افغانستان: افغان خواتین کیلئے زندان

افغانستان پر طالبان کے دوبارہ قبضے سے افغان خواتین کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی، افغان خواتین کو تعلیم اور کام کرنے کی اجازت ملے ہوئے دو ہی دہائی گزرے تھے کہ ایک بار پھر 15 اگست 2021 کو طالبان برسراقتدار آ گئے جس کے فوراً افغان خواتین پر قدغنیں لگنا شروع ہو گئیں۔ وہ تعلیم کی بنیادی حق سے محروم ہو گئے، کام کرنے پر پابندی لگ گئی، حجاب لازمی قرار پایا۔ یہاں تک امسال افغانستان میں طالبان نے کانکور (کانکور افغانستان میں سیکنڈ ائر کے بعد افغانستان کے سطح پر امتحان ہوتا ہے مذکورہ امتحان کے بعد طلبہ و طالبات یونیورسٹی میں داخلے کے شعبہ جات کا انتخاب ہوتا ) امتحانات میں لڑکیوں کے بغیر لیں ان کو اجازت نہیں ملی کو امتحان دے سکیں۔
افغان خواتین کے لئے افغانستان ایک جیل بن گیا جس میں وہ کسی اور کے رحم و کرم پر ہیں، وہ اکیلی کہیں سفر نہیں کر سکتیں، تفریح کے لئے پارک اور ورزش کے لئے جم نہیں جا سکتیں، تعلیم تو ان کے لئے شجرہ ممنوعہ قرار پائی۔ طالبان کے جانب سے جاری 50 احکامات افغان خواتین کی زندگی پر مکمل طور اثر انداز ہوئے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی مشن برائے افغانستان (یوناما) نے ایک مہم کا آغاز افغان لڑکیوں کی آواز کے نام سے کیا ہے۔ اس مہم کے تحت وہ افغان خواتین کی کہانیوں کو یکجا کر رہے ہیں اور وہ دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ ایسی ایک کہانی ایک افغان خاتون نے یوناما کے ساتھ شریک کی جس میں وہ کہتی ہیں ”15 اگست 2021 سے پہلے وہ ایک استانی تھی لیکن کابل کے سقوط کے بعد انہوں نے پدرانہ معاشرے میں عورت ہونے کا ایک کڑوا ذائقہ چکھا۔ وہ اپنی کہانی بتاتی ہوئی کہتی ہیں جب 2021 میں طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا اور اقتدار میں واپس آئے تو مجھے ڈر تھا کہ ہم ماضی میں واپس چلے جائیں گے، مجھے طالبان کی طرف سے لڑکیوں کے سکول بند کرنے، خواتین کو کام سے روکنے اور سرعام عورتوں کو سنگسار کرنے سے خوف تھا۔ اس کے بعد میرے بدترین خوف سچ ہو گئے۔“
ایک اور خاتون نے اپنی کہانی یوناما کو کچھ یوں بیان کی ”میں سابقہ دور حکومت میں عدالتی نظام میں آزادانہ طور پر کام کرتی تھی۔ لیکن اب میں بیروزگار ہوں، طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے میں نے قانون سازی، انسانی حقوق کی دفاع اور شہری سرگرمیوں میں مہارت حاصل کرنے کے لئے کئی انٹرن شپس کی تھیں۔
اب میں بیروزگار ہوں، یہ میرے اور مجھ جیسے دوسری خواتین کے لئے انتہائی افسوسناک ہے، کیونکہ میں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کے لئے بہت محنت کی تھی۔ لیکن اب ہم گھر کی چار دیواری تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ میں نے اپنی ملازمت کھو دی جس کے لئے میں نے کئی سالوں سے کام کیا اور جدوجہد کی۔ ” وہ کہتی ہیں کہ ”میں ہمیشہ حقیقی انصاف چاہتی تھی، لیکن میں نے شریعت کے دائرہ کار میں جو آزادی حاصل کی تھی اسے میں نے کھو دیا۔“
افغان خاتون مزید کہتی ہے کہ ”کہ تعلیم جاری رکھنا ایک خوبصورت عمل ہے، جب کوئی یہ کر سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اب ہم اپنا حاصل کردہ علم استعمال بھی نہیں کر سکتے ہیں اور یہ عمل ہمیں تنہائی کی طرف لے گیا ہے۔ “ اس کے بقول: اس کے خاندان کے چھوٹی بچیاں بھی سکول نہیں جا سکتی ہیں۔ اگر طالبان کا تسلط برقرار رہتا ہے تو افغان خواتین کو الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔
جب کہ دوسری طرف طالبان کہتے آرہے ہیں کہ انہوں نے افغان خواتین کو اسلامی اصولوں کے مطابق تمام حقوق دیے ہیں۔
یاد رہے افغانستان میں پہلی بار خواتین کے تعلیم پر پابندی عائد نہیں ہوئی ہے، اس سے پہلے امیر امان اللہ خان کے دور میں ایک جرگے نے امیر امان اللہ خان کو مجبور کیا کہ وہ بچیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کرے اور اس کے ساتھ سکالرشپ پر بیرون ملک حاصل کرنے والی بچیوں کو واپس افغانستان بلائیں۔ اس کے بعد جب بچہ سقہ (امیر حبیب اللہ ) کابل کے اقتدار پر فائز ہوئے تو انہوں نے نہ صرف بچیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی بلکہ لڑکیوں کی سکولوں کا فرنیچر بھی نیلام کر کے فروخت کر دیا۔ اس کے بعد جب نوے کے دہائی میں طالبان پہلی بار اقتدار پر براجمان ہوئے تو انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔ طالبان کے پہلے پانچ سالہ دور حکومت میں ایک بھی بچی یونیورسٹی نہیں جا سکیں۔

