تھرپارکر میں واقع کارونجھر پہاڑ کی کہانی


قدرتی معدنیات کسی بھی خطے علاقے صوبے اور ملک کی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے قدرتی معدنیات نکالنے کے معاملے پر مقامی لوگ ہمیشہ تحفظات اور اپنی الگ رائے رکھتے ہیں۔ اگر معدنیات مقامی علاقے کی خوبصورتی ماحولیات سیاحت کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشی طور پر جڑی ہو تو مقامی لوگوں کا معدنیات سے لگاؤ زندگی اور موت کی طرح کا بن جاتا ہے کچھ اس طرح کی صورتحال ہے تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں موجود کارونجھر پہاڑ اور تھر کے لوگوں کی۔ کارونجھر پہاڑ سے گرینائٹ نکالنے کے لئے پہاڑ کی نیلامی کے اشتہار کے بعد پیپلز پارٹی کو سندھ میں شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ پہاڑ کی نیلامی کے خلاف فیسبک، ٹویٹر اور واٹسپ پر ایک بار پھر سے مہم چلنا شروع ہو گئی ہے۔ جس میں پاکستان بھر سے لوگ حصہ لے رہے تھے۔ مذکورہ ٹینڈر جو کہ محکمہ معدنیات سندھ کی جانب سے کارونجھر پہاڑ کی 17 مقامات کی کل 5 ہزار 9 سو 20 ایکڑ اراضی کی نیلامی کے لیے مشتہر کیے گئے تھے۔ جس میں 10000 روپے کے ناقابل واپسی چالان کے ساتھ 27 جولائی کو درخواستیں طلب کی گئی تھی، تاہم پاکستان بھر سے عوامی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ کارونجھر کی نیلامی کا محض ٹینڈر واپس لیا ہے۔ تاہم کارونجھر پہاڑ سے معدنیات نکالنے کا تاحال ارادہ نہیں بدلا ہے جس کی تردید صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کے دوران کی تھی۔

کارونجھر پہاڑ کہاں اور کون سے پتھروں پر مشتمل ہے؟

فطری حسن سے سرشار کارونجھر کی پہاڑیاں صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے شہر ننگرپارکر کے نزدیک واقع ہیں، ان پہاڑیوں کا تقریباً حصہ گرینائٹ و دیگر قیمتی پتھروں پر مشتمل ہے۔ مجموعی طور پر یہ پہاڑ 28 کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس کی 19 کلو میٹر لمبائی اور 305 میٹر اونچائی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ علاقہ تھرپارکر کے دیگر علاقوں سے بالکل منفرد ہے اس کے علاوہ یہ پہاڑ 108 مذہبی آستانوں، ثقافتی و سیاحتی مقاموں، ہزاروں مویشیوں، جڑی بوٹیوں اور خوبصورت مناظروں کا محافظ ہے۔

کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کی تاریخ۔

کارونجھر کی پہاڑیوں کی بار بار نیلامی اور کٹائی کا سبب اس میں پائے جانے والے قیمتی ذخائر ہیں، جس میں گرینائٹ کے پتھر، چائنہ کلی وغیرہ شامل ہیں۔ ان ذخائر کے حصول کے لیے سرمایہ دار کمپنیاں اراضی کے لحاظ سے کارونجھر کی مختلف پہاڑیوں کو لیز پر لے کر اپنے کاروباری نفع حاصل کرنا چاہتی ہیں، جس کی مقامی لوگ کھلے عام مخالفت کرتے ہیں،

کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کے مخالف کارونجھر سجاگ فورم کے سرگرم رکن اللہ رکھیو کھوسو کا کہنا ہے کہ ان پہاڑیوں سے پتھروں کی کٹائی کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ سلسلہ پچھلی تین دہائیوں سے جاری ہے، اس پہاڑ سے گرینائٹ نکالنے کا منصوبہ 1986 میں بنایا گیا تھا، گرینائٹ کے پتھروں کو نکالنے کے لیے مخلتف علاقے حکومت کی جانب سے (ایف ڈبلیو او) اور (کوہِ نور ماربل کمپنی) اور دیگر کمپنیوں کو بذریعہ لیز منتخب کر کے دیے گئے تھے۔ تین دہائیوں کے دوران پہاڑ کو مسخ کرنے کی کمپنیوں کی جانب کوئی قصر نہیں چھوڑی گئی تاہم اس دوران مقامی لوگوں کی مزاحمت و ردعمل پر عدالتی احکامات بھی جاری ہوئے لیکن کمپنیوں نے قیمتی پتھروں اور مخلتف معدنیات نکالنے کا کام آج تک زور و شور کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے، پہاڑوں کی بے دریغ کٹائی پڑ یہاں کے منتخب نمائندے بھی خاموش ہیں۔

