توہین صحابہ بل متنازع کیوں؟
پی ڈی ایم گورنمنٹ نے اپنی اختتامی مدت سے دو روز قبل یعنی سات اگست 2023 کو سینٹ اف پاکستان میں تین درجن کے لگ بھگ بل پاس کروائے جن میں سے ایک بل تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 اے اور بی جو مذہبی شخصیات کی توہین سے متعلق سزا کی دفعات ہیں میں ترامیم لا کر سزاؤں میں اضافہ سے متعلق تھا مسلم لیگ نون کے سینیٹر حافظ عبدالکریم اور جماعت اسلامی کے ماہر قانون مشتاق احمد نے پیش کیا۔ یہ بل سینٹ کارروائی کی لسٹ میں پرائیویٹ ممبر کیٹگری کی سیریل نمبر 14 پر موجود تھا۔ قبل ازیں یہ بل قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی ہی کے ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی نے پیش کیا تھا۔ یہ بل اس قدر عجلت میں پاس کروایا گیا کہ اس کی کاپیاں تک ممبران سینٹ کو فراہم نہ کی گئیں۔ یہی وجہ تھی کہ وفاقی وزیر موسمیات محترمہ شیریں رحمان نے اس بل کو کاوٴنٹر کرتے ہوئے اسے اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجنے کی تجویز دی۔ جسے رد کرتے ہوئے بل پاس کر لیا گیا۔ اس بل کی رو سے امہات المومنین اہلبیت عظام صحابہ کرام کی توہین کے مرتکب ہونے والے کو کم از کم دس سال اور زیادہ زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس بل کے پاس ہونے سے ملک بھر کے اہل تشیع مسلمانوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔
اس بل کو متنازع کہنے کی وجہ یہ نہیں کہ سنی اسے مانتا ہے اور شیعہ اسے نہیں مانتا۔ اس بل کو شیعہ سنی ایشو کی وجہ سے متنازع نہیں کہا جا رہا۔ بلکہ بل کے اندر ایسے نکات ہیں کہ جو مسلمانوں کے چاروں فقہوں کے ہاں علمی طور پر اختلافی ہیں اور جب تک ان نکات کے متعلق واضح متفقہ اور مدلل موقف نہیں اپنایا جاتا یہ بل متنازع رہے گا۔ اس بل کو پانچ اہم نکات کی وجہ سے متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔
اولا ”صحابی ہونے کا معیار کیا ہو گا؟
صحابی کون ہو گا اور اس کی تعریف کیا ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کے جواب پر خود اہلسنت کے ہاں بھی اہل علم کا شروع سے اب تک اختلاف موجود ہے۔ کیا فقط وہی صحابی ہو گا جس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہو اور مسلمان ہو۔ اس کے علاوہ چاہے وہ تارک صوم و صلوات ہو عادل نہ ہو۔ جو صحابہ بعد رحلت رسول منحرف ہوئے ان کی عزت و تکریم بھی کرنا لازم ہے یا نہی۔ رسول خدا ﷺ کو دیکھنے کے علاوہ کون سی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے؟ کیا رسول خدا نے خود کبھی صحابہ کے آپسی جھگڑوں یا ایک دوسرے کی اہانت پہ کسی کو یہ سزا دی۔ یہ ایسی اختلافی بحث ہے کہ جو اس بل کو اختلافی اور متنازع بناتی ہے۔ جب تک صحابی کی ایک تعریف پر اتفاق نہیں ہوتا، اس وقت تک یہ بل متنازع رہے گا۔
دوئم کیا فقط صحابی کے ٹائٹل کی کوئی فضیلت ہے؟
یہ بھی بڑا اہم سوال ہے کہ جس طرح قرآن و حدیث میں اہل البیت کا لفظ آیا اور ان سے محبت یا ان سے تمسک رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تو کیا اسی طرح اصحاب کا لفظ بھی قرآن اور صحیح احادیث میں آیا ہے کہ جس سے اصحاب یا صحابہ والے ٹائٹل کی فضیلت ثابت ہوتی ہو۔ یہ بھی اختلافی اور متنازع موضوع ہے۔
سوئم کیا یہ قانون سب صحابہ کے لئے ہے؟
یہ قانون بلا استثنا ہر قسم کے صحابی کو شامل کرتا ہے، چاہے وہ چوتھے خلیفہ کے خلاف تلوار اٹھانے والا ہی کیوں نہ ہو؟ صحابہ کی آپسی جنگوں کا کیا ہو گا۔ صفین اور جمل کی جنگیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ان جنگوں میں طرفین کی جانب سے قتل ہونے والے اصحاب مقتول کہلائیں گے یا شہید۔ اور ان کے قاتلین کا اسٹیٹس کیا ہو گا۔ اگر ایسا ہے تو پھر اچھے برے ظالم و مظلوم اور عدل و انصاف کے پیمانے کا کیا کریں جو اللہ کے رسول ﷺ نے مقرر فرمایا تھا۔ مسلمان دنیا کو اپنے عادلانہ نظام کا کون سا رخ پیش کریں گے۔
چہارم توہین کا معیار کیا ہے؟
کیا اصحاب کے کارناموں کو بیان کرنا اور ان کا اہل بیت علیہم السلام پر یا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم بیان کرنا ان کی توہین شمار ہو گا یا تعریف۔
اور اگر صحابی اہلبیت علیہم السلام کی توہین کرے یا ان پر ظلم کرے تو پھر کس کو مقدم جانا جائے گا؟ اگر یہ سب توہین شمار ہو گا تو کون سی آیت یا صحیح روایت ہے جو اصحاب میں سے ظالم اور مظلوم کے فرق کو بیان نہ کرنے سے روکے، قاتل اور مقتول کی تشخیص نہ دی جائے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس پر شدید اختلاف ہے اور اس کا متفق جواب حاصل کیے بغیر یہ بل متنازع رہے گا۔
پنجم کیا یہ سزا فقط پاکستانی قوم کے لئے ہے یا صحابہ کے زمانے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ خلیفہ چہارم پہ مسلسل چالیس سال سب و شتم حتی کہ خطبہ جمعہ میں بھی اہانت اور ممبر رسول سے خطبا سے ببانگ دہل گالیاں دلوانے اور اب ان کا دفاع کرنے والے بھی اس قانون کی زد میں آئیں گے۔
یعنی اگر یہ اسلامی اور شرعی سزا ہے تو پھر جب قرون اولیٰ میں ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کی جاتی تھی تو کیا قانون ان کو بھی شامل کرتا تھا یا یہ دین میں نئی بدعت ایجاد کی جا رہی ہے؟ یا پھر یہ مان لیا جائے کہ یہ اسلامی قانون نہیں بلکہ غیر اسلامی قانون ہے؟ تو غیر دینی قانون اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق کیسے رائج کیا سکتا ہے۔ ان سوالوں کے جواب تلاش کیے بغیر بل پاس کرنا عقلی اور منطقی طور پر ہرگز درست نہیں۔ اب اس کا حل وطن عزیز میں موجود آئینی ادارہ اسلامی نظریاتی کونسل ہی ہے۔ جہاں تمام فرقوں کی نمائندگی موجود ہے۔ درج بالا سوالات پہ بحث و تمحیص سے مرتب ہونے والی سفارشات کی روشنی میں ناموس صحابہ قوانین پاس کر دیے جائیں تو کوئی فریق معترض نہیں ہو گا۔


