سات سمندر پار اردو ادب: ایک جائزہ


خواتینِ ذی وقار اور حضراتِ خوش اطوار

سوچتا ہوں کہ حسنِ اتفاق کی اس سے عمدہ عملی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ عزیز تخلیق کار دوست خلیق الرحمٰن نے مجھے حلقۂ ارباب ذوق، اسلام آباد کے اُس اجلاس میں ’ابتدائیہ‘ پیش کرنے کی دعوت دی ہے جس کا موضوع ہے ”سمندر پار پاکستانی اردو ادب: ایک جائزہ“ اور ابھی چند روز قبل اِدھر ٹورانٹو، کینیڈا میں مقبول نشریاتی ادارے ’ٹیگ ٹی وی‘ کے ادبی پروگرام ’بیٹھک‘ میں ایک خصوصی مذاکرے کا اہتمام ہوا جس کا موضوع تھا: ”کینیڈا شِمالی امریکا میں اردو ادب کی صورتِ حال اور کیا یہاں کے لکھاری اردو میں کینیڈین ادب بھی تخلیق کر رہے ہیں؟“ اور اس میں جن دوستوں کے ساتھ مکالمہ رہا ان کے نام بھی سُن لیجیے تاکہ ان کے ذکر کی وساطت سے ہم اپنے آج کے موضوع کے ساتھ منسلک ہو سکیں۔ پاکستان میں نئی اردو غزل کا ایک معتبر نام ”ساعتِ سیّار“ کے شاعر عرفان ستار، جدید تر اردو نظم کے توانا شاعر سلمان حیدر جن کا مجموعہ ”حاشیے پر لکھی نظمیں“ ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرچکا ہے، چار شعری مجموعے اور ایک افسانوں کی کتاب میری بھی اشاعت پذیر ہو چکی جبکہ اس پروگرام کے پیش کار و میزبان طاہر اسلم گورا کے تو افسانوں کے مجموعے، ناولٹ اور متعدد ناول بھی چھپ چکے ہیں اور نثری نظموں کا ایک مجموعہ بھی۔ اور ظاہر ہے یہ احباب اب مستقل طور پر کینیڈا ہی میں مقیم ہیں اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

اس ضمن میں نام تو اور بھی آئیں گے اور اصنافِ ادب کا ذکر بھی ہو گا مگر پہلے دو باتیں اس ٹی وی مذاکرے پر ہوجائیں۔ خلاصہ اس ساری گفتگو کا یہ تھا کہ مغربی ممالک میں مقیم نئی نسل کو کیونکر اردو زبان و ادب کے قریب لایا جائے تاکہ وہ بھی اس تخلیقی سرمایہ سے استفادہ کرسکیں اور یہ بھی کہ کس طرح مختلف ممالک کے اچھے لکھاریوں کو باہم مربوط کیا جائے۔ اس گفت گو کے نتیجہ میں ٹورانٹو کے جنوب ایشیائی ثقافتی میلہ میں ایک معیاری کثیر القومی مشاعرے کے انعقاد کی تجویز بھی سامنے آئی۔

دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ اس مذاکرے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کینیڈا میں اردو زبان بولنے والی آبادی کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اردو زبان میں متعدد ریڈیو اور ٹی وی پروگرامز ہوتے ہیں۔ یو ٹیوب چینلز الگ سے سرگرم ہیں۔ اردو کے ہفتہ وار اخبارات باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں بلکہ کچھ ماہانہ ادبی جرائد بھی۔ ٹورانٹو، مانٹریال، آٹوا اور دوسرے شہروں میں ادبی تنظیمیں بھی اپنے اجلاس، مقامی اور عالمی مشاعرے منعقد کرتی ہیں۔ ان تنظیموں میں حلقہ ارباب ذوق ٹورانٹو بھی پیش پیش ہے اور پھر ہمسایہ ملک امریکا میں نیویارک سے لے کر شکاگو تک اردو کے قدردان بھی موجود ہیں اور تخلیق کار بھی۔

