سانحۂ جڑانوالہ
معاشرتی ناہمواریاں تو ملک کے طول و عرض میں نمایاں ہیں لوگ مصنوعی عظمت نسل و رنگ میں مبتلا ہیں اور کوئی بات دلیل سے سننے سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم نظر آتے ہیں مگر جس قدر یہ تقسیم ضلع فیصل آباد میں نظر آتی ہے اس کے مخصوص نتائج بھی انتہائی خونخوار ہیں۔ آئے روز دولت و حشمت کی کریہۂ المنظر مناظر کی مصنوعی چکاچوند اور دوسری جانب محرومیوں کے ستائے نوجوان نشے کے حصول کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کے لئے ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیں۔
مذہبی ٹھیکیداروں کو ایسا ماحول بہت سازگار لگتا ہے کیونکہ نفرتوں کی فصل ایسے ہی کڑوے کسیلے ماحول میں خوب پروان چڑھتی ہے۔ اب ہمارے ہاں عدالتی نظام کی کارکردگی کی بناء لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا اور وہ خود ہی مدعی اور خود ہی منصف بن کر فیصلہ سازی بھی کرنا شروع ہو گئے ہیں یہی اس وقت کا سب سے بڑا روگ اور لمحۂ فکریہ ہے۔ حکومت پنجاب سے ایک غلطی ہوئی کہ جڑانوالہ میں ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر شوکت مسیح تعینات کر دیا جو اپنی سرکاری فرائض کی صحیح کارکردگی کی بناء کچھ حلقوں میں مقبولیت حاصل کر رہا تھا مگر شہر کے اندر ناجائز بھتہ خوروں اور قابضین کا مافیا اس کی یہ کامیابی برداشت نہ کر سکا اب کے سدباب کے لئے جب کوئی اور حربہ کامیاب نہ ہوا تو پھر ایک سازش کے تحت ایک حکمت عملی طے کی گئی اور یوں صدیوں سے بھائی بندی، دوستی اور محبت و خلوص کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
مساجد سے اعلانات کر کے جذبات کو مہمیز دی گئی اور آن کی آن میں لوگ اکٹھا ہونا شروع ہو گئے۔ اے سی کے دفاتر و گھر کا محاصرہ کر لیا گیا جو بمشکل جان بچا کر پتلی گلی سے نکل گیا مگر چرچ اور مقدس کتب کی وہ پامالی کی گئی کہ چند لمحوں میں خبر جنگل کی آگ کی مانند پوری کائنات میں پھیل گئی۔ سوشل میڈیا کے دور میں ماحول کی لائیو نشریات سے سب نے ان لوگوں کے چہرے بھی پہچان لئے جو اس غارتگری میں پیش پیش تھے۔ اس موقعہ پر پولیس نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
بلوائیوں اور فسادیوں کا ہاتھ بزور بازو روکنے کے بجائے عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق ہلہ شیری کرتے رہے۔ بعد از خرابیٔ بسیار رینجرز کی دو کمپنیاں طلب کی گئیں مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ کیا یہ سب کسی دینی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ ہمارا یقین کامل ہے کہ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ جو ہوا محض مقامی جذبات کا اظہار تھا جو قطعاً ناجائز تھا لیکن سب جہالت کی بدترین شکل ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کرنا انتہائی لازم ہے۔
معاشرہ میں عدم برداشت بہت عام ہو گیا ہے اور اب کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی سے معاشرے کا تارو پود ریختہ ریختہ ہو سکتا ہے۔ باہمی سر پھٹول سے ہی معاشرے اور ممالک تباہی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرتے ہیں اور سدھار کے لئے کئی صدیوں کا طویل سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ علمائے حق کو اپنی آواز ملکی ہمدردوں کے ساتھ ملانا ہوگی اور اپنے معتقدین کو سچ بتانا ہو گا۔


