متحدہ اٹلی کا قیام۔ 1871


جنوبی اور مغربی یورپ میں 301230 مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلا اٹلی بحیرہ روم کے وسط میں واقع اطالوی جزیرہ نما اور گردونواح کے متعدد جزائر پر مشتمل ہے جس کی زمینی سرحدیں فرانس، سوئٹزر لینڈ آسٹریا، سلووینیا کے علاوہ ”روم کے اندر آزاد پاپائی شہر ویٹیکن (روم کے اندر 44 ہیکٹر رقبے کی چھوٹی آزاد پاپائی ریاست) اور سان مارینو (اٹلی خطے میں گرے اپینائن (Appennine ) پہاڑوں کے شمال مشرقی طرف واقع 61 مربع کلومیٹر پر مشتمل یورپ کی چھوٹی سے آزاد جمہوریہ) کے ساتھ ملتی ہیں۔

اٹلی کے چند چھوٹے علاقے سوئٹزر لینڈ، اور کیمپیون (Campione) کے علاوہ افریقہ کے جزائر میں بھی ہیں۔ تاریخ میں اٹلی کا ایک منفرد مقام اور حیثیت رہی ہے اٹلی قدیم رومن تہذیب کی جائے پیدائش اور مرکز رہا ہے۔ 753 ق م میں اس کے شہر روم میں چھوٹی سی بادشاہت قائم ہوئی جو 509 ق م میں جمہوریہ بنی جس کے تحت اٹلی متحد ہونے کے بعد بتدریج ایک ایسی عظیم سلطنت میں ڈھل گئی جو مغربی یورپ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے علاقوں پر مشتمل تھی 476 عیسوی میں سقوط روم سے مغربی رومن سلطنت کے انہدام پر جزیرہ نما اٹلی متعدد شہری ریاستوں میں تقسیم ہوا۔

اگرچہ مختصر عرصے کے لیے یہ اوسٹرگوتھ بادشاہت ( 493 تا 552 ) کے تحت متحدہ ہو گیا تھا مگر چھٹی صدی عیسوی میں مشرقی رومن سلطنت (بازنطینی) کے حملوں کے بعد پھر سے منتشر ہو گیا۔ 8 ویں صدی میں شمالی اٹلی مقدس رومن سلطنت کے کنٹرول میں آ گیا جبکہ وسطی اور جنوبی حصے مختلف اوقات میں ”نیپلز بادشاہت“ ، ”سلسلی بادشاہت“ اور ”پاپائی ریاستوں“ کے زیر حکومت رہے۔ 14 ویں صدی کے دوران اٹلی خطے میں نشات الثانیہ کے آغاز سے اگلی صدیوں میں ”میلان“ اور ”وینس“ جیسی اطالوی ریاستوں کے طاقتور ہو جانے سے طاقت کے توازن میں تبدیلی آ گئی۔

مقدس رومن سلطنت اور شہری ریاستوں میں متواتر جنگیں ہونی لگیں 1494 سے 1559 تک فرانس اور اس کے حریفوں ( مقدس رومن سلطنت اور اسپین کے ہاپسبرگ بادشاہوں ) کے درمیان جنگوں کا میدان زیادہ تر اطالوی جزیرہ ریا۔ 1559 میں اسپین نے سارڈینیا، میلان، جنوبی توسکنی اور نیپلز پر کنٹرول کے علاوہ جنیوا، توسکنی اور اٹلی کے شمالی خطے کے دوسرے چھوٹے حکمرانوں کو زیر تحت رکھا۔ 1618 تا 1648 30 سالہ جرمنی جنگ کے بعد ویسٹ فلایا امن معاہدہ ( 1648 ) کے تحت مقدس رومن سلطنت کی مداخلت ختم ہو گئی لیکن بیشتر شمالی اٹلی پر ہاپسبرگ شاہی خاندان کے اسپینی شاخ کا تسلط برقرار رہا۔

اسپین کی جانشینی کی جنگ ( 1701 تا 1714 ) کے نتیجے 1713 میں اٹلی پر ہاپسبرگ اسپین حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور اٹلی متعدد چھوٹی راجدھانیوں میں منقسم رہا۔ پاپائی ریاستوں اور سارڈینیا بادشاہت کے سوا بقیہ اٹلی پر آسٹریا کا بلاواسطہ یا بالواسطہ قبضہ رہا۔ یہ حالت 1789 میں انقلاب فرانس کے شروع ہونے تک برقرار رہی۔ 1796 سے شروع ہونے والے ”نیپولین بونا پارٹ“ کا جنگی سلسلہ یورپ کے سیاسی منظر نامہ کو تبدیل کر دیتا، ہے نیپولین نے اٹلی کے شہری ریاستوں کو فتح کر کے ایک واحد انتظامی یونٹ میں تبدیل کیا۔