غور کریں تو کیا کرہِ ارض کے اس انتہائی سرد خطے کا یہ اعزاز نہیں کہ اردو غزل کی شان جناب احمد مشتاق نے اسے اپنا مستقل مسکن بنا رکھا ہے اور پھر سرمد صہبائی ہیں، عارف امام ہیں، عشرت آفرین، حمیرا رحمان، رفیع الدین راز، سلمان صدیق، شیراز راج، احمد ندیم رفیع اور پھر افتخار نسیم بھی یہیں رہے ہیں۔ ستیہ پال آنند بھارت سے سہی مگر یہاں اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ نظم اور نثر دونوں میں لکھتے ہیں۔

میں اِدھر کینیڈا میں اپنے آس پاس ہی نظر دوڑاؤں تو دیکھیے کیسی کیسی شخصیات کی دل نشیں شبیہیں روشن ہونے لگتی ہیں۔ یاد کیجیے تو عظیم ناول نگار عزیز احمد بھی ٹورانٹو ہی میں رہتے تھے۔ سینئر ناول نگار اکرام بریلوی بھی یہیں قیام پذیر رہے۔ آج کی بات کروں تو اشفاق حسین ہیں جنھوں نے ایک دور میں ”اردو انٹرنیشنل“ کے نام سے ایک ادبی رسالے کا اجرا کیا۔ ان کی شاعری کے مجموعے بھی چھپ چکے اور نثر کی کئی کتابیں بھی۔ حال ہی میں ان کی کتاب ”فیض کی محبت میں“ منصۂ شہود پر آئی ہے۔ ڈاکٹر تقی عابدی کا نام بھی اردو ادب میں جانا پہچانا ہے۔ نسیم سیّد کو اردو شعر و ادب میں کون نہیں جانتا۔ شاعری، افسانے، مضامین ہر صنف میں ان کا قلم رواں ہے۔ ان کا ایک منفرد کارنامہ کینیڈا کے قدیم باشندوں یعنی ایبوریجنل لکھاریوں کی تخلیقات کا انتخاب اور ترجمہ ہے جو کتابی صورت میں شائع ہو کر دادوتحسین حاصل کرچکا۔ شاہدہ حسن کی شاعری اور تنقید کے اعلیٰ معیار کا ایک زمانہ معترف ہے۔ جاوید دانش دنیائے شعر و ادب میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ تسلیم الہی زلفی مدتِ دراز سے یہاں مقیم ہیں اور نظم و نثر کی کئی کتابیں ان کے کریڈٹ پر ہیں اور وہ ایک ادبی ٹی وی پروگرام بھی پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل ہمارے سینئر ادیب و شاعر ہیں جنھوں نے شعر و ادب اور نفسیات پر سترسے زائد کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں۔ تازہ ترین کتاب تو ہم دونوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب کے فن و شخصیت کا منفرد انداز میں احاطہ کرتی ہے۔ خالد سہیل ایک فعال ادبی تنظیم ’دی فیملی آف دی ہارٹ‘ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں جدید نظم گو امیر حسین جعفری ان کے شریکِ کار ہیں۔ امیر حسین جعفری، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، عہد ساز نظم نگار جناب اختر حسین جعفری کے صاحب زادے ہیں اور ٹورانٹو ہی میں سکونت رکھتے ہیں۔ اسی تنظیم نے گزشتہ دنوں جرمنی سے تشریف لائی شاعرہ صائمہ زیدی کے اعزاز میں خصوصی تقریب منعقد کی تھی۔ لیجیے ایک اور حسیں اتفاق صائمہ زیدی کے بعد جرمنی ہی سے ایک اور مہمان تشریف لائے عاطف توقیر جو جرمنی میں ( میرے سابقہ) نشریاتی ادارے دوئچے ویلے، دی وائس آف جرمنی کی اردو مجلس سے منسلک ہیں۔