کارونجھر پہاڑ مقامی لوگوں کے لیے اتنی اہمیت کا حامل کیوں ہے۔ ؟

پہاڑ کٹائی خلاف مقامی لوگوں کے ہم آواز صحافی ذوالفقار کھوسو کا کہنا ہے کہ پہاڑ کی کٹائی کرنا مقامی لوگوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے برابر ہے کیونکہ ان کی زندگی کا انحصار اس پہاڑ پر ہے، بہار کی رُت میں جب یہ پہاڑیاں ہریالی کی چادر اوڑھتی ہیں تب لاکھوں سیاح ننگرپارکر کا رخ کرتے ہیں جس سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔ ساتھ ساتھ بارشوں کے بعد کارونجھر کی پہاڑیوں سے سینکڑوں جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہے جس کو مقامی لوگ فروخت کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں، کارونجھر کی پہاڑیوں سے مجموعی طور پر 10 چھوٹی و بڑی بھٹیانی گوڑھدرو و دیگر مقامی ناموں سے منسوب نہریں بہتی ہیں جس کا پانی مختلف ڈیموں میں جمع میں جمع ہوتا ہے، یہ وہی 49 ڈیمز ہیں جو کہ حکومت کی سندھ کی جانب 20 ارب روپوں کی لاگت سے بنائے گئے ہیں۔ ڈیمز میں جمع پانی زراعت و مویشیوں کے لیے بھی کام آتا ہے ساتھ ساتھ اس پانی کا استعمال مقامی لوگ روز مرہ کی بنیاد پر کرتے ہیں، اگر پہاڑ کی کٹائی اسی طرح جاری رہی تو مقامی لوگ روزگار سمیت پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہو جائیں گے،

ان کا مزید کہنا تھا کہ ننگرپارکر کا علاقہ دو حصوں صحرا اور پارکر پر محیط ہے، جس حصے میں کارونجھر پہاڑ ہے اُسے پارکر کہا جاتا ہے، دوسرا صحرا جو کہ ریگستان، ریتلے ٹیلوں پر مشتمل ہے۔ پارکر کے علاقوں کی ایک بڑی خاصیت یہ ہے کے جہاں جہاں کارونجھر کی پہاڑیاں ہے وہاں پانی میٹھا ہے۔ کارونجھر کی پہاڑیوں میں ہزاروں مختلف نسل کے درخت پائے جاتے ہیں جن پر کان کنی کے دوران ڈائنامائٹ سے کیے جانے والے دھماکوں اور پتھروں کی کٹائی کے دوران ناقص اثر پڑتا ہے، متعدد درخت ناپید ہو جاتے ہیں، کئی درختوں کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ جس کے باعث یہاں پائے جانے والے درخت اب نایاب ہو چکے ہیں، پتھروں کی کٹائی و کان کنی سے نہ صرف پہاڑیوں کے حسن بے ضرر ہو جاتا ہے ساتھ ساتھ کٹائی و دھماکوں کی آوازوں اور روزانہ کی ہلچل سے یہاں پائے جانے والے جانور ہرن، گدِھ وغیرہ اور پرندے تیتر، بٹیر سمیت دیگر پرندے بھی خوف کیے باعث نقل مکانی کر چکے ہیں، یہ جانور اور پرندے اب ننگرپارکر کے قصبے کے لیے نایاب ہیں، جن کو پہاڑ کی کان کنی/ کٹائی سے قبل اکثر کارونجھر کی پہاڑیوں پر دیکھا جا سکتا تھا۔

کارونجھر پہاڑ دھرتی پر کب نمودار ہوئے؟

کارونجھر پہاڑ پر تحقیق کرنے والے محقق پروفیسر مشکور فلھلکارو کا کہنا ہے کہ : تھر کول کی ارضیاتی رپورٹس کے مطابق کارونجھر کے پہاڑی سلسلے کا جنم آج سے 14 کروڑ سال قبل زیر زمین آتش فشاں پھٹنے کے باعث ہوا ہے، کارونجھر کے سلسلے کی کل 109 چھوٹی و بڑی پہاڑیاں ہیں جن پر 108 جین مت و ہندو مذہب کے قدیم مذہبی آستان ہیں، حیران کن بات یہ ہے کہ ہر پہاڑی کی ایکالوجی دوسری سے الگ ہے۔ انھوں نے پہاڑ کی کٹائی کے حوالے سے روزنامہ جرات کو بتایا کہ سرکار کی جانب سے کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کا فیصلہ درست نہیں ہے، کارونجھر پہاڑ سمندر اور صحرائے تھر کے درمیان ایک زیر زمین ایک قدرتی دیوار کی مانند ہے، اگرچہ پہاڑ کی کٹائی کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں پارکر و گرد و نواح کا علاقہ نمکین کانوں میں تبدیل ہو جانے کا خدشہ ہے۔