نیپولین کے فرانسیسی سلطنت کے تحت اطالوی عوام آزادی، اور قوم پرستی جیسے تصورات سے متاثر ہوئے۔ 1815 میں نیپولین کی شکست اور زوال کے بعد ویانا کانگریس نے اٹلی میں قبل از نیپولین کی آزاد ریاستی حکومتوں کو بحال کیا۔ یوں اٹلی پھر سے مختلف طاقتوں کے درمیان بٹ گیا اور اس کے بیشتر حصے بیرونی اقوام کے تسلط میں آ گئے۔ جنوب کی سلسلی بادشاہت اسپین کے بھوربن شاہی خاندان کے زیر حکومت رہی۔ وسطی اٹلی میں پاپائی ریاستیں ”پوپ“ کے تحت تھیں۔

شمال میں لومبارڈے اور وینیشیا کے صوبے آسٹریا کے ہاپسبرگ شاہی خاندان کے تحت تھے۔ جبکہ توسکینی، پارما اور مودینا کے ڈچیز (چھوٹی ریاستیں ) آسٹریا کے ماتحت ہاپسبرگ شہزادوں کی زیرحکومت تھیں۔ صرف شمال مشرق میں پائیڈ مونٹ اور سارڈینیا کا جزیرہ ”سیوائے“ کے اطالوی شاہی خاندان کے تحت تھے۔ سیاسی تقسیم کے علاوہ اٹلی معاشی اور ثقافتی لحاظ سے بھی منقسم تھا۔ قومی اتحاد کے بجائے مقامی وابستگی کا رجحان زیادہ مضبوط تھا۔

شمال اور جنوبی حصوں میں کافی معاشی تفاوت تھی۔ مگر اطالویوں میں ایسے حلقے ابھر آئے تھے جنہوں نے غیر ملکی تسلط اور مداخلت کے خلاف اور اپنے ملک کو متحد کرنے کے لیے جدوجہد کا سلسلہ شروع کیا۔ یوں تو 1820 اور 1830 کی دہائیوں میں اٹلی کو متحد کرنے کے لیے تحریک کا آغاز ہوا تھا جس کو قدامت پرست طاقتوں نے یورپی ممالک کے دوسری بغاوتوں کی طرح اطالویوں کی تحریک کو وقتی طور پر دبا دیا مگر ان کی انقلابی اسپرٹ اور سرگرمیاں کو دبایا نہ جا سکا۔

1848 میں ایک بار پھر جب یورپ کے بہت سارے ممالک میں انقلابی لہریں اٹھیں تو اٹلی میں ایک قوم پرست رہنما ”گیوسپی مازینی (Giuseppe Mazzini) ابھرا، جس نے متحدہ اور جمہوری اٹلی کے قیام کے لیے“ ینگ اٹلی ”کے نام خفیہ تنظیم قائم کی۔ مازینی کی قیادت میں انقلابیوں نے جزیرہ نما اٹلی کی 8 ریاستوں نے بغاوت کر کے روم میں ایک جمہوری حکومت قائم کر لی مگر اس دور میں یورپ کے مختلف ممالک میں برپا دوسرے انقلابوں کی طرح اس کو بھی جلد ناکام بنا دیا گیا۔

اور ”مازینی“ کو جلاوطن ہونا پڑا۔ 1848 کے بعد اطالوی قوم پرستوں کی امید ”پائیڈ مونٹ سارڈینیا“ کی بادشاہت بنی جو واحد اطالوی ریاست تھی جس کے حکمران اطالوی تھے۔ جزیرہ سارڈینیا کے علاوہ ”پائیڈ مونٹ“ سے ملحق ”نائیس اور“ سیوائے ”کے صوبے بھی اس بادشاہت کا حصہ تھے۔ یوں یہ اطالوی ریاستوں میں سب سے بڑی اور طاقتور ہونے کے ساتھ سب سے لبرل حکومت والی ریاست تھی۔ 1852 میں سارڈینیا کے بادشاہ“ وکٹرعمانوئیل دوم ”نے کاونٹ“ کیمیلو دی کیویر (Count Camillo di Cavour) ”( 1810 تا 1861 ) کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ جو اعتدال پسند قوم پرست تھا جس نے اٹلی کو متحد کرنا اپنی اولین ترجیح بنایا۔“ کیویر ”بلند دعووں اور رومانی قسم کی بغاوتوں کے بجائے محتاط حکمت عملی اور چنیدہ اتحادیوں کو زیادہ مفید سمجھتا تھا۔

