سب مطمئن ہو گئے کہ دونوں طالب علموں کو بات سمجھ میں آ گئی ہوگی اور اب کوئی ایسا سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو گا۔ لیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ اگلے ہی دن جو واقعہ رونما ہوا وہ نا صرف اسکول انتظامیہ کی توقعات کے برعکس تھا بلکہ حیران کن اور دل دہلا دینے والا بھی تھا۔
اگلے دن ایک طالبعلم اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ اسکول آیا اور کلاس میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنے بیگ سے کلاشنکوف نکالی اور اپنے کلاس فیلو پر گولیاں برسا دیں۔ اسکول میں ایک افراتفری سی مچ گئی اور اسی افراتفری میں قتل کرنے والا طالبعلم اور اس کے دوست وہاں سے فرار ہو گئے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے تمام طالب علموں کو اور اسکول انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولس موقع واردات پر پہنچ گئی اور اپنی تفتیشی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد ملزمان کو پکڑنے کے لئے کئی جگہ چھاپے مارے اور قاتل کو اپنے ایک ساتھی کے ساتھ گرفتار بھی کر لیا۔
یہ ایک ایسا واقعہ تھا جسے ایک ناپختہ ذہن کے نوجوان طالبعلم کی ذہنی بے راہ روی سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جب یونیورسٹی کے طالبعلم بھی تشدد کا مظاہرہ کرنے لگیں تو مسئلہ کی سنگینی کچھ اور بھی پیچیدہ اور گمبھیر ہوجاتی ہے۔
پاکستان میں جو غیر مسلم اقلیتیں آباد ہیں ان میں ہندو اور عیسائی نمایاں ہیں۔ ملک کا آئین غیر مسلم اقلیتوں کے تمامتر انسانی اور مذہبی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ ہولی ہندوؤں کا چونکہ ایک اہم ترین مذہبی تہوار ہے وہ اسے ہر سال بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ پاکستان میں ہندوؤں کو یہ تہوار منانے کی قانونی اجازت ہے لیکن اس سال پنجاب یونیورسٹی میں ہندو طلبہ نے جب ہولی کا تہوار منانے کا اہتمام کیا تو اس میں ان کے مسلم طلبہ دوست بھی شامل ہو گئے۔ یہ تقریب یونیورسٹی انتظامیہ سے پیشگی اجازت کے بعد منعقد کی گئی تھی۔ لیکن جب تمام طلبہ و طالبات ہولی کی تقریب منانے میں مشغول تھے تو اچانک یونیورسٹی کی حدود میں فائرنگ کی آوازیں گونجنے لگیں تمام طالب علم خوفزدہ ہو گئے۔
پھر کچھ طالبعلم ہال میں داخل ہو گئے اور انہوں نے توڑ پھوڑ اور فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ہولی منانے والے طالب علموں کی پٹائی کرنا شروع کر دی۔ یونیورسٹی میں ایک فساد برپا ہو گیا۔ اس واقعے نے ہولی منانے والے طالب علموں کو ایک ناگوار کیفیت میں مبتلا کر دیا۔ ہندو طالب علموں نے اپنی عددی نابرابری اور عدم تحفظ کے احساس کے پیش نظر تقریب کے خاتمے میں اپنی بھلائی سمجھی۔ افسوسناک بات یہ تھی کہ اخباری رپورٹوں کے مطابق اس انتشار پھیلانے میں یونیورسٹی کے سیکیورٹی اہلکاروں کا بھی ہاتھ تھا اور ہنگامہ کرنے والوں کا تعلق اسلامی جمعیت طلبا سے بتایا گیا تھا۔
اس واقعے کے دوسرے روز کراچی یونیورسٹی میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا اور جمعیت کے طلبہ نے ہولی کی تقریب منانے والے طالب علموں کو زد و کوب کیا اور گولیوں کا نشانہ بنا کر زخمی بھی کیا۔ بعد ازاں جمعیت نے دونوں واقعات میں اپنے ملوث ہونے سے انکار کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ نہیں تھے تو پھر کون تھا؟ چونکہ لاقانونیت کا مظاہرہ کرنے والوں کے بارے میں کوئی انتظامی کارروائی نہ سرکاری طور پر دیکھنے میں آئی اور نہ ہی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس لیے یہ سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ ان واقعات سے دنیا میں اور خاص طور پر ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی ہندو اکثریت کو کیا پیغام پہنچا ہو گا؟ اور اس کے نتیجے میں بھارت میں موجود مسلم اقلیت کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو گا اس کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کے لئے ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ پاکستان میں موجود ہندو برادری کی تنظیموں نے حکومت کو اپنے احتجاجات ارسال کیے، انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اپنے بیانات دیے اور پھر ان نفرتوں کو ملک کے سیاسی منظرنامے کی ایک مسلمہ حقیقت تسلیم کر کے سب نے خاموشی اختیار کرلی۔
لیکن مذہبی انتہاپسندوں نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ ہولی کی تقریبات کی ایڈٹ کردہ وڈیوز سوشل میڈیا پر مسلسل لگائی جاتی رہیں جس میں رقص و سرود اور اقلیتوں کی جانب سے کی گئی زیادتیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ نفرتوں کو مزید دوچند کیا جائے اور آئندہ کے لئے ایسی کسی اقلیتی تقریب کو اجازت دینے کے کوشش کو سماجی طور پر دبایا جائے۔ ان کی یہ کوششیں بہت جلد رنگ لے آئیں۔
کراچی اور لاہور کے افسوس ناک واقعات کے بعد جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ تعلیمی کمیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے پوری کر دی۔ انہوں نے ہندو اور ان کے مذہبی تہوار منانے پر ایک تنقید بھرا خط تمام یونیورسٹیوں کو لکھا جس میں انہوں نے خصوصی طور پر یہ تحریر کیا کہ یونیورسٹیاں ایسی سرگرمیوں سے دوری اختیار کریں جو ملک کی اسلامی شناخت اور سماجی اقدار کے خلاف ہوں۔
اس خط نے ملک میں بے چینی کی فضا پیدا کردی۔ وہ انتہاپسندی جس کا مظاہرہ یونیورسٹی کے طالب علموں نے اپنے زور بازو سے کیا تھا اب اس کا مظاہرہ زور قلم سے کیا جا رہا تھا اور وہ بھی علمی درسگاہوں کے اعلی ترین سرکاری ادارے کے ایک اہم عہدیدار کی جانب سے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافیوں نے اس خط کے خلاف پر زور احتجاج کیا اور ملک کے مشہور وکیل اور انسانی حقوق کے علمبردار جبران ناصر نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تنقیدی خط کا فوری نوٹس لیں اور تعلیمی کمیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو ہدایت کریں کہ وہ اپنے اس رویے پر متعلقہ اقلیتی برادری سے معافی مانگیں۔ وزیرِاعظم کے معاون خصوصی نے اس واقع پر فوری کارروائی کی اور تعلیمی کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ اس خط کو فوراً واپس لیں۔
ان واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکی یا نہیں اس کا تو کوئی علم نہیں البتہ یہ واقعات ہمارے تعلیمی ماحول میں پائی جانے والی عدم برداشت کی اس فضا کی نمایاں کرتے ہیں جو ناپختہ ذہنوں سے لے کر بالغ ذہنوں تک کو متاثر کرچکی ہے۔ اس ماحول کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟ کیا اس نوجوان طالب علم کو جس نے اپنے ہم جماعت کو محض کسی چھوٹی سے بات پر کلاشنکوف کا نشانہ بنانا جائز سمجھا تھا، یا پھر تعلیمی کمیشن کی ڈائریکٹر کو جنہوں نے ہولی کی تقریب کو اسلامی اقدار کے خلاف قرار دے کر یونیورسٹی کے ان طالب علموں کے غیرقانونی عمل کو مذہبی طور پر جائز قرار دینے کی کوشش کی جنہوں نے ہولی کی تقریبات کے خلاف پرتشدد رویہ اختیار کیا تھا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پرنہ صرف غور کرنا بلکہ ان کا حل تلاش کرنا بھی معاشرتی اور سرکاری طور پر بے حد ضروری ہے۔
نادیہ نفیس فائن آرٹس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں اور تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں

