سانحہ جڑانوالہ اور اسلام کے خود ساختہ محافظ


رحمتِ سید لولاک پہ کامل ایمان
اُمتِ سیدِ لولاک سے خوف آتا ہے

یوں تو اب وطنِ عزیز میں کچھ ناممکن نہیں رہا۔ نہ کوئی حادثہ نہ کوئی سانحہ اب حیران کرتا ہے۔ غالب نے بجا کہا تھا کہ ”ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے“ ۔ کس قدر بے یقینی اور کھوکھلا پن ہے معاشرے میں نہ عدلیہ پہ یقین، نہ حفاظتی اداروں پہ اور نہ ہی حکمرانوں پہ۔ بلکہ شاید اب تو اپنی ذات پہ بھی یقین نہیں رہا نہ جانے کب اور کہاں دہشت گرد قرار دے دیے جائیں۔ ہم بطور قوم جذباتی اور شدت پسند تو ہمیشہ سے ہیں لیکن اب اس شدت پسندی نے جو منفی رُخ اختیار کیا وہ لمحہٴ فکریہ ہے۔

سانحہ جڑانوالہ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ ہماری معاشرتی شخصیت کا آئینہ ہے۔ معاشرے میں پھیلتی بدبودار سوچ کی عکاسی ہے۔ ریاست کی کھوکھلے اور کمزور عدالتی نظامِ پر سوالیہ نشان ہے۔ آج جب ویڈیوز دیکھی تو سوچنے لگی کہ کیا ہم واقعی اسلام کے داعی ہیں؟ گستاخِ نبی ﷺ کی ایک سزا سر تن سے جدا سر تن سے جدا۔ کا نعرہ لگانے والے کیا واقعی نبی اکرمﷺ کی حرمت کے محافظ کہلائے جانے کے حقدار ہیں؟ آج چرچ کی صلیب توڑتے پرجوش نوجوانوں کو دیکھ کر یہ خیال بارہا آیا کہ یہ واقعی اُس قرآن کے محافظ ہیں جس میں یہ حکم دیا گیا کہ

” اور (اے ایمان لانے والو! ) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں“

( سورة الانعام۔ آیت 108 )

کیا ہم واقعی رحمتِ عالم ﷺ کے پیروکار ہیں جنہوں نے جنگ کے دوران بھی یہ حکم دیا تھا کہ جو شخص جنگ میں شریک نہیں ہے اُس کو قتل نہ کیا جائے۔ انسان تو کیا انہوں نے تو سرسبز کھیت اور باغات جلانے سے بھی منع کیا۔ کہاں یہ مذہبی عبادت گاہ کو جلانے والے جن کا اسلام بھی شاید نماز روزے تک محدود ہے۔ قرآن کی حرمت اور رسول اللہ ﷺ کے ناموس کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اس کے خلاف آواز اور عملی قدم اُٹھانا بھی ضروری ہے۔ لیکن کیا قانون کو ہاتھ میں لینا درست ہے؟ کیا تاریخ میں ایک بھی مثال ایسی ملتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یا کسی صحابی نے گستاخِ رسول کو سزا دینے کے لیے پوری بستی میں آگ لگا دی ہو یا کسی مذہبی عبادت گاہ کو گرایا یا جلایا ہو۔

معاشرہ اس نہج تک کیسے پہنچا اور عدلیہ یا حفاظتی ادارے کیسے اور کیوں ان شدت پسندوں کے سامنے بے بس ہوئے اس کی تفصیل ڈھونڈیں گے تو بات بہت دور تک جائے گی کیونکہ قصور وار صرف وہ چند نوجوان نہیں بلکہ پوری ریاست ہے۔ ہر وہ شخص جو اس شدت پسندی کے خلاف آواز اُٹھا سکتا تھا یا کچھ کر سکتا تھا اور اُس نے نہیں کیا پھر چاہے وہ تعلیمی اداروں اور مدارس میں درس دیتے اساتذہ ہوں یا تربیت کرتے والدین۔

جو قوم چھہتر سال میں اپنے بنیادی انسانی حقوق کی خاطر نہیں نکلی، مہنگائی بلند ترین سطح پہ پہنچ گئی اور کوئی آواز بلند نہیں ہوئی، اس ملک میں جہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون رائج ہے، جہاں دوسرے فرقے کی مسجد میں نماز ادا نہیں ہو سکتی وہاں اگر اتفاق ہے بھی تو محض قتل و غارت پر۔ مذہب سب کا اور سب کے لیے قابلِ احترام ہے۔ قرآن کی حرمت اور رسول اللہ ﷺ کی ناموس رسالت کی حفاظت بھی سب کی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی گناہ ہے لیکن اگر قانون اور حفاظتی ادارے موجود ہیں تو اس شدت پسندی کا مظاہرہ کرنے سے روکیے۔ ورنہ یہ آگ کسی روز ہمارے اپنے گھروں کو جلا کر راکھ کر دے گی۔

Facebook Comments HS