اٹلی کے متحد ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ آسٹریا تھا ”۔ کیویر“ کو احساس تھا کہ شمالی اٹلی سے آسٹریا جیسی طاقت ور ریاست کو نکال باہر کرنے کے لیے کسی دوسری بڑی طاقت کی مدد ضروری ہے۔ جس کے لیے اس کو فرانس کی صورت میں اتحادی مل گیا۔ فرانس کا ”نیپولین سوم“ اپنے چچا کی طرح فرانس کو عظیم طاقت بنانے کا جنون تھا۔ اس کا خیال تھا کہ آسٹریا کے نکلنے کے بعد وہ اٹلی پر تسلط جما سکتا ہے۔ 1858 میں اس نے کیویر کے ساتھ آسٹریا کو نکالنے کا خفیہ معاہدہ کر لیا۔

جس کے بدلے ”کیویر“ نے ”نیس“ اور سیوائے ”کے سرحدی علاقے فرانس کو دینے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد جلد“ کیویر ”نے آسٹریا سے جنگ کا آغاز کر دیا۔ فرانس اور سارڈینیا کی مشترکہ فوج نے آسٹریا کے خلاف فتح حاصل کر لی۔ اسی اثنا اطالوی قوم پرستوں نے پورے شمالی اٹلی میں آسٹریا کے خلاف بغاوت شروع کی ان کا مطالبہ تھا کہ سارڈینیا ان کے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیں۔ یہ صورت حال (مستحکم متحدہ اٹلی) نیپولین سوم کی توقعات کے برعکس تھی جس کی وجہ سے ایک موقع پر وہ سارڈینیا کے خلاف جنگ کرنے پر غور کرنے لگا۔

مگر محتاط ”کیویر“ نے چونکہ یورپ کی دوسری بڑی طاقتوں سے اچھے تعلقات برقرار رکھے تھے۔ اس لیے تنہا ہونے کے خدشے کے باعث ”نیپولین سوم“ نے سارڈینیا کے خلاف جنگ کا خیال ترک کر کے ”نیس ’اور“ سیوائے ”کو قبول کرنے پر اکتفا کیا جس کا“ کیویر ”نے وعدہ کیا تھا۔ 1860 تک ریاست سارڈینیا“ نے ”وینیشیا“ کے سوا تمام شمالی اٹلی کو شامل کر لیا۔ شمالی اٹلی کو متحد کرنے کے دوران ”کیویر“ خفیہ طور پر جنوبی اٹلی میں سر گرم قوم پرست باغیوں کی مدد بھی کر رہا تھا۔

مئی 1860 میں اس نے ایک دلیر کمانڈر ”گیری بالڈی“ کی قیادت میں ایک ہزار اطالوی قوم پرستوں کو سسلی روانہ کیا جو اپنے لباس کے رنگ کے بنا ”سرخ پوش“ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ سسلی میں فتح حاصل کرنے کے بعد ”گیری بالڈی“ ”نیس“ کو آزاد کرنے کے لیے پر تولنے لگا جو ”کیویر“ کے لیے باعث تشویش یوں بنا کہ وہ یہ صوبہ فرانس کو دینے کا وعدہ کر چکا تھا۔ اور وعدہ خلافی کی صورت میں فرانس کے ساتھ جنگ مہنگی پڑ سکتی تھی۔

جس کا حل ”کیویر“ نے یوں نکالا کہ بادشاہ ”عمانوایل“ کی مداخلت سے ”گیری بالڈی“ نہ صرف دستبردار یو گیا بلکہ مقبوضہ جنوبی علاقے بادشاہ کے تحت کر دیے۔ مارچ 1861 میں اطالوی پارلیمنٹ نے ”وکٹر عمانوایل“ کو تمام اٹلی کا بادشاہ قرار دے کر آئینی بادشاہت قائم کردی۔ اس کے کچھ عرصے بعد ”کیویر“ کا انتقال ہو گیا اور پورے اٹلی کو متحد ہوتا نہ دیکھ سکا۔ 1861 میں صرف ”روم“ (جو پوپ کے تحت تھا ) اور ”وینیشیا“ (جو آسٹریا کے زیر قبضہ تھا) ۔

اٹلی بادشاہت سے باہر تھے۔ 1866 میں آسٹریا اور پرشیا کے درمیان جنگ میں اٹلی نے فاتح پرشیا کا ساتھ دیا۔ جس کے عوض اٹلی کو ”وینیشیا“ مل گیا۔ 1870 میں جب فرانس اور پرشیا کے درمیان جنگ چڑ گئی تو فرانس نے روم سے اپنی حفاظتی فوج واپس بلا لی۔ جس پر اٹلی نے روم پر قبضہ کر کے اس کو ملک کا دارالحکومت قرار دیا جبکہ 1871 میں اٹلی حکومت نے پاپائی ریاستوں کو شامل کر کے ایک معاہدے کے تحت پوپ کو روم کا کچھ حصہ عطا کیا۔

