مینارے گرائے اور چرچ جلائے گئے: باقی پاکستان ہوشیار باش


آج ایک بار پھر پاکستان کے شہریوں کا ایک طبقہ جوش اور غیرت سے بپھرا ہوا ہے۔ جڑانوالہ کی سڑکوں میں متعدد مقامات پر ہجوم کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے۔ گرجا گھروں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ مسیحی شہریوں کے گھروں کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹا جا رہا ہے۔ رائٹرز کی خبر کے مطابق جڑانوالہ کے دو مسیحی شہریوں پر قرآن مجید کی توہین کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ یہ الزام لگایا گیا کہ جڑانوالہ میں قرآن مجید کے کچھ صفحات ملے ہیں جن کی بے حرمتی کی گئی تھی اور ان پر توہین آمیز الفاظ لکھے گئے تھے۔ مسیحی برادری کے دو افراد پر اس کا الزام لگایا گیا۔

اس پر مشتعل ہجوم نے کئی چرچوں اور درجنوں گھروں پر حملہ کر کے آگ لگا دی۔ اگر یہ پوچھو کہ کیا کسی عدالت میں اس الزام پر مقدمہ چلا تو جواب نفی میں ہے۔ اگر یہ سوال کرو کہ کیا یہ الزام ثابت کیا گیا تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات نے یہ اطلاع تو دی کہ سو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مگر پولیس اس وقت کیا کر رہی تھی جب بلوائی بے دھڑک اپنی کارروائی کر رہے تھے؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں تھے؟ پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات نے اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا۔ ایسے واقعات کوئی پہلی مرتبہ تو نہیں ہوئے کہ معصوم سی بھولی بھالی پنجاب حکومت کو خبر ہی نہیں ہوئی اور بلوائی کارروائی کر گئے۔

کیا پنجاب حکومت کو یہ علم نہیں ہے کہ اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ پاکستان کے مسیحی شہریوں اور ان کے گھروں اور چرچوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ کیا ملک چلانے والوں کو علم نہیں تھا کہ خاص طور پر پنجاب میں خود پولیس نے بغیر کسی عدالتی حکم کے متعدد مقامات پر احمدیوں کی عبادت گاہوں کے مینارے گرائے ہیں۔ یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اور ان اقدامات کی پشت پر تحریک لبیک کے کرتا دھرتا تھے۔

رائٹرز کے مطابق جڑانوالہ کے فسادات کی قیادت بھی تحریک لبیک کے کچھ لیڈر کر رہے تھے۔ اور تحریک لبیک کا کہنا ہے کہ وہ حالات کو قابو کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ کمال معصومیت ہے۔ خاکسار نے خود وہ ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں تحریک لبیک کے لیڈر ہجوم کو اکسا رہے ہیں کہ اگر اس تاریخ تک ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ خود احمدیوں کے عبادت گاہوں پر حمل کر کے ان کی عبادت گاہوں پر بنائے گئے مینارے منہدم کر دیں گے۔ کیا ریاست نے اس وقت ان لیڈروں کے خلاف کارروائی کی تھی؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ بلکہ ریاستی ادارے تو خود اس نام نہاد کارنامے میں ملوث ہو گئے۔ اب تشدد کی اس لہر نے مسیحی گرجا گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

جو ہوا سو ہوا لیکن کیا اب یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا؟ احمدیوں کی عمارتوں کے مینارے منہدم کیے گئے تو ایک طبقہ نے تالیاں پیٹیں۔ اب گرجا گھروں سے دھواں اٹھ رہا ہے اور مسیحی برادری کے گھر لوٹے جا رہے ہیں تو یہ طبقہ کسی فقیہ مصلحت کی طرح مصلحت آمیز خاموشی اختیار کرے گا۔ اور اپنے منہ میاں مٹھو بن کر یہ رٹے رٹائے جملے دہرائے گا کہ پاکستان میں ہر مذہب سے وابستہ اشخاص کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اور اسے اپنے حصہ کی چُوری مل جائے گی۔ لیکن کیا مسلمانوں کے مختلف فرقے اور ان سے وابستہ اشخاص محفوظ رہیں گے؟

تحریک لبیک اور اس جیسی دوسری تنظیموں کے ہاتھ میں سب سے بڑا ہتھیار توہین قرآن اور توہین مذہب جیسے الزامات ہیں اور ان ہتھیاروں کو استعمال کر کے وہ ہر کچھ دیر ملک کے ایک حصہ میں فسادات برپا کر دیتے ہیں۔ کیا بلاسفیمی کے الزامات صرف غیر مسلموں پر لگائے گئے ہیں اور مسلمانوں کے مختلف فرقے اس سے محفوظ رہے؟ 2021 کے بارے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے صفحہ 140 پر آپ کو اس سوال کا جواب مل جائے گا۔ جن لوگوں پر اس قسم کے الزامات لگائے گئے ان میں سے پچاس فیصد سے زیادہ لوگ مسلمان تھے۔ اور گزشتہ کئی برسوں کی رپورٹیں اٹھا کر ملاحظہ فرما لیں، اس قسم کے سب سے زیادہ مقدمات پنجاب میں قائم کیے گئے تھے۔ اسی صوبہ میں جہاں آج گرجا گھروں سے آگ کے شعلے اٹھ رہے ہیں۔

