کیا ہم ماحولیاتی تبدیلی سے غذائی پیداوار میں تبدیلیوں کے لئے تیار ہیں؟


دنیا شدید موسمی صورت حال کے باعث بے حد غیر مستحکم دور سے گزر رہی ہے۔ جولائی 2023 موسمیاتی نقطہ نظر سے دنیا کا گرم ترین مہینہ رہا، جس کی بنیادی وجہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہے۔ رپورٹس کے مطابق 1880 کے بعد سے جولائی کے پانچ گرم ترین مہینے گزشتہ پانچ سالوں میں رہے ہیں۔ ”دی اسٹیٹ آف دی گلوبل کلائمیٹ 2022 ’کے عنوان سے تحریر کردہ ایک مقالہ جو عالمی موسمیاتی تنظیم نے اپریل میں جاری کیا تھا، اس میں کہا گیا تھا کہ 2015 سے 2022 تک کے سال، اب تک کے آٹھ گرم ترین سال تھے۔ 31 جولائی کو اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کی ایک پریس ریلیز کے الفاظ ہیں کہ ” شدید موسم، جس نے جولائی میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے، بدقسمتی سے موسمیاتی تبدیلی کی تلخ حقیقت اور مستقبل کی پیش گوئی ہے۔“

موسم کی یہ صورت حال اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ انسانوں کو اب گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور آب و ہوا سے متعلق اقدامات ”لگژری“ نہیں بلکہ ” ناگزیر“ ہیں۔ دنیا بھر میں جنگلات میں لگنے والی آگ، ہیٹ ویو، شدید طوفانوں اور غیر معمولی بارشوں کے باعث پورا شمالی نصف کرہ متاثر ہوا ہے۔ ان شدید موسمی حالات نے عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایف اے او اور اقوام متحدہ کے کئی دیگر اداروں کی جانب سے شائع کردہ اسٹیٹ آف فوڈ سکیورٹی اینڈ نیوٹریشن ان دی ورلڈ (ایس او ایف آئی) رپورٹ 2023 کے مطابق گزشتہ سال 735 ملین افراد بھوک کا شکار رہے۔ آب و ہوا کا بحران اس غذائی عدم تحفظ کا سب سے اہم محرک تھا۔

آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات ایک ”ڈومینوز افیکٹ“ کی طرح سامنے آتے ہیں۔ اس تمام گڑبڑ کے نتیجے میں عالمی سطح پر فوڈ سکیورٹی متاثر ہو رہی ہے جس کے باعث فصلوں کی پیداوار اور معاش کے لیے خطرات متوقع ہیں اور اس کے نتیجے میں، خوراک کا بحران پیدا ہو گا جس سے خوراک کے معیار، حیاتیاتی تنوع اور پیداوار پر منفی اثر پڑے گا۔ تیزی سے تبدیل ہوتی آب و ہوا، قدرتی ماحولیاتی نظام، زمین اور پانی جیسے وسائل پر دباؤ میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ زمین کے کٹاؤ، جنگلات کی کٹائی یا کمی، پانی کی قلت اور آلودگی مجموعی طور پر زمین کے انحطاط میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سب عوامل کے باعث زراعت جو گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ ہے اس کا متاثر ہونا یقینی ہے۔

یہ عوامل تو اپنی جگہ تشویش ناک ہیں تاہم فوڈ سکیورٹی صرف آب و ہوا کی تبدیلی ہی سے متاثر نہیں ہو رہی ہے۔ دنیا میں جغرافیائی سیاسی تنازعات ہیں، طاقت بمقابلہ کمزور نہیں طاقت بمقابلہ طاقت بھی ہم دیکھ رہے ہیں جو اسی زمین پر جاری ہے جہاں پہ خوراک اگتی ہے اور یہ سب عوامل بھی خوراک کی پیداوار کو متاثر کرتے ہیں۔ دی اکانومسٹ نے حال ہی میں ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان شدید موسمی آفات، آب و ہوا کی تبدیلی اور دیگر عوامل کی وجہ سے، ہمیں فصل کی پیداوار کا کچھ حصہ دوسری جگہوں پر منتقل کرنے یا اسے گھروں کے اندر لانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ”تو، کیا ہم عالمی خوراک کی پیداوار میں اس طرح کی بڑی تبدیلیوں کے لئے تیار ہیں؟

خوراک کے تحفظ کے اس مسئلے کا بروقت ادراک کرنا اور اس کے تدارک کی خاطر موثر اقدامات اختیار کرنے والے ممالک ہی آگے چل کر اپنے عوام کو بھوک سے محفوظ رکھ سکیں گے کیونکہ ہم آب و ہوا کے بحران، خوراک کے بحران اور بھوک کے ساتھ ساتھ دیگر بڑے بحرانوں کے دور میں جی رہے ہیں۔ ایگری فوڈ سسٹم کو پہلے ہی پائیداری کے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایسے میں دنیا کے تمام ممالک کو آگے بڑھنا ہو گا اور اپنے کام، تجربات اور تحقیق کو یکجا کرنا ہو گا اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے اقوام متحدہ کے 2030 کے ترقیاتی ایجنڈے پر بروقت عمل درآمد میں تیزی آئے۔ ہمیں اپنے ایگری فوڈ سسٹم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ایک ایسا ایگری فوڈ سسٹم جس میں کسانوں، ، فارم مالکان، فوڈ پروڈکشن کمپنیز، وہ لوگ جو فوڈ سکیورٹی اور پائیدار پیداوار کے لیے نئے طریقوں، اختراعات اور ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور ان کے نفاذ کے محرک ہیں انہیں مرکز میں رکھا جائے۔ لیکن کیا ہم ان تمام عوامل کی روشنی میں اپنے کسان کو جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ ور کرنے، اپنی زرعی زمینوں کی زرخیزی قائم رکھنے اور ان زمینوں سے حاصل ہونے والی پیداوار کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی عملی پیش رفت کر رہے ہیں؟ اگر ہاں تو ہمارا مستقبل بہتر ہے اور اگر نہیں یا نہ ہونے کے برابر تو پھر مستقبل صرف بھوک ہے۔

Facebook Comments HS