مجھے یاد ہے جرمنی کے قیام کے دنوں میں جب قمر اجنالوی صاحب کے ساتھ مل کر ہم نے حلقۂ ارباب ذوق جرمنی قائم کیا تھا تو اس میں برلن سے بزرگ شاعر اور افسانہ نگار عارف نقوی اور رِشی خان، فرینکفرٹ سے طفیل خلش، بون سے افسانہ نگار اور شاعرہ رخسانہ شمیم اور آسٹریا سے نظم کے خوب صورت شاعر ڈاکٹر جاوید انور تشریف لایا کرتے۔ بعد میں حیدر قریشی اور کچھ اور نام بھی جرمنی سے سامنے آئے۔ سب کی خدمات لائقِ قدر ہیں۔

میں بات کر رہا تھا کینیڈا میں مقیم تخلیق کاروں کی۔ تو یہاں سینئر لکھاری عبداللہ جاوید بھی رہے اور شان الحق حقی بھی۔ حمایت علی شاعر نے بھی آخری عمر میں یہاں ڈیرہ لگایا اور ادبی محفلوں کو مہکایا۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر بلند اقبال خود صاحبِ کتاب افسانہ نگار ہیں۔ ان کے علاوہ شہناز خانم عابدی، شکیلہ رفیق اور روبینہ فیصل بھی عمدہ افسانے لکھتی ہیں۔ تخلیقی نثر کی بات ہو رہی ہے تو ہم سلطان جمیل نسیم، رضاء الجبار، کرامت غوری، معین اشرف، عابد جعفری، مظفر اقبال، رحیم انجان، حسین حیدر، مرزا یاسین بیگ اور احمد رضوان کے نام کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

رفیع مصطفے ٰ ناول نگاری میں اپنے فن کے جوہر دکھا رہے ہیں۔

شاعری کی طرف لوٹوں تو اشفاق حسین اور عرفان ستار کا ذکر تو ہوا ان کے ساتھ ساتھ سیّد افتخار حیدر، ضامن جعفری، ولی عالم شاہین، عبدالقوی ضیا، ابرار حسن، فاطمہ زہرہ جبیں، افضال نوید، منیر پرویز سامی، سلمان اطہر، کفیل احمد، کلیم ظفر، رفیع رضا، رشید ندیم، سیما نقوی، احمد سلمان اور شبنم رومانی صاحب کے صاحب زادے فیصل عظیم۔ اب کتنے نام گنوائے جائیں

بین الاقوامی شعری تراجم میں بیدار بخت صاحب اور شاہد اختر صاحب کا ذکر کرنا لازم ٹھہرتا ہے۔

تو عرض کرنے کا مقصد یہ کہ پاکستان سے باہر وہ یورپ ہو یا کینیڈا، امریکا یا پھر مشرقِ وسطیٰ اردو سے محبت کرنے والے جہاں جہاں گئے اپنی اردو بستیاں بساتے گئے۔ یاد آیا، اردو کی ’نئی بستیوں‘ کی ترکیب پہلی بار میں نے انتظار حسین صاحب سے سنی تھی جو نوے کی دہائی میں جرمنی میں ہمارے مہمان ہوئے اور پھر سن دو ہزار چار میں ٹورانٹو میں میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس میں بھی اس کی بازگشت سُنی۔ بھارت، پاکستان، امریکا، فرانس اور دیگر ممالک سے تشریف لائے مندوبین ان بستیوں کی خدمات کے معترف دکھائی دیے۔

تاہم اس تمام تر توصیف اور کارکردگی کے باوصف جو سوال ایک تشویش بن کر اردو کی نئی بستیوں کے باشندوں یعنی ہمارے ذہنوں پر دستک دیتا رہتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم سے پہلی اور ہماری نسل نے بھی اردو زبان و ادب میں بنیادی تربیت کے باعث اپنا رشتہ اس عظیم ورثے سے برقرار رکھا مگر ہماری آنے والی نسلیں جن کی تمام تر تعلیم اور رسمی تربیت دوسری زبانوں میں ہوئی ہے کیا اس ورثے کو سنبھال پائیں گی؟ اس بات سے قطعِ نظر کہ یہاں پلنے والی نسل انگریزی اور دوسری زبانوں میں تو لکھ رہی ہے مگر کیا مستقبل میں وہ اردو ادب کی تخلیق اور ترویج کا فریضہ بھی انجام دے پائیں گی؟

