خواب میں خواب

ایک دن ٹھیک دوپہر کو میری طبیعت نے عجیب انگڑائی لی اور خلاف معمول تھکاوٹ کا بہانہ بنا کر مجھے کمبل اوڑھ کر سونے پر مجبور کر دیا۔ بھلا کون طبیعت کا پجاری اپنی طبیعت کے خلاف جا سکتا ہے جو میں جاؤں اور اٹھ کر اپنے روٹین کے کام کاج میں لگ جاؤں۔ بہرحال نہ جانے کب نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا معلوم تک نہ پڑا۔ دوران نیند کچھ بے ربط خوابوں نے مجھے پریشان کیے رکھا۔ لیکن اس کے بعد ایک خواب میری نیند پر ایسی سوار ہو گئی کہ کوئی دوسری بے ربط خواب کا گزر پھر ادھر سے نہ ہوئی۔
وہ خواب کچھ یوں ہے کہ قائد اعظم دریائے شوق کے کنارے ساحل پر پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر پاکستان کا نقشہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی طوفان اور آندھی نقشے کا نام و نشان مٹا کر رکھ دیتے ہیں تو کبھی دریا کی تیز لہریں نقشے کی اینٹ سے اینٹ بجا کر واپس چلی جاتیں تو کبھی یہ ڈر قائد کے ہاتھ کانپنے کا سبب بنتے کہ کہیں اوپر پہاڑ سے کوئی بڑا پتھر نیچے نہ آ گرے اور نقشے کا کام تمام کر دے۔ بہر صورت آخرکار یہ نقشہ مکمل ہو گیا۔
اور میں نے اس نقشے پر اپنی نظریں جما کر دیکھنا شروع کر دیا اچانک مجھے خیال آیا کہ قائد نے تو اس میں سبز رنگ بھرا ہی نہیں ہے۔ میں نے نظریں اٹھا کر قائد اعظم کی طرف دیکھا تو وہ وہاں سے غائب ہو گئے تھے۔ میں پریشان ہو کر ادھر ادھر دیکھتا رہا اور من ہی من میں سوچنے لگا کہ قائد نے نقشہ ادھورا چھوڑ کے کہاں تشریف لے گئے۔ اتنے میں لیاقت علی خان وہاں آئے اور نقشے میں رنگ بھرنے کی کوشش کی مگر وہ سبز رنگ بھرنے میں ناکام ہو گئے۔
اسی طرح خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرہ، ملک فیروز خان نون، ذوالفقارعلی بھٹو اور نواز شریف وغیرہ سب باری باری آتے گئے لیکن کوئی بھی سبز رنگ بھرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اخر کار عمران خان وہاں پر آ گئے اور کہنے لگے گھبرانا نہیں ہے میں سبز رنگ بھر دوں گا اور کینوس ہاتھ میں لے کر بھر پور کوشش کی لیکن وہ بھی ناکام ہو کر چلے گئے۔ پھر مجھے خیال آیا کیوں نہ قائد اعظم کو ہی عرض کر کے نقشے میں سبز رنگ بھروایا جائے۔ اسی سوچ کو لے کر میں قائد کی تلاش میں دور دور تک نکل پڑا لیکن کہیں بھی قائد نظر نہیں آیا۔ میں تھک ہار کر سو گیا تو قائد اعظم خواب میں آ کر میرے کان میں کہتے ہیں بیٹا یہ میری ذمہ داری نہیں ہے۔

