طالبان کا افغانستان


طالبان پر افغانستان کے قبضے کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اب تک دنیا کے کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے کیونکہ عمومی طور پر اسے ایک ناجائز حکومت مانا جاتا ہے۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ طالبان نے طاقت کے بل بوتے پر افغانستان کے اقتدار پر قبضہ کر رکھا ہے اور حکومت میں طالبان کے علاوہ ملک کے کسی دوسرے سیاسی گروہ کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ طالبان انتخابات یا کسی مروجہ جمہوری ضابطے کو نہیں مانتے اور خود کو افغانستان کی سرزمین کا کلی طور پر وارث سمجھتے ہیں۔

بیرونی دنیا تک طالبان حکومت کی رسائی نہ ہونے کے سبب درآمدات و برآمدات کا شعبہ بری طرح متاثر ہے اور معاشی صورتحال خراب ہونے کے سبب عوام کے لئے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جدید دنیا میں کوئی بھی ملک بیرونی روابط کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا جبکہ انسانی حقوق اور خاص طور پر خواتین کی تعلیم کے حوالے سے طالبان کے سخت گیر موقف کی وجہ سے طالبان حکومت کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ طالبان کے مطابق وہ خواتین کو جائیداد میں حصے اور تعلیم سمیت تمام شرعی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنا رہے ہیں۔

تاہم تمام غلط تاثرات، بیرونی دباؤ، تنقید اور معاشی پریشر کے باوجود طالبان حکومت اپنے موجودہ وسائل کو برؤئے کار لا کر افغان عوام کی بہتری کے لئے کام کرنے میں مصروف ہے۔ اگر ہم سیکھنا چاہیں تو ہمارے لئے طالبان کے گورننس ماڈل سے بھی بہت کچھ سیکھنے کے لئے موجود ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سترہ سو سے زائد اقسام کی معدنیات موجود ہیں جس میں تیل، گیس، تانبا، لیتھیم، کوئلہ، سونا اور قیمتی پتھر وغیرہ شامل ہیں۔

طالبان نے معدنیات کی چھوٹی کانوں کے ٹھیکے ایک سو اسی ملکی کمپنیوں کے سپرد کیے ہیں جبکہ بڑی کانوں کے ٹھیکے غیر ملکی کمپنیوں کو دیے گئے ہیں۔ سرپل کا قشقری کے علاقے میں آئل فیلڈ سے تیل نکالنے کے لئے ایک سو اڑتالیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا ایک بڑا کانٹریکٹ چینی کمپنی کو دیا گیا ہے۔ اس کانٹریکٹ میں طالبان نے چینی کمپنی کو ملک میں موجود ہنر مند و غیر ہنر مند افرادی قوت کو ترجیحی بنیا دوں پر ملازمتیں فراہم کرنے کے لئے پابند کیا ہوا ہے اور عدم دستیابی کی صورت میں ہی کمپنی افرادی قوت کو آؤٹ سورس ذرائع سے پورا کر سکتی ہے۔

یہ آئل کمپنی اس وقت سات کنووں سے تیل نکال رہی ہے جن کی اوسط یومیہ پیداوار سات سو ٹن ہے جو نئے کنووں کی کھدائی سے ایک ہزار ٹن تک پہنچ جائے گی۔ طالبان نے لوگر میں کوئلہ پراسس کرنے کی ایک فیکٹری کا آغاز کیا ہے جبکہ پانچ مزید ایسے پراسیس یونٹ بنانے پر کام جاری ہے۔ اس طرح افغانستان میں سمنگان، لوگر اور ہرات سمیت دیگر مقامات پر پانچ نئی سیمنٹ فیکٹریاں بنانے کے عمل پر بھی کام جاری ہے۔ سو ملین ڈالر کی لاگت سے قندھار میں ایک نئی سیمنٹ فیکٹری لگانے کے لئے معاہدہ ہو چکا ہے جس سے پانچ ہزار افغانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے، یہ فیکٹری ایک سال میں دس لاکھ ٹن سیمنٹ کی پیداوار دے گی۔

سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام کے تمام منصوبوں پر ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی جس سے تیس ہزار لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور سیمنٹ کی پیداوار سالانہ چھ ملین ٹن تک پہنچ جائے گی۔ ان تمام منصوبہ جات کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے بولی اور ٹینڈر کے عمل کو شفاف رکھا گیا ہے اور کڑی شرائط کے ساتھ ٹھیکے دیے جا رہے ہیں تاکہ ملکی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ دنیا میں لیتھیئم کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیونکہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

ماہرین اب گاڑیوں کو تیل کی بجائے بجلی پر منتقل کر رہے ہیں اور لیتھیئم انھی برقی بیٹریوں میں استعمال ہونے والا اہم عنصر ہے جس کی مانگ میں مستقبل میں مزید اضافہ ہو گا جبکہ افغانستان میں لیتھئم کے وسیع ذخائر ہیں۔ ہرات میں لوہے کی بڑی کانیں ہیں جس کے لئے درجنوں کمپنیوں نے اپنے پروپوزل جمع کروا دیے ہیں۔ لوہے کی اس کان کے ہر بلاک میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی جس سے نہ صرف ملکی سطح پر لوہے کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہو گی اور لوگوں کو نئے مواقع میسر آئیں گے۔

