شعلہ ہی تو بجھ جائے ہے، آواز تو دیکھو
دنیائے موسیقی میں گائیکوں نے عشروں بعد پہچان بنائی لیکن سوشل میڈیا اور موجودہ سامعین کی بدولت، بائے بائے موسیقی، اور معروف خلاصیکل گائیک استاد چاہت فتح نے انتہائی قلیل مدت میں شہرت کے ایسے جھنڈے گاڑھے کہ اب اتارنا ممکن نہیں۔ ان کی آواز کا جادو نہ صرف موجبِ سمع خراشی ہے بلکہ کلاسیکل موسیقی کو خیر باد کہنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے مذہبی طبقات ان کے ممنون ہیں کہ موسیقی کے خلاف ان کی تبلیغ کام نہ کر سکی جو موصوف نے اپنی کار کردگی سے کر دکھایا۔
جیسے شیخ سعدی سماع کے شائق تھے اور ان کے استاد انہیں سماع سے روکتے تھے۔ آخر ایک شب انتہائی بھدی آواز والے قوال سننے کا اتفاق ہوا تو استاد کی نصیحت نے جو کام نہ کیا وہ اس بد آواز قوال کے، لحن داؤدی، نے کر دیا اور وہ سماع سے ہی تائب ہو گئے۔ چاہت فتح نابغۂ عصر تا مغرب ہیں اور قدرت نے انہیں راگ، الاپ، خوش الحانی اور سُر سے یکسر پاک صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کا اظہار فقط سوشل میڈیا پر ہی ممکن ہے۔ رموزِ موسیقی سے کامل بیگانگی کے باعث ارزاں شہرت کی، اتھاہ بلندیوں، پر براجمان ہیں۔
ان کے کلاسیکل جھٹکے ہر بار طبیعت کو نئی کوفت فراہم کرتے ہیں اور سامع جان نہیں پاتا کہ اب وہ کس کروٹ بیٹھنے والے ہیں۔ مرنجاں مرنج شخصیت ہونے کے ساتھ بزبانِ خود کروڑوں دلوں کی دھڑکن بھی ہیں۔ چھپن سالہ چاہت نے اب تک چھپن کیک اور موم بتیاں ضائع کیں ہیں اور اپنی بقیہ عمر مداحوں کی خدمت میں ایسے ہی گزارنے پر بضد ہیں۔ حال ہی میں انہوں کئی راگ اور راگچیاں ایجاد کیں جن میں راگ دیمک، راگ کلہاڑ، راگ بے زاری اور مال کھاؤنس وغیرہ شامل ہیں۔
ہر چیز کا صدقہ ہوتا ہے اور ان کو سننا ذوقِ جمالیات کا صدقہ ہے۔ اقبال نے شاعری کے ذریعے قوم کو جگانے کی کوشش کی وہیں خان صاحب نے سننے والوں کی نیند کافور کی۔ کوئی انہیں سن لے تو ٹُک روتا روتا سو جائے۔ کچھ ناقدین انہیں، بے سُروں، کے بے تاج بادشاہ سمجھتے ہیں۔ مگر انہیں معلوم نہیں کہ خاں صاحب نے نہ صرف سہگل، رفیع، لتا، نورجہاں اور نصرت فتح علی کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی سعیٔ لاحاصل کی بلکہ اپنی موجودگی سے کلاسیکل موسیقی میں بہت بڑا شگاف بھی ڈالا جو ان کی حیات میں پُر ہونا ممکن ہی نہیں۔
خاں صاحب چونکہ برطانیہ میں رہ کر پاکستانیوں پر آواز کا جادو کر رہے ہیں تو لگتا ہے کہ برطانیہ ہم سے غدر اور تقسیم کا لطیف انتقام لے رہا ہے۔ سنا ہے حکومت سنگین جرائم میں ملوث افراد کو جیل میں ان کے راگ اور الاپ با الجہر ہر دو گھنٹے بعد سنانے پر غور کر رہی ہے۔ اسی سے ملتی جلتی اک کہانی مراکش کی اک بستی کی ہے جس میں ایک بدآواز شخص کو اذان دینے کا بہت شوق تھا۔ عوام اس کی آواز سے بہت تنگ تھے مگر احترامِ اذان کے باعث خاموش رہتے۔
آخر تنگ آ کر بستی والوں نے اسے سوداگروں کے قافلے کے ساتھ دوسرے ملک بھیجا تاکہ کچھ روز کوفت سے نجات ملے۔ قافلے نے اک غیر مسلم بستی کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ حسب عادت مذکورہ آدمی وقت سے پہلے ہی اذان دے دیتا اور کسی اور کو اذان کا موقع ہی نا ملتا۔ اس کی کرب ناک آواز میں اذانوں نے اہلِ علاقہ کو بھی بے حال کر دیا۔ قافلہ روانہ ہونے لگا تو اس بستی کا سردار اپنے غلاموں سمیت آیا اور اذان دینے والے شخص کی بابت معلوم کیا۔
دل ہی دل میں قافلے والے خوش ہوئے کہ مؤذن کی سرزنش ہو گی اور اس بدآواز سے جاں خلاصی کی کوئی صورت بھی نکل سکے گی۔ مگر جب اسے سردار سے ملایا گیا تو سردار نے بڑے ادب سے سلام کیا اور بولا، حضور آپ کا احسان زندگی بھر بھلا نہیں سکتا۔ یہ کہہ کر اس نے ہیرے جواہرات کے بھرے طشت اس مؤذن کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی اسلام قبول کرنے کے لئے بضد تھی اور کسی طرح بھی اپنے ارادے سے باز نہیں آ رہی تھی مگر کل سے آپ کی اذانیں سن سن کر آپ کے مذہب سے بددل ہو کر اپنا ارادہ بدل چکی ہے۔ یہ سن کر قافلے والوں نے بمشکل ہنسی روکی۔
گویا پرانے وقتوں میں بھی بدآوازوں کے چرچے تھے مگر موجودہ دور تو حریم شاہوں، ٹِک ٹاکروں، بد آوازوں اور عقل و خرد سے ماورا ہستیوں کی پذیرائی کا دور ہے جس میں غیر احمقوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بنگلہ دیش میں بھی ایک شدید بے سرے گائیک، ہیرو عالم، کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور آئندہ نہ گانے کی یقین دہانی پر رہا کیا۔ بعید نہیں کہ اب توہین ِ موسیقی کے قانون بھی پاس ہونے لگیں۔ ہیرو عالم کے کروڑوں فالورز ہیں مگر چاہت فتح علی کے نام اور کام تک پہنچنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں،
اس صاحبِ بے تال کی ہر تان ہے وحشت
شعلہ ہی تو بجھ جائے ہے آواز تو دیکھو


