عدم برداشت، مذہبی جنون اور فلم "زندگی تماشا”
یہ نومبر 2019 ء کا ایک دن تھا۔ جب نومبر کی زرد رو دھوپ ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ ہم دوست جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے اولڈ کیمپس میں محمد علی بلاک کے سامنے دھوپ سینک رہے تھے۔ جب ہمیں اطلاع ہوئی کہ جی سی کے نیو کیمپس جو جھنگ روڈ پر واقع ہے۔ وہاں معروف اداکار، فلم ساز اور ہدایت کار سرمد کھوسٹ اپنی آنے والی فلم ”زندگی تماشا“ کی پروموشن کے لیے اپنی ٹیم کے ہمراہ تشریف لا رہے ہیں۔ جب ہم نیو کیمپس کے قائد اعظم آڈیٹوریم پہنچے تو وہاں سرمد کھوسٹ، فلم زندگی تماشا، کی مکمل کاسٹ کے ساتھ تشریف لا چکے تھے۔ ان کے ساتھ پی ٹی وی کے نامور اداکار عرفان کھوسٹ بھی تشریف فرما تھے۔
سرمد کھوسٹ مائیک پر آئے اور انھوں نے فلم کے پس منظر اور کہانی پر مختصر گفتگو کی۔ پھر فلم کا ٹریلر دکھایا گیا۔ ہال سامعین و ناظرین سے بھرا ہوا تھا۔ آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی رکھا گیا تھا۔ ہمیں فلم کا موضوع بہت منفرد اور حسب ضرورت لگا تھا۔ ہمیں خوشی ہوئی تھی کہ پاکستان میں بھی طویل عرصے بعد کوئی اچھوتے اور معاشرے کی عکاسی کرتے موضوع پر فلم بنی ہے۔ ہم دوستوں نے ارادہ کیا تھا۔ جیسے ہی یہ فلم سینما میں ریلیز ہو گی، ہم ضرور دیکھنے جائیں گے۔
مگر بدقسمتی سے چار سال کے بعد بھی یہ فلم سینما میں ریلیز نہ ہو سکی۔ اب اگست 2023 ء میں آ کر سرمد نے اسے یوٹیوب پر ریلیز کیا ہے۔ مشہور پاکستانی فلم ”منٹو“ سرمد سے میرا پہلا تعارف تھی۔ جس میں سرمد نے اداکاری اور ہدایت کاری کے جوہر دکھائے تھے۔
فلم ”زندگی تماشا“ بھی سرمد کھوسٹ کا ایک اثاثہ ہے۔ فلم کا موضوع پاکستان میں پھیلتی مذہبی اور سماجی شدت پسندی اور عدم برداشت ہے۔
جب میں یہ فلم دیکھ رہا تھا تو میں بار بار سوچ رہا تھا۔ وہ کون سا سین یا نقطہ ہے۔ جس نے مخصوص مذہبی گروہ کو اس فلم کی مخالفت پر اکسایا ہے۔ دو گھنٹے فلم دیکھتا رہا اور مجھے کہیں وہ پوائنٹ نظر نہیں آیا۔ جس پر کہا جا سکتا ہو یہ فلم واقعی بین ہونی چاہیے تھی۔
کتاب، علم و تحقیق، ادب، فلم اور آرٹ سے دور معاشرہ شدت پسندی کو جنم دیتا ہے۔ جو نفرت کو پروان چڑھاتی ہے۔ یہی کچھ ہمارے ساتھ ہو چکا ہے۔
زندگی تماشا دیکھ کر معلوم ہوا کہ گستاخی کا دائرہ کتنا محدود ہو چکا ہے۔ کوئی بھی ایک نقطہ جہاں آپ سوچ بھی نہ رہے ہوں۔ وہ آپ کی جان لے سکتا ہے۔
فلم ”زندگی تماشا“ کی کہانی ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ راحت خواجہ کے گرد گھومتی ہے۔ جو نعت خواں بھی ہے۔ وہ اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ نعت بھی پڑھتا ہے۔ فلمیں بھی دیکھنے کا شوقین ہے۔ موسیقی کا بھی دلدادہ ہے۔ اور ڈانس بھی کر لیتا ہے۔