اس کے علاوہ لوگر میں تانبے کی ایک بہت بڑی کان کے حوالے سے بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ افغان طالبان کی بات چیت جاری ہے۔ تخار کے علاقے میں موجود سونے کی ایک کان میں دو ارب ڈالر مالیت کا سونا موجود ہے جہاں کان کنی کے لئے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ غور میں سیسے کی ایک کان پر ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عمل بھی جاری ہے۔ ان اقدامات کے علاوہ افغانستان میں عملی طور پر طالبان منشیات کا خاتمہ کر چکے ہیں اور منشیات کے عادی ہزاروں افراد کا بحالی مراکز میں علاج کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ضرورت مندوں کو سرکاری وظائف کے اجراء اور گداگری کے انسداد پر بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نہری نظام کی توسیع اور قومی شاہراہوں کی از سر نو تعمیر کے درجنوں منصوبوں میں سے کئی ایک پر کام مکمل ہو چکا ہے اور بعض پر کام جاری ہے۔ پانچ لاکھ اسی ہزار ہیکٹر اراضی کو سیلاب کرنے والا اور دو سو پچاسی کلو میٹر پر محیط قوش تیپہ کینال کا اہم زرعی منصوبہ، کابل قندھار قومی شاہراہ کی تعمیر، شاہراہ سالنگ کی تعمیر، بڑے بڑے ڈیموں کی تعمیر طالبان حکومت کے چند بڑے پراجیکٹس ہیں جن کو محدود وسائل میں مکمل کیا جا رہا ہے۔

طالبان حکومت کے دوران افغانستان میں شاہ تت ڈیم، بخش آباد ڈیم اور گمبری ڈیم کے ڈیزائن مکمل ہو چکے ہیں، اب صرف ان میں پانی چھوڑنا باقی ہے۔ اس کے علاوہ گل بہار ڈیم، قلعہ موسیٰ ڈیم، کوکچہ سفلی ڈیم، ورسیج ڈیم، ساگی ڈیم، شال ڈیم اور کفگان ڈیم کے منصوبوں پر جلد کام کا آغاز کیا جائے گا۔ طالبان نے ملک میں امن عامہ کی صورتحال بہت بہتر کر دی ہے اور مخالفین کے لئے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ ملک میں چالیس سال سے جاری انتشار کو روکا جا سکے اور اب ان کی تمام توجہ ملکی ترقی پر مبذول ہے۔

دفاع کے میدان میں دیکھا جائے تو طالبان کے پاس ڈیڑھ لاکھ افراد پر مشتمل فوج ہے جن کی تربیت اور تنظیم پر تیزی سے کام جاری ہے۔ سیاحت کے میدان میں طالبان نے غیر ملکی سیاحوں کی افغانستان آمد سے پچھلے مالی سال میں چالیس ملین افغانی کمائے ہیں۔ اس وقت ایک افغانی پاکستان کے ساڑھے تین روپے کے برابر ہے۔ سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے سے اندرون ملک سیاحت کرنے والے افراد کی تعداد چھبیس ملین تک پہنچ کی ہے جس میں گزشتہ سالوں کی نسبت تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

بامیان اور دیگر تاریخی مقامات کی سیاحت کے لئے آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کا تعلق فرانس، اٹلی، امریکہ، بھارت، پاکستان، تائیوان، فرانس، ایران، سپین، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور روس سے تھا۔ طالبان حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے پچھلے پینتالیس سالوں کی نسبت اب بہترین حالات ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے طالبان اپنے دفاع میں برطانوی شہزادہ ہیری کی حال ہی میں شائع ہونے والی ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہیں کہ جس میں انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ افغان جنگ میں تعیناتی کے دوران انھوں نے پچیس افغانوں کا قتل کیا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ یورپ کس منہ سے ہمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سرزنش کر تا ہے جبکہ اہل یورپ نے پہلی جنگ عظیم میں بیس ملین اور دوسری جنگ عظیم میں پچھتر ملین افراد کو قتل کیا۔ طالبان کے دیگر معاشی ترقی کے اقدامات میں صوبہ ننگر ہار کے ضلع چپرہار میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر آڑو، مالٹے، سیب، لیموں، لوکاٹ اور ناشپاتی کے باغات لگائے ہیں۔ صوبہ لغمان میں ہالینڈ کی ایک کمپنی کے تعاون سے ڈیری پراسسینگ کے دو مراکز تعمیر کیے گئے ہیں۔

اس وقت افغانستان میں ساٹھ کمپنیاں چھ سو تیس قسم کی ادویات اور دیگر طبی آلات تیار کر رہی ہیں۔ کوئلے اور دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ میدان وردگ صنعتی زون میں کچن کے برتن، لوہے کی جالیوں اور بچوں کے پیمپرز کی فیکٹریوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہمسایہ، علاقائی اور عالمی ممالک کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور افغانستان کسی کو بھی اپنی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ افغانستان کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں جو باہمی اعتماد کا نتیجہ ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments