قابلِ محبت


 

سارہ ایک عام سی شکل کی لڑکی تھی لیکن شاید مسکرانے کے انداز میں کوئی اس کا مد مقابل نہیں تھا۔ اس نے کالی پینٹ کے ساتھ ہلکے ہرے رنگ کا کرتہ پہنا ہؤا تھا جو اس پہ بہت سج رہا تھا۔ سارہ کو سمجھ میں نہیں آریا تھا کہ وہ نیلم کے سوال کا کیا جواب دے۔ اس نے اپنی کرسی سائے میں گھسیٹتے ہوئے کہا۔ ‘نہیں یار! اب تم اس بات کو اور نہیں کھینچو۔’
‘کیا ہوا! میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ‘
‘ ہاں یار! ایسا ہی ہے۔ ‘

‘آخر ہوا کیا، تم تو اس پہ فدا تھی۔ اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کے لئے کوشاں تھی۔’ نیلم کے گہرے سانولے جاذبِ نظر چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
‘کیا بتاؤں نیلم کی بچی! اب اس میں وہ بات نہیں رہی۔’
نیلم نے کافی کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے کہا ۔ ‘تو یہ معاملہ کیسے بگڑ گیا۔ کیا بات چیت ختم ہو گئی؟ کلب میں تو وقار کو دو تین مہینے سے دیکھا ہی نہیں، جب سے اُس کے باپ کا انتقال ہؤا ہے۔’ پھر وہ کچھ ٹھٹھک کر بولی۔ ‘کوئی لڑائی وڑائی تو نہیں ہوئی اس سے تمہاری! ‘
‘ابھی دو روز پہلے ہی اس سے بات ہوئی تھی۔ یار ، بس وہ بدل گیا ہے۔’
‘کاروبار کی پریشانی ہے اس کو۔ جب فیکٹری اس سے سنبھل جائے گی تو نارمل ہو جائے گا ۔’
سارہ ہاتھوں کو ملتے ہوئے بولی۔ ‘اس کے ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے فیکٹری۔ بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے اس کو۔ میں نے اس کی بہت ہمت بڑھائی ہے لیکن اس کے بس کی بات نہیں۔ کب تک ماں باپ کا چھوڑا ہوا پیسہ کھاتا رہے گا! ‘
‘تو پھر؟ بات تو بہت فکر کی ہے۔’ نیلم بھی اب سائے میں آ گئی تھی۔
‘میں نے وقار سے ایک دو بار کہا کہ فیکٹری کو بیچ دو۔ لیکن وہ اس کے لئے تیار نہیں ہے۔’
‘اچھا ! کبھی تم اس سے ملی بھی ہو آجکل میں، یاں فون پہ ہی گزارا ہو رہا ہے؟’
‘جب ملی تھی تو بتایا تھا تم کو۔ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن کہہ بھی نہیں پا رہا۔ بیوقوف کہیں کا! ‘
‘یار، تم اس سے شادی کر لو۔ میرے خیال میں اسے کسی ساتھی کی ضرورت ہے۔ تمہیں پتا ہے کہ ایک دو تَو اس سے کھل کر محبت کا اقرار بھی کر چکی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اس پریشانی میں کسی اور کے ہتھے چڑھ جائے۔’
‘نیلم ، میری بھولی بھالی دوست۔ میں کب سے انہی سب حالات پہ غوروفکر کر رہی ہوں۔ کچھ نیندیں بھی برباد کی ہیں تاروں کے ساتھ۔ ۔ سوتے ہوئے نجانے کتنی بار اس کی آواز میرے کانوں میں سرسراہٹ کرتی ہے، اس کی تصویر خود ہی سامنے آجاتی ہے پھر تھوڑی دیر بعد غائب ہو جاتی ہے۔ پھر میں بڑبڑاتی ہوں جیسے اس سے باتیں کر رہی ہوں۔ وہ کسی نا کسی طرح میرے دائیں بائیں آگے پیچھے موجود رہتا ہے جیسے مجھ سے آنکھ مچولی کھیل رہا ہو۔ میرے حواس پہ یکا یک طاری ہو جاتا،ہے۔ بعض دفعہ مجھے لگتا ہے کہ اس نے مجھے پاگل کر دیا ہے۔ یہ پاگل پن، دیوانگی، مجھے کس گناہ کی سزا مل رہی ہے نیلم! ‘
‘اور یہ سب کچھ تم نے مجھ سے چھپایا ہوا ہے! ‘ نیلم نے ویٹرس کو اشارے سے بلایا۔ ‘تم اس سے اتنی محبت کرتی ہو تو میں اس سے تمہاری شادی کی بات کرتی ہوں۔ ‘
‘خبردار ، شادی کا نام نہیں لینا اس کے سامنے۔ آہستہ آہستہ وقار بدل رہا ہے۔ نہ چہرے پہ وہ تازگی، نہ لباس کا خیال، نہ ہی ہنسی مذاق۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ زندگی اس سے روٹھ گئی ہے۔’
‘تم اس سے محبت کرتی رہو گی لیکن شادی نہیں! کیا گھاس کھا لی ہے تم نے؟’

سارہ نے نیلم کی بات سنی ان سنی کر دی۔ وہ گلاب کے پھولوں کی کیاری کی طرف دیکھنے لگ گئی جیسے وہاں سے وہ پھول اسے الفاظ کی پنکھڑیوں سے نواز دیں گے۔

‘زندگی، زندگی نہ جانے کیوں موسم کی طرح بدلتی رہتی ہے۔ باپ کا حادثے میں انتقال، فیکٹری میں نقصان، یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ وہ اس آندھی میں اپنے قدم جما کر کھڑا ہی نہیں ہو سکا۔’

سارہ! وقار کو ایک سہارے کی ضرورت ہے۔ ‘

گھنے پتوں میں سے ہوا چھن چھن کر آ رہی تھی۔ نیلم نے ہوا کے جھونکوں سے مچلتے ہوئے بالوں کو سنوارتے ہوئے کہا۔ ‘میں نے بھی تَو مشکل وقت میں اقبال کا کتنا ساتھ دیا تھا! ‘

‘نیلم ۔’ سارہ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔

‘مجھے لگتا ہے کہ یہ سب لوگ مجھے دیکھ ہی نہیں رہے ہیں بلکہ میری زندگی کا نیا باب پڑھ رہے ہیں۔’
‘ان کے بارے میں نہیں سوچو۔ لوگوں کا تو کام یہی ہے۔ ‘

‘میں اس کی بیساکھی نہیں بننا چاہتی، اور وہ بھی شادی کے بعد پہلے ہی دن سے۔’

‘لیکن پھر یہ محبّت وحبّت کیا ہے! ‘
سارہ نے گلدان میں لگے سفید موتئے کے پھولوں میں سے ایک کو احتیاط سے چنا اور کیاری کی طرف پھینک دیا۔ پھر وہ معنی خیز نظروں سے نیلم کو دیکھنے لگ گئی۔

نیلم خاموش رہی اور آنکھوں ہی آنکھوں سے اپنے سوال کو دہرایا۔

‘ ہاں! میں تَو اس سے محبت کرتی ہوں، لیکن ان حالات میں وہ میری محبت کے قابل نہیں ہے۔’

Facebook Comments HS