وہ اندرون لاہور کی تنگ و تاریک گلی میں بستر مرگ پر پڑی بیوی کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ گلی جس قدر تنگ ہے، لوگوں کے سوچ کے زاویے بھی اس قدر ٹیڑھے اور تنگ ہیں۔
راحت خواجہ ایک دوست کے بیٹے کی شادی میں جاتے ہیں۔ پچپن کے دوستوں کی فرمائش پر رقص کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتا ہے۔ جس کے بعد ان کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ محلے والے جو اسے آنکھوں پر بٹھاتے تھے۔ وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔ ایک طرح کا سوشل بائیکاٹ کر لیتے ہیں۔
ہر سال عید میلاد النبی ﷺ پر جو لوگ خواجہ کے ہاتھ کا بنا ہوا حلوہ جس میں زعفران بھی ہوتا تھا، بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ وہ بھی کھانے سے انکار کر لیتے ہیں۔
اس کے بعد کی صورتحال تو فلم دیکھ کر ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ ہم جانے کیوں ایک نعت خواں یا کسی بھی مذہبی انسان کے ساتھ اس قدر عقیدت پال لیتے ہیں۔ گویا وہ غلطی کر ہی نہیں سکتا۔ حالانکہ وہ بھی انسان ہے۔ اس سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ یہ سب ہماری عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔
مشتاق یوسفی صاحب نے درست کہا تھا ہم تو مذہب کے معاملے میں باؤلے ہی ہو گئے ہیں۔
فلم معاشرتی رویوں کی عکاس ہوتی ہے۔ فلم وہ دکھاتی ہے۔ جو ہمارے معاشرے میں وقوع پذیر ہو رہا ہوتا ہے۔ یہ فلم بھی ہمارے آج کے معاشرے کی تصویر ہے، جس سے ہر فرد واقف ہے کہ ہم ایک برداشت سے عاری معاشرہ بن چکے ہیں۔ ہم کسی نقطۂ نظر کو، کسی سوچ کو، کسی اختلاف کو برداشت نہیں کرتے۔
فلم ”زندگی تماشا“ بھی ایسی ہی فلم ہے۔ جس نے ہمارے اندر بھری مذہبی جنونیت اور عدم برداشت کو دکھایا ہے۔ بنیادی طور پر فلم مبصر اس فلم کو ایک آرٹ فلم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ کمرشل فلم بالکل بھی نہیں ہے۔
عارف حسن نے اپنے کردار سے انصاف کیا ہے۔ اور یہ فلم صرف انہی کے کردار پر کھڑی ہے۔ سمیعہ ممتاز نے ہمیشہ کی طرح اپنا کردار خوب نبھایا ہے۔ ایمن سلیمان اور علی قریشی کی پرفارمنس بھی عمدہ رہی ہے۔ سرمد کا ڈانس بھی خوب رہا ہے۔ نرمل بانو نے اس فلم کی کہانی بھی عمدہ انداز میں لکھی ہے۔ اس فلم کا ایک ڈائیلاگ ”لاواں گستاخ دا نعرہ“ پوری فلم کا نچوڑ ہے۔
فلم زندگی تماشا، بوسان اور لاس اینجلس میں 2021 ایشین ورلڈ فلم فیسٹیول میں ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہے۔ اور جہاں تک میری معلومات ہے۔ یہ فلم پاکستان کی طرف سے 2021 ء آسکر کے لیے بھی نامزد کی گئی تھی۔
ایک شاندار، جاندار اور باکمال فلم کے لیے سرمد کھوسٹ آپ کا بہت شکریہ۔


