شاہ مراد اور بابا نو گزا (4)۔


بستی کے قریب ہی بڈھ کے پار قبرستان تھا۔ اس قبرستان میں بابا شاہ مراد کا دربار بھی تھا۔ جہاں ہر سال ساون کی پندرہ، سولہ اور سترہ تاریخ کو میلہ لگتا تھا۔ میلہ کوئی بہت بڑا نہیں تھا۔ بس قرب و جوار کے پانچ پانچ سات سات دیہات سے لوگ آ جاتے۔ یہاں پر کبڈی، کشتی، گھڑ سواری، بیلوں کی دوڑ اور دوسرے چھوٹے چھوٹے بہت سے کھیل تماشوں کا اہتمام کیا جاتا۔ اشیائے خوردنی، بچوں کے کھلونوں، خواتین کی جیولری اور میک اپ پر مشتمل چھوٹی چھوٹی چند دکانیں موجود ہوتیں۔

جہاں پر لوگ حسبِ خواہش اور حسبِ ضرورت خریدو فروخت کا شوق پورا کرتے ہوئے دکھائی دیتے۔ میلے کے تینوں دن بابا کے دربار پر ہر وقت لنگر پکتا رہتا اور تقسیم ہوتا رہتا۔ وقت کی کوئی قید نہیں تھی۔ جب کسی کو بھوک محسوس ہوتی تو وہ لنگر پر جا کر بلا تکلف کھانا لے کر اپنی بھوک مٹانے کا سامان کر لیتا۔ تمہاری بستی کے تقریباً ہر گھر میں بابا کے میلے پر چڑھاوا چڑھانے کے لیے ایک آدھ ڈنگر پل رہا ہوتا۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ بابا جی اپنی نذر نیاز کے جانوروں کی زندگی کی خود حفاظت کرتے ہیں اور اسی بہانے بابا جی کی وہاں پر موجودگی ان کے دوسرے جانوروں کے لیے بھی صحت و تندرستی اور خیر و برکت کا سبب بنتی۔

یہاں پر مٹھائیوں کی دکانوں پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مٹھائی جلیبی تھی۔ جلیبیاں نہ صرف میلے میں لوگ باگ جی بھر کر کھاتے بلکہ سیروں کے حساب سے تلوا کر گھروں میں بھی لے جائی جاتیں۔ دودھ، جلیبی بڑی طاقت بخش غذا تصور ہوتی۔ بندر، ریچھ اور بکرے کا تماشا دکھانے والے مداری لوگ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کو کو تماشے اور فن خطابت سے خوب خوب محظوظ کرتے اور اپنی روزی روٹی کا سامان بھی کر لیتے۔ جوان شادی شدہ عورتیں یہاں پر سجائی گئی منیاری کی دکانوں پر سرخی، پاؤڈر، کریم، نیل پالش، دنداسہ اور ان کے حسن کو بڑھاوا دینے والی اسی قبیل کی دوسری اشیاء کی خریداری میں ہمہ تن مصروف نظر آتیں۔

غیر شادی شدہ لڑکیوں کے لیے یہ سب شجرِ ممنوعہ تھا اور ایسی چیزوں کے استعمال پر اُن کے لیے بڑی سختی سے پابندی لگی ہوئی تھی۔ مشکی صابن سے نہانا منع تھا۔ اونچی آواز میں ہنسنے بلکہ بات کرنے پر بھی پابندی تھی۔ اول تو کپڑوں کا نیا جوڑا اکٹھا انہیں بہت کم نصیب ہوتا۔ اگر کبھی سوئے اتفاق ایسا ہو بھی جاتا تو یہ نیا جوڑا انہیں ایک ہی بار پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ نئی شلوار کے ساتھ پرانی قمیض پہننے کو دی جاتی اور اسی طرح نئی قمیض کے ساتھ پرانی شلوار پہنی جاتی اور اس جوڑے کا نیا پن ختم ہونے کے بعد پھر یہ اکٹھا ہی پہن لیا جاتا۔

بابا شاہ مراد کے دربار کے ساتھ ہی یہاں پر بابے نو گزے کی قبر بھی موجود تھی۔ اس کے متعلق روایت یہ تھی کہ یہ بابا کافروں کے ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ جہاد کر رہا تھا۔ اس نے اپنی تلوار کی مدد سے سینکڑوں کافروں کو جہنم واصل کیا تھا۔ جب وہ لڑتے لڑتے تھک گیا تو اس نے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ دشمن اس کے سر پر چڑھے آ رہے تھے۔ جب وہ ہڑپہ کے مقام پر پہنچا تو کافروں نے اس کا سر تن سے جدا کر کے اُسے شہید کر دیا۔ لیکن وہ سر کے بغیر ہی کافروں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے پیچھے ہٹتا رہا اور بالآخر یہاں پر اس کا تن بھی مردہ ہو کر زمین پر گر پڑا۔

اس روایت کے مطابق اس نو گزے کا سر ہڑپہ میں اور دھڑ یہاں پر دفن ہے۔ وہاں پر یہ بات بھی زبان زد عام تھی کہ اس نو گزے کی قبر کی لمبائی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ اگر آپ ایک بار اس کی قبر کی پیمائش کریں اور پھر دوبارہ پیمائش کریں تو دونوں پیمائشوں میں فرق ہو گا۔ غرض کہ آپ جتنی بار بھی اس کی پیمائش کرتے جائیں گے ہر بار نتیجہ مختلف آئے گا۔ ایک بار میلے کے دنوں میں اتفاقاً ہم لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ میلہ دیکھنے کے لیے جاتے وقت میں نے اس روایت کی تصدیق کے لیے ایک لمبی رسی بھی ساتھ لے لی۔

میرا کزن رشید بھی میرے ساتھ تھا اور راستے میں ہمیں بابے نوگزے کی داستان مزے لے لے کر سناتا جا رہا تھا۔ ہم سیدھے بابے نوگزے کی قبر پر پہنچے اور فاتحہ خوانی کے بعد رشید کو قبر کی پیمائش کرنے کو کہا گیا۔ اس نے قدموں کی مدد سے پیمائش کی۔ تو قبر کی لمبائی پورے پانچ کرم نکلی۔ دوبارہ پیمائش پر ساڑھے چار کرم اور تیسری بار پونے پانچ کرم نکلی تو رشید نے داد طلب نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے خاموشی سے رسی نکالی اور ایک طرف سے اسے پکڑا دی کہ چلو آئیں قدموں کی بجائے رسی کی مدد سے اس کی پیمائش کرتے ہیں۔

ہم نے قبر کی پیمائش کر کے اس کے مطابق رسی پر نشان لگا دیے۔ اس کے بعد میں نے اس سے کہا کہ اب اسے کم و بیش کر کے دکھاؤ۔ رسی کی مدد سے تین چار بار پیمائش کی اور کوئی فرق نہ آیا تو رشید جھنجھلا کر بولا کہ یہ تو پیمائش کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ ہم تو پیمائش ہمیشہ سے ہی قدموں سے کرتے آئے ہیں۔ میں نے بھی اپنی بات پر زور نہیں دیا اور اس طرح بات آئی گئی ہو گئی۔ یہ تھا وہ ماحول جس میں تم نے آنکھ کھولی اور یہیں پر زندگی کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے تم اپنی جوانی کو پہنچیں اور پھر میرے ساتھ نکاح کے مقدس بندھن میں بندھ کر میرے دل کی دنیا آباد کرنے کے لیے ہمارے گھر میں رونق افروز ہوئیں۔

Facebook Comments HS