تیری آنکھوں سے کو خود کو دیکھتی ہوں!
(ہر اُس لڑکی کی کہانی جس نے پہلی محبت سے زندگی کا پہلا دھوکہ کھایا ہو)
جانے کب مجھ میں یہ خواہش جاگی کہ میں خود کو تمہاری نظر سے دیکھوں۔
میں چاہتی تھی کہ میں دیکھوں کہ میں تمہیں کیسی دکھتی ہوں۔ یہ جاننے کی خواہش کہ تم میرے بارے میں کیا سوچتے اور کیا محسوس کرتے ہو، میرے لئے اس قدر اہم ہو گئی کہ مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ کب میں نے اپنا ساتھ چھوڑ دیا اور تمہاری نظر سے خود کو دیکھنے اور تمہارے ذہن سے خود کو سمجھنے لگی۔ میں نے کیمرہ سوئچ کر کے تمہاری آنکھ سے خود کو دیکھنا شروع کر دیا تھا۔
میں تمہیں زمانے بھر سے حسین تو نہ دکھتی تھی مگر میری صورت دیکھتے ہی تمہارا دل دھک دھک کر اٹھتا تھا۔ تمہیں میرے چہرے کا سادہ روپ کسی بھی تراشیدہ حسن سے بڑھ کے دلکش لگا کرتا۔ میری آنکھوں میں بھرا بھرا کاجل دیکھتے تو تمہارا جی چاہتا کہ میرے قریب آ کے میری تھوڑی سے میرا چہرہ اٹھاؤ اور ان گہری سیاہ آنکھوں کو نزدیک سے، بہت نزدیک سے دیکھو کہ اس میں فقط تمہارا چہرہ نظر آئے، اور کوئی منظر نہ ہو۔ کبھی کبھی تو تم خواہ مخواہ میرے ہونٹوں اور گفتگو کے دوران دکھتے دانتوں پہ ہی فدا ہو جاتے تھے۔ میں تمہاری نظر سے دیکھتی تھی کہ میری ہنسی کے ساتھ ہی تمہارا دل جھومنے لگتا تھا۔ جیسے وہ دنیا کا سب سے خوشگوار پل ہے اور ارد گرد خوشیاں ہی خوشیاں ناچ رہی ہوں۔ تم سوچتے رہ جاتے تھے کہ مجھے کیسے کہو کہ تم مجھ پہ مر مٹے ہو۔ تمہاری آنکھ میں میری صورت کے علاوہ کوئی صورت نہیں جچتی اور تمہیں میرے بنا کسی پل چین نہیں پڑتا۔
ہم جب بھی آمنے سامنے ہوتے، میں ہمیشہ اپنی جگہ چھوڑ دیتی تھی۔ میں اٹھ کر تمہاری پشت پہ کھڑے ہو کے خود کو دیکھا کرتی۔ تمہارے قرب سے میرے چہرے پہ جو حیا کی لہریں اٹھتی تھیں ان کا کمال تھا کہ میں اور بھی دیدہ زیب لگتی تھی۔ جس سے لوگ بات کرتے جھجکتے ہوں، جب وہ آپ سے جھینپنے لگے، یہ سب سے بڑی نشانی ہوتی ہے کہ آپ نے اس کے دل میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ تم بھی یہی سوچتے تھے۔ تم دیکھتے رہتے تھے اور تمہاری نظر سے میں نے بھی خود کو پہلی بار دیکھنا شروع کیا۔ تمہارے ذہن میں ہمیشہ یہ الجھن رہا کرتی کہ میں تمہیں کبھی بات مکمل کرنے کا موقع کیوں نہیں دیتی تھی۔ میرے رویے کی یہ بات تمہیں گراں گزرتی مگر اسی کی لذت تمہیں کئی دن تک مسرور رکھتی۔
تمہیں میں منتظر بھی دکھتی، راضی بھی اور کبھی کبھی تو تمہیں لگتا کہ میں جانتی ہوں کہ یہ سب کیا ہے۔ پر تم مجھے روک کے بتانا چاہتے، لفظوں میں تا کہ کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ اور تم میرے دل کی بات بھی صاف صاف جان سکو۔ تمہاری نظر سے میں کچھ کچھ گھبرا جاتی تھی۔ تم یہ دیکھ کے محظوظ ہوتے کہ میرے گال سرخ ہو جاتے، چہرہ تپنے لگتا اور اسی گھبراہٹ میں بار بار میری نظر تم پہ پڑا کرتی۔ تمہیں یہ نظارہ ایسا پسند آتا کہ تم بار بار یہی کرتے اور میری بے چینی کا لطف لیتے۔