یہ حقیقت پسندانہ سوال ٹیگ ٹی وی کے مذاکرے میں بھی زیرِ بحث آیا اور اُس تازہ ترین گفتگو میں بھی جو میں نے حال ہی میں ممتاز شاعر اور محقق محترم ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب سے کی جو ان دنوں پاکستان سے باہر اردو کے ایک اور بڑے مرکز لندن، انگلستان کے سفر پر ہیں۔ میں نے ان سے یہی تکلیف دہ سوال پوچھا کہ اُن کے خیال میں اردو کی ان نئی بستیوں کی صورت حال کیا ہے؟ کس حد تک معیاری ادب اہم ادبی مراکز اور مرکزی دھارے سے اس قدر دور رہ کر تخلیق کیا جا رہا ہے یا کیا جاسکتا ہے؟

خورشید رضوی صاحب نے جو اباً فرمایا: ”اردو کی نئی بستیاں میرے خیال میں بہت قابلِ قدر ہیں۔ اصل میں سمندر پار جا کر اپنے وطن، اپنی روایات اور اپنی زبان سے تعلق شدت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ لوگ ایک ناسٹلجیا کے تحت زیادہ اخلاص کے ساتھ ادبی سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بیرونِ ملک اردو حلقے کوشش کرتے ہیں کہ ان محفلوں میں زیادہ سے زیادہ خالص اردو بولی جائے۔ اردو گفتگو میں انگریزی کی بھرمار ہمیں پاکستان میں زیادہ نظر آتی ہے۔ بیرونِ ملک یہ لوگ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اردو حلقوں کے ذریعے اپنی نئی نسل کو بھی اپنی میراث سے جوڑے رکھیں۔ تاہم، ان سرگرمیوں میں پرجوش شرکت ان لوگوں کی ہے جن کی عمر کم از کم پچاس برس کے آس پاس ہے۔ انھی کا ناسٹلجیا وطن سے مربوط ہے۔ جو بچے وہیں پلے بڑھے ہیں، ان کا وطن وہیں ہے، اور میرے خیال میں وہ فطری طور پر اس جذباتی تعلق میں شرکت کا ولولہ محسوس نہیں کرتے۔ سمندر پار کی یہ اردو بستیاں انھی لوگوں کے دم سے آباد ہیں جو پچاس پچپن سے لے کر ستر پچھتر تک کی عمر رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے شاید یہ سرگرمیاں دو عشروں سے آگے نہ جا سکیں۔“

میں، ظاہر ہے، یہ جواب سُن کر خاموش ہو گیا لیکن اس حقیقت کا اظہار آپ احباب کے سامنے ضروری تھا کہ آج جب آپ پاکستان سے دور بیٹھے لکھاریوں کی کارکردگی اور اردو زبان و ادب سے ان کی کمٹ منٹ پر بات چیت کریں تو شاید یہ بات بھی اس گفتگو کو کوئی پرسپکٹو، کوئی رُخ دینے میں مدد گار ثابت ہو سکے۔

میری یہ بکھری بکھری باتیں کوئی تحقیقی مقالہ تو ہیں نہیں، نہ میں تحقیق کے سمندر کا شناور ہوں۔ تعمیلِ حکم ضروری تھی سو کر رہا ہوں۔ موضوع کا تفصیلی اور تجزیاتی جائزہ اور اس کی مختلف پرتوں کو کھولنے کا فریضہ تو آپ صاحبانِ رائے کو ادا کرنا ہے۔ میں اب سُننے والوں میں شامل ہوں اور آپ کی سماعتوں کا از حد ممنون ہوں۔ شکریہ

(جناب نسیم سحر کی صدارت میں حلقہ ٔ اربابِ ذوق، اسلام آباد کے خصوصی اجلاس منعقدہ جمعہ 14 جولائی 2023 میں بطور ’ابتدائیہ‘ پڑھا گیا)

Facebook Comments HS