فیض احمد فیض سے معذرت کے ساتھ
یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان کے اخبارات اور فکری حلقوں میں راولپنڈی سازش کیس کا بہت چرچا تھا۔ انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر سازش کیس کے تمام ملزمان کو علیحدہ علیحدہ کر کے ملک کی مختلف جیلوں میں بند کر دیا تھا۔ فیض احمد فیض بھی اسی جرم کی پاداش میں اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید تنہائی کاٹ رہے تھے۔ ان کی قید تنہائی کا یہ عالم تھا کہ اشتراکیت کا بھوت کی ہیبت کے سبب جیل انتظامیہ تو دور کی بات عام قیدی بھی فیض صاحب سے دعا سلام سے بھی گریزاں تھے۔
اس صورت حال میں ایک دن شام کو معمول کے مطابق جیل کی گاڑی کچھ نئے قیدیوں کو لیے جیل پہنچی۔ جیل ڈیوڑھی میں جب نئے قیدیوں کو قطار میں کھڑا کر کے باآواز بلند ملاحظہ کی رسم یا کارروائی شروع ہوئی جس میں نام، ولدیت، قوم اور جرم کے متعلق قیدیوں سے معلومات لی جاتی ہیں۔ اس مرحلے میں اکثر اوقات استقبالیہ کے طور پر مار پیٹ یا عرف عام ”ٹھاپوں“ کا استعمال بھی معمول کی بات تصور کی جاتی ہے۔ چنانچہ قیدیوں نے باری باری میکانکی انداز میں اپنے کوائف تیزی سے بتانے شروع کیے۔ جرم کی مد میں کسی نے قتل، کسی نے چوری، اقدام قتل وغیرہ کو باآواز بلند بیان کرنا شروع کیا تو اسی اثناء میں ”پنڈی سازش کیس“ کی صدا گونجی۔ جیل انتظامیہ جو پہلے ہی فیض صاحب سے خوفزدہ تھی کے کان کھڑے ہو گئے۔
معاملے کی نزاکت کے پیش نظر قیدی کی مثل کو کھولا گیا تو ایف آئی آر میں درج دفعات بجرم چار سو بیسی اور جیب تراشی وغیرہ شامل تھیں۔ ٹھاپوں کی نوبت آنے سے پہلے ہی قیدی نے بڑی لجاجت سے بیان کرنا شروع کیا کہ چونکہ ہمارا سماج طبقاتی ہے اس لیے بڑے لوگوں پر تو بغاوت کے کیس بنائے گئے اور فدوی چونکہ ایک غریب آدمی ہے اس لیے پولیس نے اس پر جیب تراشی کا کیس ڈال دیا ہے۔ اگر کسی کو میرے بیان پر شک ہے تو بیشک فیض صاحب سے پوچھ لیا جائے۔ اس ضمن میں جیل انتظامیہ نے فوری طور پر فیض صاحب سے رجوع کیا۔
فیض صاحب جو پہلے ہی قید تنہائی سے نہایت اکتائے ہوتے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ ان کی بے ضرر گواہی سے اگر کسی غریب آدمی کی عزت بچ جائے تو کیا حرج ہے۔ لہذا فیض صاحب نے فراخ دلی سے قیدی کے حق میں بیان جاری کر دیا۔ اس کے بعد گویا منظر ہی بدل گیا اخلاقی جرم کا قیدی سیاسی قیدی میں تبدیل ہو گیا اور فیض صاحب کو بھی قید تنہائی میں ساتھ مل گیا۔
قیدی روزانہ فیض صاحب کے پاؤں، گھٹنے دباتا، کبھی کبھی ان کے سر کی تیل مالش بھی کرتا اور ان کے تمباکو اور کھانے پینے کا خیال بھی رکھتا۔ گھنٹوں فیض صاحب کے پاؤں میں بیٹھ کر ان سے انقلابی شاعری سنتا اور جیل کی راہداریوں میں انقلابی اشعار کو با آواز بلند گنگنایا کرتا۔ رفتہ رفتہ جیل انتظامیہ اور باقی کے قیدیوں کو بھی موصوف کے انقلابی دعوؤں کی صداقت پر یقین ہو گیا۔
حسب معمول ایک دن قیدی فیض صاحب کے پاؤں میں بیٹھا انقلابی اشعار کی فرمائش پر فرمائش کر رہا تھا کہ ایک جیل اہلکار ایک تحریر شدہ کاغذی صفحہ لہراتے ہوئے آن موجود ہوا۔ تو قیدی نے دیکھتے ہی اونچی آواز میں کہا ”لاؤ تو قتل نامہ میرا“ ۔ فیض صاحب نے اہلکار سے صفحہ لیا پڑھ کر دھیرے سے مسکرائے اور قیدی کو شفقت سے کہا کہ بیٹا آپ کی چھ مہینے پوری ہو گئی ہے اور خیر سے جاؤ اور آزادی کے مزے کرو۔