لیکن اب اس آگ کو مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کی عمارتوں اور گھروں تک پہنچانے کے لئے کسی نئے فتوے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس قسم کے فتوے تو کم بیش سو سال پہلے ہی صادر کیے جا چکے ہیں، جن کا سہارا لے کر یہ آگ بھڑکائی جا سکتی ہے۔ جس کسی نے بھی تحریک لبیک کے قائدین اور خاص طور پر خادم حسین رضوی صاحب کے تقاریر کی ویڈیوز سنی ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کی تقاریر میں بار بار احمد رضا خان صاحب بریلوی کے پیرو کار ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اور خود خادم حسین رضوی صاحب نے اپنے ایک بیان میں فخریہ طور پر یہ ذکر کیا تھا کہ مجھے تو خود احمد رضا خان صاحب بریلوی کے خاندان کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ لکھا احمد رضا خان بریلوی صاحب نے تھا اور پڑھا خادم حسین رضوی نے ہے۔

ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس مسلک کو پسند کرے اس کی پیروی کرے۔ میں احمد رضا خان صاحب بریلوی کی تالیف ’حسام الحرمین‘ میں درج کچھ فتوے پیش کرتا ہوں۔ اس مثال سے ظاہر ہو جائے گا کہ اس کالم میں کن خطرات کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

اس کتاب کا پس منظر یہ ہے کہ مولف نے بعض فرقوں کی کتابوں کے حوالے حجاز کے علما کو بھجوا کر فتویٰ طلب کیا اور لکھا کہ ان کی تحریروں میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی ہے اور یہ علماء عام لوگوں کے سامنے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نہایت پست گفتگو کرتے ہیں۔ اور وہ اپنا لٹریچر شائع کر کے پورے ہندوستان میں پھیلا رہے ہیں اور اس توہین کے با وجود علماء بھی کہلاتے ہیں۔ جن علماء کی تحریروں کو بھجوا کر ان کے بارے میں فتوے طلب کیے گئے تھے ان میں بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی صاحب، مشہور دیوبندی عالم رشید احمد گنگوہی صاحب، اہل حدیث کے مشہور عالم مولوی نذیر حسین دہلوی صاحب اور اشرف علی تھانوی صاحب بھی شامل تھے۔

اور عرب سے جو جوابی فتاویٰ موصول ہوئے تھے وہ اس قسم کے تھے یہ سب نظریات فاسد، باطل اور کفر ہیں۔ اور ان کے کفر میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے اور جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہوجاتا ہے۔ اور ان عرب علما نے لکھا کہ ان میں سے بعض تحریروں میں انبیا کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔ ان فتاویٰ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ان میں سے بعض عقائد ایسے گمراہ اور مفسد ہیں کہ بادشاہ اسلام پر فرض ہے کہ ان کو سزا دے اور قید میں ڈالے اگر یہ پھر بھی توبہ نہ کریں تو ان کی گردنیں اڑا دے۔ اور یہ فتویٰ بھی دیا گیا کہ بادشاہ اسلام پر فرض ہے کہ ان کے وجود سے زمین کو پاک کرے۔ اور یہ حوالہ دیا کہ امام غزالی نے تو کہا ہے اگر سلطان اسلام ایسے کسی شخص کو قتل کرے تو یہ ہزار کافروں کو مارنے سے بہتر ہے۔ اور عرب کے ایک عالم نے ان تحریروں کے مطالعہ کے بعد یہ جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کی شان گھٹانے والا واجب القتل ہے۔ اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہندوستان کے فتنہ گر مولوی سخت سزا کے مستحق ہیں۔

اس کالم میں صرف ایک کتاب کی مثال پیش کی گئی ہے اور اس جیسی بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ جن میں مختلف فرقوں کی کتب میں دوسرے فرقہ کے لوگوں پر توہین مذہب جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اور یہ کتب معروف ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا کہ ایک گروہ کسی اور گروہ پر توہین مذہب اور توہین قرآن جیسے الزامات لگا کر قانون اپنے ہاتھ میں لے اور قتل و غارت اور آگ لگانے کا سلسلہ شروع کردے تو یہ سلسلہ کسی ایک مذہب یا مسلک سے وابستہ افراد پر نہیں رکے گا بلکہ جاری رہے گا اور کوئی بھی عاقبت نااندیش ایسے حوالے پیش کر کے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔ اس لئے نہ صرف حکومت بلکہ تمام پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ پوری قوت سے ایسے فسادات کا راستہ روکیں ورنہ کوئی بے لگام گروہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے پاکستان میں خون کی ہولی شروع کر سکتا ہے۔ مینارے گرائے گئے، چرچ جلائے گئے، مسیحی برادری کے گھر لوٹے گئے گئے لیکن یہ سلسلہ یہاں پر رکے گا نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسرے گروہ کو اپنی لپیٹ میں لیتا جائے گا۔ اس لئے پاکستانی قوم ہوشیار باش۔

Facebook Comments HS