یوم آزادی مبارک ہو
پیر کو یوم آزادی کا خوب جشن منایا گیا۔ ہر گلی میں ننھے بچے باجے بجاتے ہوئے نظر آئے اور مجھے کئی ایسی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دیکھنے کو ملیں جن کے پیچھے پاکستان کا جھنڈا شان سے لہراتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اب ہمیں آزاد ہوئے چھہتر سال ہو چکے۔ جیسا ہمیں ہر سال یاد دلایا جاتا ہے، یہ آزادی ہم نے اپنا خون پسینہ بہا کر حاصل کی۔ قوم کے اس جذبے کو بر قرار رکھتے ہوئے میں بھی پاکستان کی آزادی اور تقسیم ہند پر اپنی رائے پیش کرنا چاہتا ہوں۔
جب اگست 1947 میں برطانیہ نے ہندوستان کی حکومت جو چھوڑا تو بر صغیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصہ، جس کی اکثریت ہندووں اور سکھوں پر مشتمل تھی، انڈیا کے نام سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ دوسرا حصہ، جہاں پر مسلمانوں کی تعداد ہندووں کی نسبت زیادہ تھی، پاکستان کا نام لے کر پیدا ہوا۔ اس تقسیم کے فوراً بعد ایک عظیم ہجرت ہوئی، جس میں پاکستان میں رہائش پذیر ہندو اور سکھ انڈیا کی طرف روانہ ہوئے اور انڈیا میں رہنے والے مسلمان پاکستان کی جانب چلے آئے۔
غور کیجئے کہ ہندو، سکھ اور مسلمان بر صغیر میں ہمیشہ امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہے ہیں۔ جب سے اسلام ہندوستان میں عربی تاجروں کے ساتھ داخل ہوا ہے، ہند کی تہذیب کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ بے شک اسلام کا ہند میں پھیلنے کی ایک وجہ ترک فاتحین کی تلواریں بھی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سلطان محمد غوری نے ہند میں سب سے پہلے ایک اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد بارہویں صدی میں دہلی سلطنت نے بر صغیر پہ اپنا راج شروع کیا۔ 1526 میں ظہیر الدین بابر نے پانی پت کے معرکے میں دہلی سلطنت کو شکست دے کر مغلیہ سلطنت قائم کی، جسے 1857 میں انگریزوں نے ختم کیا۔ یہی وہ صدیاں تھیں جن میں اسلام آہستہ آہستہ ہند کی ثقافت کا ایک اہم حصہ بن گیا۔
ماہرین کے بقول ہندو، سکھ اور مسلمان اس زمانے میں مل جل کر رہتے تھے۔ کسی کی پہچان اس کے مذہب سے نہیں بلکہ اس کی نسل اور اس کی زبان کی بنا پر کی جاتی تھی۔ بنگال میں رہنے والے ایک مسلمان کے لیے اس کا ہندو پڑوسی اس کی قوم کا فرد تھا؛ اسے کراچی میں رہنے والے کسی سندھی مسلمان سے یا لاہور میں رہائش پذیر کسی پنجابی مسلمان سے اسلام کی بنیاد پر کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ برطانوی راج کے دوران ہندوستان کے باشندوں کے آپس میں سیاست اور مذہب کی بنیاد پر جھگڑے ہونے لگے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ جھگڑے پہلے نہ ہوتے تھے، مگر سیاسی ماحول بدل رہا تھا اور جیسے جیسے انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کی آپس میں عداوت بڑھتی جا رہی تھی، ویسے ویسے ہند کے مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان عدم اعتمادی پیدا ہو رہی تھی۔ جب برطانیہ نے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا، تو یہ عدم اعتمادی نفرت میں بدل گئی۔
تقسیم کے فوراً بعد لاکھوں لوگ ہجرت کرنے لگے۔ جو لوگ سینکڑوں سال ایک ساتھ زندگی بسر کرتے آئے تھے وہ اب مذہب کی بنیاد پر نہ صرف علیحدہ ہوئے بلکہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہو گئے۔
مارچ 1947 میں راولپنڈی میں مسلمانوں کے کئی ہجوم، جو کہ مقامی سیاست دانوں اور برطانوی فوج کے سابقہ مسلم سپاہیوں پر مشتمل تھے، راولپنڈی کے رہنے والے سکھوں اور ہندووں پر وار کرنے لگے۔ ماہرین کے مطابق 2000 سے 7000 سکھ اور ہندو مارے گئے۔ راولپنڈی کے مسلمان جو کہ صدیوں سے سکھوں اور ہندووں کے ساتھ مل جل کر رہ رہے تھے اب ان پر اتنا ظلم کر چکے تھے کہ 80000 سکھ اور ہندو اپریل 1947 تک راولپنڈی چھوڑ کر جا چکے تھے۔ مسلح سکھوں نے بھی مسلمانوں پر حملے کئیے اور انڈیا سے آنے والی ریل گاڑیوں سے مسلمان عورتیں اغوا کرنا ایک معمول بن گیا۔ کئی بیانیے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ مسلمان مردوں نے بھی سکھ اور ہندوں عورتوں کو اغوا کیا اور جنسی زیادتیاں کیں۔ جیسا کہ تاریخ کے ہر تنازع میں ہوتا آیا ہے، عورتوں پر جبر معمول تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 75000 سے 100000 عورتیں پارٹیشن کے دوران جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں۔
آج بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان پارٹیشن کے واقعات کو لے کر عداوت ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ کئی معاملات پر کئی جنگیں لڑیں ہیں۔ ان پارٹیشن کے دیے ہوئے زخموں پر ہم کب مرہم رکھیں گے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی ہمیں اسکول کی کتابوں میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ انڈیا نے ہم پر بہت ظلم ڈھائے، ہم پر کتنی زیادتی کی۔ اگر ہمارا اصول یہی ہے کہ ہم اپنے کئیے ہوئے ظلم کو بھلا دیں اور خود کو مظلوم ٹھہرا کر انڈیا سے عداوت کا رویہ اختیار کر لیں، تو ہم منافق ہیں۔ انھیں زخموں کے نام پر ہم انڈیا سے نفرت کرتے ہیں۔ بچہ بچہ یہ جانتا ہے کہ انڈیا ہمارا دشمن ہے : کب تک ہم انڈیا کے خلاف یہ رویہ اختیار کرتے رہیں گے؟ پارٹیشن کے دوران دیے گئے زخموں کے نام پر ہم دوسروں پر کتنے زخم ڈالتے رہیں گے؟