دھرتی کے لیے کارونجھر کتنا فائدہ مند ہے۔ ؟

تھر ٹیکنیکل فورم کے سربراہ مقامی جیالوجسٹ دیال صحرائی کا کہنا ہے کہ : زمین پر تاریخ میں پہلی مرتبہ جب لاوا اگلا تھا تب دھرتی پر خشک سالی کے 7 بڑے جسم نکلے تھے ان میں سے ایک انڈین شیلڈ ہے، اس شیلڈ کی مکھیہ حب اکنیئیس راک ہے، جن کو ہم کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ کہتے ہیں، اس پہاڑ کو کاٹنے ایک مرتبہ پھر لاوا اگل کر باہر نکلنے کا خدشہ ہے، Isostasy مطابق زمین کی سطح متوازن رکھنے کے لیے فطرت کی جانب سے قائم کیے گئے پہاڑ ذمے دار ہیں، جس کی کٹائی سے توازن ٹوٹ جائے گا، جس کے باعث مزید 2001 جیسے زلزلوں کی تباہیاں متوقع ہیں، فورم کے رکن عطا محمد رند کا کہنا ہے کہ: اس پہاڑ سے فیلڈ سپر کے ٹوٹنے سے پوٹاشیم نکلتا ہے، جو کہ مٹی سے مل اس کو زرخیز بناتا ہے جس کے باعث ننگرپارکر سمیت آس پاس کے دیہات کی زمینیں زرخیز ہیں۔

تاریخی مقامات خستہ حال کیوں ہیں؟

کارونجھر کے دامن میں واقع تاریخی مقامات اور پائی جانی والی نباتات کو دنیا کے سامنے متعارف کرانے والے حاجی محمد کمبھر کا کہنا ہے کہ ننگرپارکر کے گرد و نواح میں اپنی رعنائیوں اور بناوٹ میں منفرد حیثیت رکھنے والے تاریخی مقامات وقت کے ساتھ ساتھ زبون حالی کا شکار ہیں، ان میں سے گاؤں گوڑی میں واقع مندر، ویرواہ میں واقع مندر، گاؤں بھوڈیسر میں واقع سنگ مرمر کے پتھروں سے بنے مندر اور مسجد آرٹ کا شاہکار نمونہ ہیں۔ جن کو صدیوں پہلے نہایت ہی کاریگری کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ فی الوقت ان تاریخی مقامات کے کچھ حصے مسمار ہو چکے ہیں، باقی حصوں کے کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ رہتا ہے! ان کا ماننا ہے کہ تمام تاریخی مقامات خطے کی تہذیب و تمدن اور تاریخ کی امانت ہیں، ان تاریخی مقامات کی جس قدر حفاظت اور وارثی جس ذمہ داری سے کرنی چاہیے تھی وہ ذمہ داری سندھ سرکار اور محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ سندھ سرانجام دینے سے قاصر ہے۔

بغیر کٹائی کے کارونجھر پہاڑ کے ذریعے کیسے کمایا جا سکتا ہے؟

حکومتِ سندھ اگر کارونجھر جیسے تاریخی پہاڑ کو روند کر معیشت کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اِس سے کئی گنا بہتر ہے کہ اِن تمام تاریخی مقامات کو تفریحی مقامات میں بدل کر سیاحوں کے لئے مزید پرکشش بنایا جائے اور یہاں کی سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ حکومتی عدم توجہی کے باعث ننگرپارکر کے تاریخی مقامات پر آنے سیاحوں کے لیے بنیادی سہولیات پانی سے لے کر واش روم تک کی سہولیات میسر نہیں ہیں اور نا ہی سیاحوں کی مدد کرنے کے لیے کوئی سائن بورڈز، گائیڈ لائنز وغیرہ ہیں جس کے باعث ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کو ننگرپارکر کے تاریخی مقامات پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مشکلات کے باوجود موسم بہار میں لاکھوں کی تعداد میں سیاح کارونجھر سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے ہیں۔

Facebook Comments HS