عدلیہ اور سوموٹو
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ’ریویو آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ 2023‘ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔ یہ بل اپریل میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد صدر عارف علوی کے دستخط سے قانون بنا تھا۔ اس قانون کے تحت آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت قائم ہونے والے مقدمات میں اپیل کا حق دیا گیا تھا۔ بنچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجازالاحسن شامل تھے۔
آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو مفاد عامہ کے کسی معاملہ میں ازخود نوٹس لے کر کارروائی کرنے کے اختیار کو سوموٹو کا نام دیا جاتا ہے۔ اس شق کے تحت جاری ہونے والے احکامات حتمی ہوتے ہیں۔ اس شق کی سب سے بڑی قباحت یہی ہے کہ متاثرہ فریق کو ایک فورم پر کسی فیصلہ کے بعد اپیل کرنے یا اس پر نظر ثانی کا حق نہیں ملتا۔ یہ طریقہ کار مسلمہ اصول عدل کے خلاف ہے۔
آئین میں سو موٹو اختیار بنیادی حقوق کی کسی سنگین خلاف ورزی پر انصاف فراہم کرنے کے نقطہ نظر سے دیا گیا تھا۔ آئین سازوں نے اس امید کے ساتھ کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ایک ذمہ دار عہدہ ہے جو طویل عدالتی تجربے اور قانون کے عمیق مطالعے کی بنیاد پر اس بات کا ادراک رکھتا ہو گا کہ اس اختیار کو احتیاط اور سوچ سمجھ کر استعمال کیا جائے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس اختیار کے بے دریغ استعمال نے یہ سنگین سوال پیدا کر دیا کہ کیا فرد واحد کو اتنا وسیع اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ متاثرہ فریق اس فیصلہ کے خلاف اپیل بھی نہ کرسکے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور ثاقب نثار نے اس اختیار کو بے محابا استعمال کر کے مخصوص سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔
اسی تناظر میں وکلا برادری نے بار بار یہ مطالبہ کیا کہ 184 ( 3 ) کے تحت کارروائی کا طریقہ کار طے کرنے کے لئے فل کورٹ کوئی قابل قبول اور انصاف پر مبنی حل نکالے تاکہ چیف جسٹس محض اخبار پڑھ کر یا شکایت پر سو موٹو نوٹس نہ لے سکے۔ اس شق میں طے کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس اسی وقت سو موٹو نوٹس لے سکتا ہے جب یہ مفاد عامہ سے متعلق ہو اور آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو۔ یعنی چیف جسٹس کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ سپریم کورٹ کو ٹرائل کورٹ میں تبدیل کر دیں کیوں کہ آئینی طور پر کوئی بھی معاملہ پہلے زیریں عدالت یا ٹرائل کورٹ میں زیر غور آتا ہے اور پھر اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔ یہ طریقہ سائل کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے متعین کیا گیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ خود ہی ٹرائل کورٹ بن جائے تو ایک تو متاثرہ فریق کا حق اپیل ختم ہوجاتا ہے، دوسرا یہ اقدام آئینی تقاضوں سے متصادم ہو گا۔ بدنصیبی سے ہماری اعلیٰ عدلیہ کے سربراہان نے ہمیشہ ان اہم پہلوؤں کو پیش نظر نہیں رکھا۔
آئیے دیکھیں کہ یہ قانون کیا تھا؟ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ میں سپریم کورٹ کے سوموٹو اختیار کے تحت سزا پانے والے شخص کو نظر ثانی کے بجائے اپیل کا حق دیا گیا تھا اور اپیل کی سماعت کرنے والا بینچ ’فیصلہ دینے والے بینچ سے بڑا ہونا ضروری تھا۔ اس ایکٹ کا اطلاق آئین کے آرٹیکل 184 / 3 کے پچھلے تمام مقدمات پر ہونا تھا۔ یہ قانون انتہائی اہمیت کا حامل، بنیادی انسانی حقوق کا ضامن اور فیئر ٹرائل کا حق دیتا تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص پر الزام لگے اور اس کے کیس کو سول کورٹ سنے نہ سیشن عدالت اور نہ ہائیکورٹ۔ کیس کی شنوائی صرف سپریم کورٹ میں ہو اور ایک یا دو رکنی بینچ جو بھی فیصلہ کرے‘ وہ حتمی ہو۔ اس کے بعد نظر ثانی کا کیس بھی وہی بینچ سنے جس نے پہلے فیصلہ دیا ہو۔ کیا کوئی بینچ اپنے ہی فیصلے کے برخلاف فیصلہ دے سکتا ہے؟
اگر پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے 184 / 3 کے اختیار میں توازن پیدا کرنے کے لیے قانون سازی کی تھی تو اس میں کون سی برائی تھی آئین فیئر ٹرائل کا تقاضا کرتا ہے اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ کسی شخص کو فیئر ٹرائل کے حق سے محروم کر کے آئین کی سربلندی کیسے ممکن ہے؟ اپیل کا حق تو دہشت گردی ایکٹ کی شق 7 ’سی آر پی سی کی دفعہ 302‘ آئین سے غداری کے آرٹیکل 6 اور ملک سے غداری کے آرٹیکل 5 کے کیسز میں بھی دیا گیا ہے۔ یہ حق 184 / 3 کے مقدمات میں دینے میں کیا حرج ہے؟
ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی وجہ ماضی میں 184 / 3 کے تحت دیے گئے فیصلوں کو بھی اپیل کا حق دینا ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے زیادہ مشہور میاں نواز شریف اور جہانگیر ترین کے مقدمات ہیں جو سپریم کورٹ کے اسی اختیار کے باعث سیاست سے تاحیات نا اہل قرار پائے۔ ممکن ہے کہ یہ سمجھا گیا ہو کہ یہ ”person specific“ قانون سازی ہے ’اس لیے اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ ماضی میں جتنے سوموٹو لیے گئے، ضروری نہیں کہ سب کے ساتھ انصاف ہوا ہو۔ آئین کسی بھی ادارے کو لامحدود اختیارات نہیں دیتا۔ اگر 184 / 3 کے قانون میں کچھ قباحتیں ہیں تو وہ ہر صورت دور ہونی چاہئیں۔
پارلیمنٹ قانون کو تمام غلطیوں سے پاک نہ بھی ہو، اس کے باوجود اس قانون کے تحت سائلین کو وہ بنیادی ریلیف دیا گیا تھا جو سپریم کورٹ بوجوہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ بار بار احتجاج اور توجہ دلوانے کے باوجود کسی چیف جسٹس نے فل کورٹ کے ذریعے 184 ( 3 ) کی توجیہ کرنے اور اس کے تحت اختیار کے استعمال کی واضح گائیڈ لائن بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کوئی بھی چیف جسٹس خود اپنے اختیار میں کمی کیوں قبول کرے گا۔ چیف جسٹس کے عہدے پر فائز فاضل جج کو اپنی ذات سے بالا ہو کر اپنے اختیار کی بجائے، انصاف کی فراہمی اور عدالتی استحکام کے لیے کوشاں ہونا چاہیے۔ لیکن سوموٹو کے حوالے سے ٹال مٹول سے کام لیا گیا اور کوئی واضح لائحہ عمل بنانے سے گریز کیا گیا۔ یہ رویہ چیف جسٹس کے منصب کے شایان شان نہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اب اپنے دو ساتھی ججوں کے ساتھ مل کر سابقہ حکومت کی قانون سازی کو تو ضرور آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے لیکن سوموٹو اختیار سے متاثرین کو نظر ثانی یا اپیل کا حق دینے کے حوالے سے کوئی ضابطہ یا طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی اس امر کا عندیہ دیا گیا کہ سپریم کورٹ سوموٹو اختیار کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لئے واضح اقدامات کرے گی۔ یہ صورت حال ملک پر جوڈیشل ایکٹوازم نافذ کرنے کے مترادف ہے۔ تین رکنی بینچ نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کو ہدایت دے سکتی ہے اور نہ ہی اس کی حدود متعین کر سکتی ہے، یہ عدالتی خود مختاری میں مداخلت ہے۔ تو پھر دریافت طلب امر یہ بھی ہے کہ تین ججوں نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ اور صدر مملکت کے دستخط شدہ قانون کو کالعدم قرار دے کر پارلیمنٹ کے اختیار میں واضح مداخلت کیوں کی ہے۔
جب تین رکنی بنچ پارلیمنٹ کی دانش کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردے کہ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پھر عمومی تفہیم اور کامن سینس کا حوالہ بھی دے۔ اسی دلیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو سپریم کورٹ کی بالادستی کے سامنے بند باندھنے کا کام بہر طور پارلیمنٹ ہی کا استحقاق ہے۔ کوئی عدالت پارلیمنٹ کو حق قانون سازی سے محروم نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی قانون ججوں کی آئینی تفہیم میں آئین سے متصادم ہو تو اس کے دو طریقے ہی قابل قبول اور درست ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ چیف جسٹس اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگر کسی مرحلے پر پارلیمنٹ کے اختیار کو جانچنا پڑے تو اس معاملہ کو فل کورٹ کے سامنے رکھا جائے تاکہ سپریم کورٹ کے سب جج اس معاملہ پر اپنی رائے دے سکیں۔ صرف تین ’ہم خیال‘ ججوں کو پارلیمنٹ کا اختیار محدود کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی بنچ اگر کسی قانون کو آئین سے متصادم سمجھے تو اس کو کالعدم کرنے کی بجائے پارلیمنٹ سے درخواست کرے کہ وہ اس قانون کے بعض حصوں پر نظر ثانی کر کے اسے آئین کے مطابق بنائے۔
فیصلہ قومی اسمبلی کی تحلیل سے پہلے دیا جاتا تو پارلیمنٹ اسی قانون کو بہتر کر سکتی تھی۔ اسمبلی کی تحلیل کے بعد فیصلہ سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ تین رکنی بنچ نے پارلیمنٹ کے حق قانون سازی کو محدود کرنے کی کوشش کی اور یہ بھی ضروری جانا کہ موجودہ پارلیمنٹ اس قانون میں کسی ترمیم کا موقع نہ مل سکے۔ منتخب ایوان کے بارے میں یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔ موجودہ چیف جسٹس ایک ماہ بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سیاسی نوعیت کے ایک اہم قانون کو کالعدم کرنے کے لئے اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے حکم جاری کرنا کیوں ضروری سمجھا؟ وہ تواتر سے فل کورٹ بنانے سے گریزاں رہے۔ اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ انہیں صرف اپنی ذات اور مخصوص ججوں کی قانونی فہم پر ہی اعتبار ہے۔ یہ رویہ اعلیٰ عدلیہ کی بے وقعتی کا سبب بنا ہے۔ چیف جسٹس نے متاثرین کو اپیل کا حق دینے کے لئے ایک اہم قانون سازی کو آئینی موشگافیوں کے نام پر مسترد کر کے بطور جج اپنی شہرت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے پہلے بھی آئینی شق 63 اے کی من پسند توجیہ کرنے کا دوہرا فیصلہ دے کر تنقید کی زد میں تھے۔ حالیہ فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ چیف جسٹس خود کو پارلیمنٹ سے بالا سمجھتے ہیں جس کا ثبوت ان کے متعدد فیصلے ہیں۔


