سوڈانی خانہ جنگی کی تازہ صورتحال

سیاسی چپقلش جب کسی طور حل ہونے کا نام نہ لے اور شکر رنجی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ ملکی امن وسلامتی داؤ پہ لگ جاتی ہے باہمی غلط فہمیاں اس قدر گہرے فاصلے پیدا کردیتی ہیں اس کی کئی امثال تاریخ سے بھی ملتی ہیں اور تازہ واقعات بھی آج اس دور میں نمایاں مل جاتے ہیں۔ ملکہ وحدت و اتحاد کی بنیادیں جلا کر رکھ دی گئی ہیں یہ محض اناپرستی اور میں نہ مانوں کے مصداق ہے۔ سوڈان شمال مشرقی افریقی اسلامی جمہوریہ ہے اس کے اڑوس پڑوس میں مرکزی افریقی مملکت ہے جو جنوب مغرب میں واقع ہے، چاڈ اس کے مغرب میں ہے، مصر شمال میں ہے اریٹیریا شمال مشرق، ایتھیوپیا اس کے جنوب مشرق میں واقع ہے، لیبیا شمال مغربی ہمسایہ ہے، اور جنوب میں جنوبی سوڈان اور بیرۂ احمر واقع ہے۔ کل آبادی ساڑھے چار کروڑ نفوس پہ مشتمل ہے اور اس کا کل رقبہ 1886068 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ رقبہ کے لحاظ سے عرب دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔
2011 میں جنوبی سوڈان کو علیحدہ مملکت کا درجہ دیا گیا تب تک یہ سب سے بڑا افریقی اسلامی ملک تھا۔ بہرحال خرطوم آج کل اس کا دارالحکومت ہے۔ البتہ اومدرمان آبادی کے لحاظ سے اس کا سب سے بڑا شہر ہے۔ قدرت نے بڑی فراخ دلی سے اس دھرتی کو ہر نعمت سے بھی نوازا ہوا ہے۔ قیمتی زمینی دھاتوں کی بھرمار ہے جیسے سونا، چاندی، تانبا، گیس و پٹرولیم، زنک، ایسبیسٹوس وغیرہ کی بہتات ہے۔
بدنصیب ملک کی ایک وقت میں معیشت صیحح رخ پہ بگٹٹ دوڑ رہی تھی اس کا پورے عالم میں سترہ نمبر تھا ترقی کا کہ پھر وہی ہوا جو عموماً ہمارے ایسے ممالک کا خاصا ہے۔ بھائی بھائی سے لڑ پڑے۔ اس میں ان قیمتی قدرتی وسائل کے حصول اور ہل من مزید کا سارا معاملہ ہے۔ قومی فوج کے سربراہ جنرل محمد ابرہیم اور غیر سرکاری مسلح جھتے کا سربراہ جنرل اوگلو ہے ان دونوں قریبی ساتھیوں کے درمیان ایک گرما گرمی ہو گئی اور باہم دست و گریباں ہو گئے اور فیصلہ اب زبانوں سے نہیں ہو رہا بلکہ توپ و تفنگ سرعام استعمال کیا جا رہا ہے۔
سارے ملک کی فضا مکدر ہو چکی ہے۔ چار ماہ سے جاری اس خانہ جنگی کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی کی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں۔ ساٹھ لاکھ لوگ مہاجرین بن کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہوچکے ہیں۔ بہت بڑی آبادی کو بھوک وافلاس کا سامنا ہے۔ اب تک اندازہ 4000 افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔ بجلی ناپید ہونے کی وجہ سے لوگ موبائل فون چارج نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے باقی دنیا سے رابطوں میں دشواری ہے۔
کسان اپنے کھیتوں کو آباد نہیں کر سکتے۔ ادویات و اشیائے خور و نوش کی شدید قلت پائی جا رہی ہے۔ عجب افراتفری کا عالم ہے۔ بے یقینی اور بے بسی کا ایک نہ ختم ہونے والا منظر نامہ نہایت کریہہ الشکل ہے۔ صرف بیماری و افلاس ہی مفت میں دھڑا دھڑ بآسانی دستیاب ہے۔ عزتوں کی عصمت دری جاری ہے اس عالم میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے جب یہی واحد ذریعہ آمدن و کاروبار بن جاتا ہے۔ تاریخ انسانی اس کی واضح امثال دیتی ہے۔ بدنصیب خواتین جو ایسے مظالم کا شکار ہو کر امید سے ہوجاتی ہیں، ان کی اپنی صحت وسلامتی کا کوئی معقول انتظام بھی نہیں ہوتا اور اس طرح آنے والا بچہ یقیناً بیماریوں کا شکار بن جاتا ہے اور معاشرے میں مزید بوجھل افراد کا غیر ضروری اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
اس سارے منظر نامے میں بین الاقوامی ردعمل بھی انتہائی سرد مہری کا شکار نظر آتا ہے۔ ادھر قریبی ہمسائے لیبیا اور نائیجر کے حالات بھی انتہائی دگرگوں دکھائی دیتے ہیں جہاں باہمی سرپھٹول سے افریقی ممالک میں عجب بدامنی اپنے پنجے گاڑ چکی ہے اور حالات کب اور کیسے سدھریں گے کسی کو حتمی طور نہیں معلوم۔ بس ایک موہوم سی امید امن برقرار رکھنا لازم ہے۔