میں تو تمہاری نظر سے خود کو دیکھتی تھی اس لئے جانتی تھی کہ میرے چہرے پہ ایک شرمیلی الجھن تمہیں بتاتی تھی کہ میں بھی تم سے محبت کرنے لگی ہوں۔ مگر میری شخصیت کے اعتماد نے تمہیں کبھی یہ کہنے کی جرات نہ دی۔ دور سے مجھے آتا دیکھ کر تم اپنی موجودگی جتانے کے لئے کسی سے بات کرتے کرتے آواز بلند کر لیتے اور میری توجہ پا کے مطمئن سے ہو جاتے تھے۔ مگر تم میری پر اعتماد چال سے ہمیشہ ڈرتے تھے۔ تمہیں میرا قدم بھرنے کا انداز پسند تھا، تم دیکھتے تھے کہ میں چلتی ہوئی زیادہ پر اعتماد اور پر کشش دکھتی ہوں اس لئے تم اس بات کا اہتمام کرتے کہ دور سے آتا اور جاتا مجھے دیر تک دیکھا کرو۔
تم اس دن شیشے کے اس پار سے دیکھ رہے تھے کہ گلاب کا وہ پھول کیا اثر دکھاتا ہے جو تم میرے سکرپٹ پہ رکھ کے سٹوڈیو سے نکل گئے تھے۔ تم دیکھ رہے تھے۔ میں نے بیٹھنے سے پہلے وہ پھول اٹھایا اور میرے چہرے پہ ایک دلکش مسکراہٹ ٹمٹمائی تھی اور میں نے فوراً شیشے سے اس جانب پینل روم کی طرف دیکھا تھا۔ تمہاری نظر سے خود کو دیکھ کر جان لیا تھا کہ میں راضی تھی۔ میں بہت خوش تھی۔
کتنے خوشگوار موسم سٹوڈیو میں اپنے نغمے بکھیر کے رخصت ہوئے مگر کبھی خزاں کا دکھ ہمارے دل کو نہ چھوا۔ پھر ایک رت ایسی بھی آئی کہ اب تم مجھے کچھ کچھ خفگی سے دیکھا کرتے کہ میں یہ بات کیوں نہیں سمجھ پاتی جو تم مجھے بار بار سمجھانے لگے تھے۔
’ ”ہماری شادیاں فیملی سے باہر نہیں ہوتیں۔ ہم سید ہیں۔“
”میں اس عمر میں اپنی ماں سے بحث نہیں کر سکتا، وہ دل کی مریض ہیں“
تم مجھے اس بات پہ خاموش ہو جاتا دیکھتے تو تمہیں لگتا کہ میں تمہاری مشکل کو سمجھ نہیں پا رہی۔ تم دیکھا کرتے کہ میں دن بدن خاموش اور اداس رہنے لگی تھی۔ تم اکثر میری آنکھوں کی نمی سے اداس ہو جاتے تھے۔ مگر کبھی کبھی تمہیں لگتا کہ میں خواہ مخواہ حساس ہو رہی تھی۔ تم مجھے پہلے کی طرح ہنستا مسکراتا ہی دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن جب تمہاری نگاہ مجھ پہ پڑتی سوائے دکھ کے میرے چہرے پہ اب کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ تم وقتی خوشی کے طلبگار ہوتے اور ایسا کہہ دینے کے بعد تم مجھے خود سے اور دور، مزید بیگانہ ہوتا دیکھتے۔
تمہیں شکستہ دلوں کا خیال ہی تو نہیں
خیال ہو تو کرم کے ہزار ہا پہلو۔
تم نے مائیک کے پاس پڑے میرے کاغذوں پہ یہ شعر لکھ دیا تھا۔
تم میری طرف دیکھتے ہوئے مجھے سمجھاتے کہ محبت کا مطلب صرف شادی تو نہیں۔ تعلقات یوں بھی زندگی بھر نبھائے جا سکتے ہیں۔ تم دیکھتے کہ میرے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آ کے گزر جاتی۔ تم ترستے رہ جاتے میں کہ اب تمہاری طرف دیکھتی ہی نہ تھی۔ تم پیچ و تاب کھاتے، چیزیں پٹخا کرتے۔ میں اب بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر تمہاری پشت پہ کھڑے ہو کر خود کو دیکھتی۔ میں کتنی کٹھور ہوتی جا رہی تھی، مجھے تمہارا کوئی احساس ہی نہیں تھا۔ تم کس دوہری اذیت سے گزر رہے تھے، میں یہ سمجھتی ہی نہ تھی۔ کیا میں ان لوگوں جیسی نہیں ہو سکتی تھی جو تمام عمر وفائیں نبھاتے ہیں؟ شادی میرے لئے اتنا اہم مسئلہ کیوں بن گئی تھی کہ مجھے ایک پورا انسان اس کے جذبات اور محبت ہر چیز ہی اس سے کم تر دکھنے لگی تھی؟ میں واپس اپنی جگہ آتی تو تمہاری نظریں یہی سوال مجھ سے دہراتیں مگر میں پتھر سی بنی رہتی۔
تم کئی دن نہ آئے، تو کئی دن مجھے میری خبر بھی نہ ملی۔
پھر پتہ چلا اپنے ہاتھ سے کسی کے نام اپنی زندگی لکھ آئے تھے۔ میرے اور تمہارے سب جاننے والوں نے تمہاری شادی میں شرکت کی تھی۔ میں ان دنوں تمہیں کہیں نہ دکھی۔ غائب تھی کہیں۔ تمہیں نہیں دکھتی تھی تو میں ہوتی بھی کہاں تھی۔ کسی نئی خوشی کی دھند میں، یا غصے کے غبار میں تمہاری آنکھیں مجھے دیکھنے سے قاصر رہیں۔ لہٰذا مجھے میری خبر بھی نہ مل سکی۔
کئی دن بعد جب تمہیں دیکھا تو میں خود کو دیکھ پائی۔ میرا چہرہ کمزور دکھتا تھا، آنکھوں سے کاجل بہہ چکا تھا۔ تم مجھے بجھتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ اور دیکھ رہے تھے کہ میں اب تمہیں ایک نظر بھی نہ دیکھتی تھی۔ تم غصے سے لاگ بک پٹختے سٹوڈیو سے نکل جاتے اور دروازہ بند ہونے پر پلٹ کر دروازے کے گول شیشے سے دیکھا کرتے۔ میں گہری سوچ میں گم دکھائی دیتی۔ تمہیں میری یہ کیفیت ایک آنکھ نہ بھائی تو تم نے ریڈیو آنا ہی چھوڑ دیا اور میں منظر سے ایک بار پھر کہیں غائب ہو گئی۔
بہت گھٹن تھی اس تاریکی میں۔ آس پاس کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ میں خود کو دکھائی نہ دیتی تھی۔ وقت سرکتا رہا۔ ہر موسم نے دو دو بار میرے در پہ دستک دی۔ پھول بچھائے، خوشبو لٹائی، رنگ بکھیرے پر تم کب دیکھ رہے تھے اور اب مجھے بھی کچھ دکھتا تھا نہ سجھائی دیتا تھا۔ تم مگن تھے اپنی نئی دنیا میں۔ نئے موسموں نے تمہارے آنگن میں بھی ایک نیا پھول کھلا دیا تھا۔ اس بہار میں، میں کہیں نہ تھی۔ کیونکہ میرا وجود تو تمہاری نظر کا محتاج تھا۔
پھر ایک دن تم نے مجھے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ میں تمہیں خاصی نارمل دکھی۔ میری آواز اور انداز میں پہلے جیسا اعتماد لوٹ آیا تھا۔ لیکن میری آنکھ میں اب گہرا کاجل نہ تھا۔ اس کی جگہ ایک گہرا سکوت تھا۔ میں اب تک خود کو تمہاری ہی نظر سے دیکھ رہی تھی۔
تم دیکھا کرتے کہ دھیرے دھیرے میرے چہرے سے دکھ اور ملال غائب ہوتا جاتا ہے۔ تمہاری نظریں میرا بغور جائزہ لیتی رہتیں کہ آخر اس ٹھہراؤ کی وجہ کیا ہے۔ تم مجھے دور سے آتا دیکھتے تو میری چال میں تمہیں پہلے جیسا اعتماد دوبارہ دکھائی دیتا جو پچھلے کچھ عرصے میں کہیں کھو گیا تھا۔ تم حیران تھے اور ایک دن اپنی معلومات مکمل کر کے تم نے مجھے سٹوڈیو ہی میں آن لیا۔ تم نے دیکھا کہ میرے چہرے پہ تمہیں دیکھ کر کوئی تاثر نہ ابھرا۔ آخر تم بول پڑے۔
” اچھا تو یہ چکر چل رہا ہے۔“ تمہیں الجھن ہوئی کہ میں چہرے پہ بے حسی لئے لاگ بک لکھتی رہی۔ ”تمہارا خیال تھا کہ مجھے پتہ نہیں چلے گا کہ تم اُس کے ساتھ۔“ تم مجھے چند لمحے اپنی چیزیں بیگ میں رکھتے دیکھتے رہے۔ میرے الفاظ تمہیں گراں گزرے، بہت گراں۔
” ہماری بیس تاریخ کو شادی ہے۔ ہماری فیمیلیز کے درمیان بات طے ہو گئی ہے“
تم نے دیکھا کہ میں چہرے پہ سکون لئے سٹوڈیو سے باہر نکل گئی۔ تم میرے پیچھے باہر برآمدے تک آئے اور مجھے اسی با اعتماد انداز میں گیٹ کی طرف بڑھتا دیکھتے رہے۔ تم مجھے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ اچھا ہوا جو تم نے اپنی ماں کی بات مان لی اور ”اس طرح“ کی لڑکی سے شادی نہیں کی۔
تمہیں اچھا لگتا تھا اس لئے تم مجھے دیر تک اور دور تک دیکھتے رہے تھے۔
میں نے اُسی دن کیمرہ سوئچ کر لیا تھا۔


