ڈرامہ سیریل ”ورکنگ ویمن“

دو نازک سے کاندھوں پر تم کِتنا بوجھ اُٹھاتی ہو گھر کی چھت کا کمر توڑ مہنگائی، بھاری ٹیکسوں کا دفتر کی ذمہ داری کا تیز کسیلی باتوں، میلی نظروں کا انگ انگ پر چلتی پھرتی آنکھوں کا گلی میں بیٹھے وزنی فقروں آنے والی کل کی بوجھل فکروں کا کتنے بھاری پتھر ہیں! بیتی یادوں بیتی محبتوں کے وعدوں کا گھنی گھنیری زلفوں کا! دو ننھے سے کاندھوں پر تم اِتنا بوجھ اُٹھاتی ہو صنفِ نازک کہلاتی ہو! شہزاد

Read more

ونڈر لینڈ

یہ دنیا ایک حیرت کدہ ہے۔ جہاں طرح طرح کے لوگ اور بھانت بھانت کی بولیاں ہیں۔ ہر شخص کی اپنی کہانی ہے ۔ ہر شخص اپنی ذات میں ایک الگ دنیا کا مالک ہے۔کچھ بظاہر ہنستے مسکراتے زندہ انسان ہیں لیکن حقیقت میں ایک زندہ لاش ۔ سب نے اپنے دلوں میں ایک قبرستان بنایا ہوا ہے۔ کسی نے خواب دفن کیے، کسی نے خواہشیں ، کسی نے محبت کو دفنایا ہے تو کوئی نفرت کو باہر نکلنے سے

Read more

سانحہ جڑانوالہ اور اسلام کے خود ساختہ محافظ

رحمتِ سید لولاک پہ کامل ایمان اُمتِ سیدِ لولاک سے خوف آتا ہے یوں تو اب وطنِ عزیز میں کچھ ناممکن نہیں رہا۔ نہ کوئی حادثہ نہ کوئی سانحہ اب حیران کرتا ہے۔ غالب نے بجا کہا تھا کہ ”ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے“ ۔ کس قدر بے یقینی اور کھوکھلا پن ہے معاشرے میں نہ عدلیہ پہ یقین، نہ حفاظتی اداروں پہ اور نہ ہی حکمرانوں پہ۔ بلکہ شاید اب تو اپنی ذات پہ بھی یقین

Read more

کابلی پلاو۔۔۔۔ ڈرامہ انڈسٹری میں خوشگوار اضافہ

پاکستانی ڈرامہ ایک لمبے عرصے سے یکسانیت کا شکار ہے۔ یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ زندگی صرف گھریلو مسائل , ساس بہو کے جھگڑے اور محبت کی جھوٹی سچی کہانیوں تک محدود ہے۔لیکن اب کچھ وقت سے ڈراموں کے موضوعات میں تبدیلی اور تنوع نظر آنے لگا ہے۔ ڈراموں میں معاشرتی مسائل کو موضوع بنایا جانے لگا ہے۔ یوں تو گرین چینل سے نشر کیے جانے والے سارے ہی ڈرامے اچھے ہیں۔ لیکن ڈرامہ سیریل ” کابلی پلاو” نے

Read more

"ماورا حسین کا ڈرامہ "نوروز

یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جسے بیس سال تک اس کے والدین نے دنیا سے چھپا کر رکھا۔ اس کی دنیا محض ایک تہہ خانے تک محدود تھی۔ وہی اُس کی کُل کائنات تھی۔ اسی تہہ خانے میں اُس کا باپ اسے دینی اور دنیاوی تعلیم دیتا ہے اور ماں امورِ خانہ داری سکھاتی ہے۔ سال 2019 میں اُس کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ سال 2056 ہے۔ یہ دنیا جنگ کی وجہ سے پھیلنے والے زہریلے

Read more

سہیل احمد کا ڈرامہ جیون نگر

حال ہی میں نئے شروع ہونے والے چینل سے نشر کیا جانے والا ڈرامہ ”جیون نگر“ اپنی کہانی کے اعتبار سے یوں منفرد ہے کہ اس میں لیجنڈ سہیل احمد نے بیک وقت دو کردار نبھائے ہیں۔ ایک کردار ببر شاہ عرف شاہ جی کا ہے جو جیون نگر کے باسیوں کا مسیحا ہے۔ دوسرا کردار پراسرار خواجہ سرا کا ہے جس کے بارے میں جیون نگر کے رہائشی کچھ نہیں جانتے۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جس کے بارے

Read more

اسلامیہ یونیورسٹی: تصویر کے چند اور پہلو

ایک زمانہ تھا جب درندے بہت دور سے پہچان لیے جاتے تھے لیکن جوں جوں معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوا درندوں نے بھی انسانوں کا روپ دھار لیا۔ انسانوں جیسی شکل اور انہی جیسا بود باش۔ پہلے یہ بہت ڈھکے چھپے انداز میں مخصوص مقامات پہ اپنا دھندا کیا کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے ہر جگہ، ہر ادارے اور ہر پیشے میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ یہاں تک تدریس جیسا مقدس شعبہ بھی محفوظ نہیں

Read more

آبلہ پا: ایک شاہکار تخلیق

رضیہ فصیح احمد اُردو کی نامور ادیب، افسانہ نویس، ناول نگار اور شاعرہ ہیں۔ انہوں نے کئی یادگار اور شہکار کہانیاں تخلیق کیں۔ 1965 میں جب پاکستان میں زیادہ تر ادب تقسیم ہند اور اس کے اثرات کو بیان کر رہا تھا۔ ایسے میں رضیہ آپا نے ایک منفرد موضوع پر قلم اُٹھایا اور ” آبلہ پا ” جیسا شاہکار ناول تخلیق کیا اور آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کیا۔ اس ناول میں مصنفہ نے یہ بیان کیا کہ مزاجوں

