دوسری بیوی
پاکستانی معاشرے میں ضیا الحق کے نزول کے بعد تو عورتوں کے لئے بہت سے مسائل پیدا ہوئے اور اس کے لئے انہوں نے ایک طویل لڑائی لڑی لیکن اس سے پہلے تعلیم یافتہ عورتوں اور شہری عورتوں کا سب سے بڑا مسئلہ شوہر کی دوسری شادی تھا۔ 1955 میں جب محمد علی بوگرہ نے دوسری شادی کی تو خواتین خاص طور پر اپوا کی ارکان نے شدید احتجاج کیا اور جلوس نکالے۔ ان ہی خواتین کی پیروکاری کے نتیجے میں ایوب خان کی حکومت نے 1961 میں عائلی قوانین بنائے جن کا مقصد ایک سے زیادہ شادیوں کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔
پڑھی لکھی شہری خواتین کے لئے سوکن کو برداشت کرنا کسی طور ممکن نہیں تھا۔ کہتے ہیں کہ عورت مٹی کی سوکن بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اپنے شوہر کو کسی دوسری عورت کے ساتھ بانٹنا صرف ذہنی اور جذباتی تکلیف کا باعث نہیں بنتا بلکہ اس کے ساتھ مادی اور عملی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ سوکنوں میں تو لڑائیاں ہوتی ہی ہیں، آگے اولادوں کی دشمنی بھی چلتی ہے۔ اسی لئے عائلی قوانین بنائے گئے۔ مرد کی دوسری شادی پہلی بیوی کی عزت نفس کے لئے تازیانہ ہوتی ہے۔
وہ خود بھی اور دوسرے لوگ بھی یہی سوچتے ہیں کہ اس نے شوہر کو خوش نہیں رکھا ہو گا۔ اس میں کوئی کمی ہو گی جو شوہر کو دوسری شادی کی ضرورت پیش آئی۔ بچوں والی عورت کا شوہر دوسری شادی کرتا ہے تو معاشرے کی عمومی ہمدردیاں پہلی بیوی کے ساتھ ہوتی ہیں۔ عام طور پر مرد کو ہی برا بھلا کہا جاتا ہے کہ اس نے بے وفائی کی، ہرجائی نکلا وغیرہ مگر ایک طبقاتی اور پدرسری معاشرے میں اگر مرد اونچے سماجی مقام و مرتبہ پر فائز ہے تو لوگ چپ چاپ اس کے اس قدم کو برداشت کر لیتے ہیں اور اس کے منہ پر کچھ کہنے کی جرات نہیں رکھتے۔
وہ پہلی بیوی کو مظلوم اور دوسری کو ”گھر توڑنے والی“ سمجھتے ہیں۔ مگر منہ سے کچھ نہیں کہتے۔ شہروں میں رہنے والے جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی پس منظر رکھنے والوں طبقے کے مردوں کی ایک شادی تو خاندان کی پسند سے ہوتی ہے اور پہلی بیوی دیہی علاقے میں آبائی بنگلے میں رہتی ہے، دوسری شادی وہ شہر میں اپنی پسند کی کسی ماڈرن اور پڑھی لکھی عورت سے کرتے ہیں جو ان کی سیاسی اور سماجی زندگی میں ان کا ساتھ دے سکے۔ لیکن پڑھے لکھے متوسط شہری طبقے میں خود مرد بھی دوسری شادی کے بارے میں نہیں سوچتا اور اگر کبھی سوچ بھی لے تو اس کی پڑھی لکھی بیوی طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اور اپنے بیوی بچوں کو چھوڑنا مرد کے لئے بھی آسان نہیں ہوتا۔
اسی لئے عورت کی تعلیم اور اقتصادی خود مختاری پر زور دیا جاتا ہے۔ اس سارے معاملے میں دوسری عورت کے بارے میں کم ہی بات کی جاتی تھی لیکن اب یہ خیال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ اگر ہم اس حوالے سے مرد کو برا بھلا کہتے ہیں تو اس دوسری عورت کا بھی تو احتساب ہونا چاہیے جو جانتے بوجھتے ایک شادی شدہ مرد سے افیئر چلاتی ہے۔ اور اس کی دوسری بیوی بن جاتی ہے۔ کیا ایسی عورتیں حقوق نسواں کی تحریک کا حصہ بن سکتی ہیں؟ اور کیا ایسے مرد جو حقوق نسواں کی تنظیموں میں کام کرتے ہیں اور شادی شدہ ہوتے ہوئے کسی اور عورت سے فلرٹ کرتے ہیں یا دوسری شادی کرتے ہیں، کیا انہیں حقوق نسواں کے لئے کام کرنا چاہیے؟ اس کا جواب میں قارئین پر چھوڑتی ہوں۔


