ریاست میں آزادی کا مقام


ریاست کسی بھی قوم کے سیاسی وجود اور جغرافیائی وحدت کا نام ہے۔ یہ ایک سیاسی اکائی ہے جسے اگر فرد سے ممثل کیا جائے تو ایک جسد واحد کی طرح ہے جو چار بڑے عناصر سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔۔۔جسم،دل،دماغ اور روح۔
انہی اجزاء کو علم سیاسیات کی روشنی میں بالترتیب مذکورہ دیکھا جائے تو یہ چاروں عناصر علاقہ،آبادی،حکومت اور اقتدار اعلیٰ کہلاتے ہیں۔
ریاست کے شہری بمنزلہ دل کے ہیں جو مرکزی مقام رکھتے ہیں اور جن کے طفیل ریاست کے وجود کا قیام اور بقا ممکن ہوتی ہے۔
دماغ اس قوم کا دانشور طبقہ ہے جو محققین،مفکرین،سائنسدان، علماء و فقہاء،ادباء و شعراء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین پر مشتمل ہوتا ہے۔حکومت، قیادت و سیادت اسی طبقے سے جنم لے تو مثالی ٹھہرتی ہے۔
جسم ریاست کے علاقے کا استعارہ ہے جو ایک جغرافیائی وحدت ہوتی ہے۔ ہر جزو، کل کے ساتھ مربوط اور مضبوط رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ روح ریاست و قوم کی آزادی سے عبارت ہے۔ یہ ریاست کی زندگی کی علامت ہے۔
کسی بھی ریاست کی ترقی و خوشحالی کا راز انہی اجزائے ترکیبی کی صحت بخش حالت، توازن اور اعتدال میں مضمر ہے۔
ریاست کو بھی فرد کی طرح عارضے لاحق ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ کبھی اس کے جسم پہ ضرب کاری لگ سکتی ہے جو بروقت علاج نہ ہونے کے باعث ناسور بنتی چلی جاتی ہے اور ریاست کے وجود کے لیے مہلک ثابت ہوتی ہے۔
یہی حال دل کا ہے جو مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور دوران خون کا ناظم الامور ہے۔ دل کی صحتمند حالت میں رگوں اور شریانوں کا اہم کردار ہے۔ بلڈ پریشر میں عدم استحکام اور کولیسٹرول میں اضافہ اس کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ دل تمام احساسات و جذبات کا منبع و مرجع ہے۔ ریاست کا دل اُسکی عوام ہیں۔ خیر کثیر کے تمام داعیے بشمول قومی یکجہتی، اخوت و بھائی چارہ اور عوامی فلاح و بہبود ایسے عوامل ہیں جو اس دل کی صحتمندی کی ضمانت ہیں۔

دماغ اعصابی نظام میں حاکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام حواس و محسوسات، تعقل، تفکر و تدبر کے لیے ترازو کی طرح ناپ تول اور توازن کا زمہ دار ہے۔ ذہنی امراض جہالت، کج فہمی ، سماجی شعور کی کمی، فکری پسماندگی ؛ تخلیقی،تنقیدی اور تحقیقی سوچ کی درماندگی سے سابقہ رکھتے ہیں جنکی بروقت تشخیص اور علاج نہ کرنے کی صورت میں سارا ریاستی ڈھانچہ ہی مفلوج ہو سکتا ہے۔
روح اس وجود کے زندہ ہونے کی شہادت ہے۔ روح ایک غیر مادی، اخلاقی(ریاست کے لیے قانونی) و معنوی وجود ہے۔ روح کے عوارض میں اخلاق رزیلہ(ریاست کے لیے کچھ استثناء) کی ایک لمبی فہرست ہے جن سے آگاہی اور نتیجتاً احتراز ناگزیر ہوتا ہے وگرنہ ریاست اپنی انفرادیت اور آزادی کی نعمت سے محروم ہو سکتی ہے اور کسی بھی دوسری ریاست کی مطیع، دستِ نگر اور باجگذار بن جاتی ہے۔
مندرجہ بالا سطور میں ریاست کو فرد کے ساتھ مماثل قرار دیتے ہوئے ان عناصر و عوامل کی تخیلاتی طور پر نشاندھی کرنے کی ایک حقیر سی جسارت کی گئی ہے جو ریاست تشکیل دیتے ہیں۔ مقصد پیشِ نظر یہ ہے کہ ہم اس قابل ہوں کہ ہمارے اس قومی وجود یعنی وطن عزیز میں کون کون سی بیماریاں گھر کر چکی ہیں، کن کن اعضاء کو کون کون سے عوارض لاحق ہیں، کیسے اور کیونکر علاج ممکن بنایا جا سکتا ہے؟
اُمید ہے کہ قارئین کے لیے یہ تحریر تاریخی تناظر میں موجودہ قومی مسائل کی تشخیص کرنے اور اپنے اپنے حصے کی شمع جلانے کی حد تک صحتمند اور روشن مستقبل کے لیے حل تجویز فرمانے میں سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments