بکرا منڈی


بکرا منڈی میں بہت گہما گہمی تھی۔ ہزاروں بکرے قصاب ایسوسی ایشن کے رخصت ہوتے ہوئے صدر کا خطاب سننے کے لیے جمع تھے۔ قصاب ایسوسی ایشن کا صدر عارضی طور پر اپنا کام چھوڑ رہا تھا۔ تاکہ دوبارہ اس عہدے پر فائز ہو سکے۔ اس نے بکروں سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کی بہبود کے لیے ہونے والی اپنی خدمات کی ایک فہرست ان کے سامنے رکھی کہ کس طرح نامساعد حالات کے باوجود اور گزشتہ صدر کی نااہلیوں کے نتیجے میں منڈی کی گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے کیا کیا قربانیاں دیں اور کس طرح اپنی ساکھ کو داؤ پر لگایا۔

انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کے سابقہ صدر کے زمانے میں آپ کو ذبح کرنے والی چھریاں نہ صرف کند تھیں بلکہ زنگ آلود بھی تھیں اور مذبوح بکروں کو جن رسّوں سے الٹا باندھ کر کھال اتاری جاتی ہے وہ رسّے پرانے ہونے کے باعث ٹوٹ جاتے تھے جن سے آپ کے ساتھیوں کا مذبوح جسم زمین پر آ گرتا تھا۔ اس ظلم کو دیکھ کر ان کی آنکھیں خون کے آنسو روتی تھیں اور وہ اس کوشش میں تھے کہ اس ظلم و ستم کو بند کر کے آپ کو عزت دی جائے۔

چنانچہ انہوں نے پیسے نہ ہونے کے باوجود نئی چھریاں خریدیں۔ انہیں تیز کروایا اور نئے رسّے خریدے۔ آپ جانتے ہیں کہ ان اخراجات کے لیے رقم کی ضرورت تھی جو موجود نہیں تھی۔ چنانچہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے دل پر جبر کرتے ہوئے اپنی ذبح کرنے کی فیسیں دگنی کر دیں اور اس سے جو رقم حاصل ہوئی اس سے نئی چھریاں اور نئے رسّے خریدے گئے تاکہ آپ کو ذبح ہوتے وقت کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ آمد میں یہ اضافہ ان کی ذاتی آسائشوں کے لیے تھا تو آپ بد گمان نہ ہوں۔

صرف آپ کی بہبود کی خاطر قصائیوں نے مجبوراً اپنی فیس بڑھائی۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ آپ کو شکوہ ہے کہ چارہ مہنگا ہونے کے باعث آپ کو پوری غذا دستیاب نہیں ہو رہی تھی لیکن ہماری قربانی کو ممنون احسان کی نظر سے دیکھیں جنہیں یہ چارہ محض اس لیے مہنگا کرنا پڑا تاکہ آپ کے مستقبل کو روشن کرسکیں۔ آپ یہ خیال نہ کریں کہ ہم لوگ چونکہ چارہ نہیں کھاتے اس لیے ہمیں اس گرانی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ ہم چارہ نہیں کھاتے مگر ہمارا اور آپ کا روزگار ایک دوسرے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ہم پر بھی آپ کی ان مشکلات کا جذباتی طور پر اثر پڑتا ہے اور ہم آپ کو تکلیف میں دیکھ کر ایک روحانی کرب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

میں بیان نہیں کر سکتا کہ کئی راتیں میں نے محض اس لیے جاگ کر گزاری ہیں کہ ہمارے یہ بھوکے بکرے کتنی مشکلات میں گرفتار ہیں۔ میرا دل ہر لحظہ آپ کے غم میں دھڑکتا رہا ہے اور باوجود اس کے کہ میری میز پر انواع و اقسام کی نعمتیں موجود ہوتی تھیں مگر میں بمشکل چند نوالے کھا کر اس سوچ میں پڑ جاتا تھا کہ بکرے بے چارے اتنے مہنگے چارے کو کیسے حاصل کرتے ہوں گے۔ آپ کے علم میں ہے کہ ہمارے قریب بکرا منڈی میں بھی آپ کے بھائی بند رہتے ہیں اور انہیں بھی چارے کی ضرورت رہتی ہے۔

آخر وہ بھی بکرے ہی ہیں اور انہیں چارہ پہنچانا بھی ہمارا فرض ہے۔ آپ کو یہ بھی علم ہے کہ ہمارا علاقہ کتنا زرخیز ہے اور جیسا اچھا چارہ یہاں پیدا ہوتا ہے وہ ساتھ کے علاقہ میں نہیں ہوتا۔ چارہ مہنگا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم ہمدردی کے جذبہ کے تحت اپنے ہمسایؤں کو بھی یہ چارہ سپلائی کرتے رہے۔ درست ہے کہ آپ کو اس سے مشکلات پیش آئیں۔ لیکن مخلوق کی ہمدردی ایک ایسا وصف ہے جس کے لیے قربانیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

میں آپ کو ان قربانیوں پر سلام پیش کرتا ہوں۔

تمام بکرے پرنم آنکھوں اور دھڑکتے دلوں کے ساتھ قربانیوں کی یہ داستان سن رہے تھے اور کہیں کہیں سے زندہ باد کے نعرے بھی سنائی دیتے تھے۔ انہوں نے بکروں کو خوشخبری سنائی کہ اس عارضی جدائی کے بعد ہم پھر آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوں گے اور امید رکھیں کہ اس دفعہ آپ کو ذبح کرنے کے لیے ایسی مشین منگوائیں گے جو آپ کو علم بھی نہ ہونے دے گی کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

یہ وعدے سن کر بکروں نے نعروں کے شور سے آسمان سر پر اٹھالیا اور اپنے روشن مستقبل کے تصور سے نہال ہوتے ہوئے گھروں کو لوٹ گئے۔

Facebook Comments HS