44 ہیکٹر پر مشتمل یہ علاقہ ”ویٹیکن سٹی“ کہلاتا ہے۔ 1871 میں باقاعدہ طور متحد ہونے کے بعد ایک طرف اٹلی نے افریقہ کے بعض حصوں اور بحیرہ روم کے ساحلوں پر کنٹرول حاصل کر کے بڑی تیزی سے نو آبادیاتی سلطنت قائم کر لی مگر دوسری طرف متعدد مسائل کا شکار بھی رہا۔ چونکہ صدیوں سے اٹلی غیر متحد رہا تھا اور مختلف صوبوں میں شدید رقابت چلی آ رہی تھی سب سے بڑا تناؤ ”صنعتی شمال“ اور ”زرعی جنوب“ کے درمیان رہا۔ ان دونوں خطوں کے باسیوں کی طرز زندگی اور زبان کے لہجوں میں بہت تفاوت تھی۔

” کیویر“ کے بعد مضبوط لیڈر کا فقدان رہا۔ ”گیر بالڈی“ سیاسی مہارت سے عاری تھا۔ پارلیمنٹ میں واضح پروگرام رکھنی والی منظم جماعتیں نہیں تھیں جس کی وجہ سے حکومتیں متواتر بدلتی رہیں۔ متحد ہونے کے بعد جو آئینی اور انتظامی ڈھانچہ بنایا گیا اس میں فوقیت زیادہ تر ”پائڈمونٹ“ ریاست کے قوانین اور شہریوں کو ملی۔ بیشتر لوگوں کے توقعات کے برعکس صوبوں کے بجائے مرکز کو مضبوط بنایا گیا۔ جو دوسری ریاستوں کے لیے کی مایوسی کا باعث رہا۔

آئین لبرل حلقوں کو تو پسند تھا مگر پادریوں کے خلاف آئین کے بعض نکات وینس، روم اور نیپلز اور جزیرہ سلسلی میں کیتھولک حلقوں کو پسند نہیں تھیں۔ متحد ہونے کے پہلے دہائی میں سلسلی اور نیپلز میں وحشیانہ بغاوتیں ہوئیں 1870 میں روم کو کھونے کے بعد پوپ نے کیتھولک چرچ کو نئی حکومت سے عدم تعاون کا حکم دیا۔ جس کو کہیں 1929 میں واپس لیا گیا، ۔ یہ عوامل قومی اتحاد کی کمزوری اور پر تشدد علاقائی اختلافات کے باعث بنے رہے۔

سیاسی عدم استحکام کے ساتھ اٹلی کو شدید معاشی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جنوبی اٹلی میں کسان بغاوتیں کرتے رہے۔ جبکہ شمالی اٹلی میں ہڑتالیں اور شورشیں ہوتی رہی۔ جنوب سے اطالوی شہریوں کی نقل مکانی بھی اٹلی کا بڑا مسئلہ تھا۔ 1860 سے 1910 تک 59 سالوں میں 40 لاکھ اطالوی امریکہ اور 19 لاکھ ارجنٹائن کی طرف نکل گئے۔ یوں اٹلی 20 ویں صدی میں بھی مختلف سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل سے نبرد آزما رہا۔ ایک مسئلہ اٹلی کے گرد و نواح میں اطالوی اکثریتی علاقوں کو اٹلی ریاست میں شامل کرنے کا تھا۔

اگرچہ 1871 میں اٹلی کافی حد تک متحد ہو گیا تھا مگر بہت ساری اطالوی لوگوں کا اٹلی ریاست سے باہر رہ جانے کی وجہ سے اس کو ادھورا سمجھا جاتا رہا۔ ایک غیر رسمی قوم پرست تحریک نے اٹلی اتحاد کی تکمیل کے لیے ان علاقوں کو شامل کرنے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کی مہم شروع کی۔ اٹلی کا 1915 کے لندن معاہدے کے تحت وسطی اتحاد (جرمنی، اور آسٹریا) کے خلاف پہلی جنگ عظیم میں اس وعدے کے تحت شریک ہوا کہ اٹلی ریاست سے باہر اطالوی اکثریتی علاقوں کا الحاق اٹلی سے کیا جائے گا جنگ کے بعد اس کو کچھ علاقے تو دیے گئے مگر وعدے کے مطابق پورے علاقے نہیں مل سکے۔ اٹلی کے نیشنل فاشسٹ پارٹی کے لیڈر ”بینٹو مسولینی“ نے اس کو ”لنگڑی فتح“ قرار دے کر ایک سیاسی نعرہ بنایا۔ اکتوبر 1922 میں ”مسولینی نے 30 ہزار سیاہ پوش کارکنوں کے ساتھ“ روم ”کی طرف مارچ کر کے وزرات عظمیٰ پر قابض ہو کر فاشسٹ حکومت قائم کی۔ دوسری عالمگیر جنگ کے برپا ہونے میں جس کا اہم رول رہا۔

Facebook Comments HS