وجودیت کا تاریخی پسِ منظر

اب سے سینکڑوں سال پہلے جب انسان کو فکر و شعور کی صلاحیت نئی نئی ودیعت کی گئی تو اس وقت اس میں فہم و فراست کی یہ صلاحیت انتہائی خام صورت میں تھی۔ چنانچہ اپنی فکر کے اس ابتدائی مراحل میں اس نے اپنے سامنے اونچا ہونے والی ہر اس شے یا واقعے کو اپنا معبود بنا لیا کہ جو اسے فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا تھا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس کے شعور میں بھی استحکام و پختگی پیدا ہوتی چلی گئی اس نے نسبتاً زیادہ بہتر انداز میں سوچنا شروع کر دیا اور اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونے لگا کہ اس کارخانہ عالم کے پس پشت کار فرما اصل حقیقت یا صداقت کا سراغ لگایا جائے۔ چنانچہ اس نے اس صداقت کی دریافت کے لیے وجدان و وحی کو ذریعہ واحد کے طور پر اختیار کیا اور ایک عرصہ دراز تک اس کی فکر کا یہی رجحان غالب رہا۔ انسانی شعور نے ہزاروں سال کی مسافرت طے کرنے کے بعد ترقی کی ایک نئی منزل کو دریافت کیا اور یہ منزل ”عقل“ کی منزل تھی۔
جب کچھ اور وقت گزرا تو تعقل کی اسی صلاحیت نے اپنی اہمیت اور افادیت کو منوانا شروع کر دیا۔ تاہم عقل کی اپنی اس اہمیت و انفرادیت کے باوجود ابھی یہ ممکن نہ ہو سکا تھا کہ مذہبی و عقلی تصورات کے درمیان کوئی واضح حدِ فاضل کھینچی جا سکے لہٰذا عقل کی کارفرمائیوں کو اب بھی مذہبی تناظرات کی کسوٹی پر رکھ کر ہی پرکھا جانے کا رجحان عام تھا۔ چنانچہ تاریخ فلسفے کا طالب علم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ کلیسا کی بالادستی کے ادوار میں سائنسی ایجادات اور تحقیقات سے وابستہ مفکرین اور سائنس دانوں کو عموماً جبر و تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن میں برونو اور گلیلیو کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
گویا سائنس اور مذہب دونوں کے درمیان تصادم کی صورت پائی جاتی تھی اور عقل کو اکثر و بیشتر پسپائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ چنانچہ اسی عقلی و جذباتی کشمکش کے دوران وہ وقت بھی آیا کہ جب ابنِ رشد نے اس پوری صورتحال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مذہب اور سائنس کی صداقتوں کے درمیان حد بندیوں کی ضرورت پر اصرار کیا تاکہ عقل و سائنس کی بالادستی کا دور شروع ہو اور فلسفہ جدید کے باوائے آدم ڈیکاٹ نے ابنِ رشد کے قائم کردہ امتیاز کو برقرار رکھا حالانکہ ڈی کارٹ تو خود بھی ایک راسخ العقیدہ عیسائی تھا۔ پھر بھی اس نے یہ تصور پیش کیا کہ فلسفے کا دائرہ کار محدود ہے اور انسانی عقل چند محدود مسائل حل کرنے کی ہی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈیکاٹ نے جن مسائل کو فلسفے سے منسوب کیا ہے وہ وہی مسائل ہیں جنہیں سائنسی مسائل کا جزو لازم قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے وہ مسائل کہ جن کا تعلق ہماری زندگی سے ہے یعنی ہمارے حیاتی مسائل، ہم کیا ہیں؟ ہمارا مقصد کیا ہے؟ اس کائنات میں ہمارا مقام کیا ہے اور ہمارے یہاں بھیجے جانے میں خود ہماری اپنی مرضی و منشا کا کتنا دخل ہے؟ وغیرہ۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ڈیکاٹ کے نقطہ نظر سے فلسفہ عقل کی بجائے مذہب کے دائرہ فکر میں آتے ہیں۔ لیکن مذہب و فلسفے کی یہ تقسیمِ فکر زیادہ دنوں تک برقرار نہ رہ سکی۔
چنانچہ سترویں صدی کی ابتدا کے ساتھ ہی سائنس کی روز افزوں ترقی کا عمل اور اس کے منہاج و طریق کی ششدر بنا دینے والی علمی و تحقیقی کامرانیوں نے مذہب و فلسفے دونوں کی اہمیت کو ختم کر کے رکھ دیا۔ سائنس نے کئی ایک ایسے مسائل اس قدر خوش تدبیری سے حاصل کر لیے تھے کہ اس کے منہاجِ تحقیق اور عمل طریق کو قابلِ اعتماد اور یقینی ذریعہ علم کی حیثیت سے باور نہ کرنا قطعاً ناممکن ہو گیا اور یہ اعتماد اپنی اس انتہا کو پہنچ گیا کہ بالآخر یہ باور کیا جانے لگا کہ ہمارے تمام مسائل خواہ وہ حیاتی ہوں یا اخلاقی، مادی ہوں یا جمالیاتی ان کا تعلق جوہر سے ہو یا وجود سے صرف اور صرف سائنسی طریق کی مدد سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔
لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ سائنسی منہاجات کے اندر موجود تضادات کھل کر سامنے آ گئے اور یہ غلط فہمی دور ہو گئی کہ سائنسی طریقہ کار ہمارے حیاتی اور اقداری مسائل کے حل کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ سائنس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر ایک کاری ضرب لگی اور اس سے انسانی حیات کے مسائل کے حل کے لیے جو توقعات جذباتی طور پر وابستہ کر لی گئی تھیں ان تمام امیدوں پر پانی پھر گیا۔ لہٰذا اس صورتحال کے باعث سائنسی بحران کے نتیجے میں ایک ذہنی وجدانی خلا پیدا ہو گیا اور ضرورت اس امر کی پیش آئی کہ اس خلا کو پر کیا جائے۔
انسان کی ذہنی مساعی کے نتیجے میں اس خلیج کو پاٹنے کے لیے دو فکری تحریکیں معرضِ وجود میں آئیں۔ ان میں سے ایک تحریک منطقی ایجابیت ہے جس کا تعلق ذہنی پہلو سے ہے۔ اس طریقے کے معاہدین نے ابتدا ہی میں یہ تسلیم کر لیا کہ ان کا دائرہ کار صرف سائنسی منہاج اور زبان کے مغالطوں سے پیدا ہونے والے مسائل حل کرنے تک محدود ہے اور یہ مفکرین وجود و اقدار کے مسائل حل کرنے کا کوئی دعویٰ کرتے نظر نہیں آتے۔ منطقی ایجابیت کے برعکس دوسری تحریک وجودیت کی فکری تحریک ہے۔ جس کا تعلق انسان کے جذباتی پہلو سے ہے اور جو وجود و اقدار کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ مگر ان ہر دو جدید فکری تحریکوں میں جو ایک بات مشترک نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ روایتی فلسفے کی حد سے بڑھتی ہوئی تجربیت کو واقعی حقیقت سے قریب تر لایا جائے اور وہ فلسفہ کہ جو قبل سقراطی دور سے آسمانوں پر جھول رہا تھا اسے زمین کی حقیقتوں اور ان سے وابستہ مسائل کے حل کے لیے قابلِ تصرف بنایا جائے۔
چنانچہ وجودی مفکرین نے کرکیگارڈ کی انتہا پسندانہ تجربیت کی تقلید میں مصنوعی اور جعلی مسائل اور نظریاتی گورکھ دھندوں کو مسترد کر دیا۔ وہ بلاواسطہ تجربے کے ٹھوس معطیات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ فلاسفہ ان تجربی معطیات کو ”جیسے کہ وہ ہیں“ بعینہ اسی صورت میں بیان کر دینا چاہتے ہیں۔ یعنی اوصاف یا جوہر کی من و عن تفصیل و بیان وغیرہ۔ یہ مظہریاتی منہاج فکر ہے۔ ایجابیت پرست فلاسفہ کا تعلق بھی اصل میں تجربے سے ہی ہے گویا ان کا تجربہ ایک ذرا مختلف انداز کا ہے۔ چنانچہ ہیوم کی تقلید میں ان کی دلچسپی بھی اسی مظہر سے ہے جو ہمارے اطراف و جوانب کی دنیا تشکیل دیتا ہے۔ گویا ایجابی فلسفے کا جھکاؤ اپنے تجربی معطیات کی جانب ہے جن کی تفصیل سائنس ہمارے سامنے پیش کرتی ہے اور یہ پوری صورتحال معروضیت سے وابستہ ایک ماجرا یا معاملہ ہے۔ جبکہ ایجابی اپیل کے برعکس وجودی اپیل اخلاقی و جذباتی تجربے اور ماورائی ہستی کی جانب ہے اور جس نے موضوعیت سے اپنا تعلق استوار کر رکھا ہے۔ لہٰذا اس صورتحال کی مزید وضاحت کے لیے ذیل کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے :
” انیسویں صدی عیسوی میں سائنس پر بے پناہ اعتماد کے ساتھ عقل پرستی کا شدید رجحان بھی پایا جاتا تھا اور ان ہر دو صورتوں کو باہم ایک دوسرے کے ساتھ مربوط تصور کیا جاتا تھا۔ اس دور کی عقل پرستی کا واضح ترین اظہار ہیگل کے فلسفے میں ہوا جو عقل کی مطلقیت کا علم بردار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے تمام مسائل محض عقل کی مدد سے حل کیے جا سکتے ہیں اور عقل ہی حقیقت کا جزو مطلقیت ہے۔ لیکن عقل کی مطلقیت میں“ یقین ”کا پہلو غیر عقلی ہے۔ ہمارا تجربہ اس امر کا شاہد ہے کہ عقل انسانی فطرت کا ایک حصہ ہے اور اس کی صلاحیتیں محدود ہیں۔ یوں اسے مطلق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی وجہ سے کرکیگارڈ نے جو وجودیت کا بانی ہے، نے ہیگل کی عقل پرستی کے خلاف شدید آواز احتجاج بلند کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ صداقت موضوعی ہے اور عقل اسے گرفت میں نہیں لے سکتی۔ عقل دشمنی یا زیادہ محتاط طور پر یوں کہیے کہ عقل کی مطلقیت سے انکار وجودیت کی ایک بنیادی صفت ہے۔ اس لیے عموماً وجودیت کو ہیگلی فلسفے کے خلاف ایک شدید ردِ عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔“
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بات درست ہے مگر اس میں مبالغے کا عنصر بھی شامل ہے۔ اور اصل بات یہ ہے کہ وجودیت روایتی مذہب، عقل و سائنس تینوں کی انسانی مسائل حل کرنے میں ناکامی کی ایک صدائے بازگشت ہے۔ یہ مذہبیت، سائنس پرستی، معروضی حقائق کی بھرمار اور عقل کی مطلقیت کے خلاف بے شمار اہم اور غیر اہم، درست اور نہ درست رد ِعملوں کا ایک مختصر و مشترک نام ہے۔ بقول ”واٹر کوف مین“ وجودیت فلسفہ نہیں بلکہ روایتی فکر کے خلاف کئی مختلف انداز کی بغاوتوں کا ایک ”عنوان“ ہے۔ ”