Read more

جھوک سرکار

جھوک سرکار اے آر وائی سے حال ہی میں نشر ہونے والا منفرد ڈرامہ ہے۔ جس کی ابتدائی چند اقساط نے ہی خاصی مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ یاد رہے ڈرامے کے مصنف ہاشم ندیم اس سے پہلے بھی کئی شاہکار ڈرامے تخلیق کر چکے ہیں۔ جن میں خدا اور محبت، رقص بسمل، پری زاد، وصال اور عشق زہے نصیب شامل ہیں۔ ان کا ہر کردار انفرادی نوعیت کا حامل ہے۔ پاکستانی ڈرامہ لمبے عرصے سے یکسانیت کا شکار ہے۔

Read more

بڑی دلنشیں ہے کتابوں کی دنیا

جب پہلی بار سینٹرل لائبریری بہاولپور میں قدم رکھا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اتنی کتابیں! کون لکھتا ہے اتنا اور پڑھتا کون ہو گا ان کو۔ کیسے ہوتا ہے یہ سب۔ اس دن سے آج تک یہ میری پسندیدہ جگہوں میں شمار ہوتی ہے۔ میں اپنی زندگی میں آج تک جن لوگوں سے متاثر ہوئی ان میں سب سے پہلا نام یونیورسٹی کی استاد میڈم عقیلہ شاہین کا ہے۔ وہ واحد ایسی شخصیت ہیں جن کے ہاتھ

Read more

غالب کے یوم پیدائش پر۔ انٹرنیٹ جنریشن کا غالب کے نام خط

ہیلو انکل! امید ہے جہاں ہیں خیریت سے ہوں گے۔ کم از کم دلی کے اجڑے دیار سے بہت اچھی زندگی گزر رہی ہو گی۔ سب سے پہلے تو جنم دن پہ بہت بہت مبارکباد۔ میں جانتی ہوں آپ یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں آپ کے ہزاروں مداحوں میں شامل ہوں اور اب آپ کی شاعری کی تعریف کروں گی۔ آپ کی عظمت کا اعتراف کر کے پھر نئی غزل کی فرمائش کروں گی۔ لیکن ایسا ہر گز

Read more

نوجوانوں میں بڑھتی مایوسی اور ڈیپریشن کی وجوہات کیا ہیں

کچھ دن قبل سیالکوٹ میں  سری لنکا کا شہری پرینتھا کمار نام و نہاد مذہب کے ٹھیکیداروں کے  ظلم کا نشانہ بنا۔ یہ افسوس ناک حادثہ پاکستان کی تاریخ میں ہونے والے ظلم وستم کے مقابلےمیں زیادہ انوکھا نہیں تھا  لیکن حیرت اس بات پہ ہے کہ ان مسلسل ہوتے حاثات کے باوجود ہم نے اپنے بدلتے رویوں اور ان کی وجوہات پہ غور کیوں نہیں کیا۔   نوجوان قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔نوجوانوں کے رویے آنے والے دور اور حالات

Read more

نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا استحصال

انسان اشرف المخلوقات ہے اور یہ شرف اس کو علم کی بناء پر حاصل ہوا ہے۔ اسلام میں حکم دیا گیا کہ طلب العلم فریضة علی کل مسلم علم کی طلب ہر مسلمان ( مردو عورت) پر فرض ہے۔ یوں تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے۔ ایک جانب ہمارے ملک میں آبادی کا ایک بڑا حصہ اس حق سے محروم ہے تو دوسری طرف اس شعبے سے وابستہ افراد کا استحصال جاری ہے۔ استاد قوم کی بنیاد رکھتا ہے اگر

Read more

کچھ خار کم تو کر گے گزرے جدھر سے ہم

کیا دیا ہے ہمیں اس ادارے نے؟ کیا احسان کیا ہے؟ کیا رکھا ہے اس ملک میں؟ سوائے بھوک افلاس اور غربت و بے روزگاری کے۔ یہ ہیں وہ چند حوصلہ شکن سوالات اور شبہات جن کا اظہار آج کل ہمارے نوجوان بہت کثرت سے کرتے ہیں۔ تو آئیں آج ہم بات کا آغاز کرتے ہیں اپنے تعلیمی اداروں سے کہ وہ اس قوم، اس ملک اور اس دنیا سے ہمارا تعارف کرواتے ہیں۔ یہاں ہمارا واسطہ ان عظیم لوگوں

Read more

تعلیمی نظام پر کرونا کے اثرات

انسانی زندگی تغیر پذیر ہے۔ ہر لمحہ اس میں تبدیلی آتی ہے۔ یہ دنیا بڑے بڑےحادثات سے دوچار ہوئی لیکن انسان ترقی کرتا چلا گیا۔ غاروں کو مسکن بنانے والوں نے پہاڑوں کو ذروں میں بدل دیا۔ چاند کو پوجنے والوں نے چاند کو قدموں تلے روند دیا۔ انسان نے ناقابلِ تسخیر کو مسخر کرلیا۔ اپنے دفاع کومضبوط بنا کر مستقبل کو محفوظ کرلیا لیکن دنیا میں کچھ حادثات و واقعات یا قدرتی آفات ایسے رونما ہوئے جنہوں نے دنیا

Read more